کووڈ 19 سے بچاؤ کیلئے حاملہ خواتین کی ویکسینیشن کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

حمل کے دوران کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کرانے والی خواتین اس طریقے سے اپنے نومولود بچوں کو بھی بیماری سے تحفظ فراہم کرسکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق پیدائش کے موقع پر 36 نومولود بچوں (100 فیصد) میں بیماری سے تحفظ فراہم کرنے وای اینٹی باڈیز ویکسینیشن کرانے والی ماؤں سے منتقل ہوئیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ حمل کے دوسری یا تیسری سہ ماہی کے دوران ویکسینیشن کرانے والی خواتین کے خون میں اینٹی باڈیز کی بلند ترین شرح کو دریافت کیا گیا، جس سے بچوں کو زندگی کے اولین مہینوں میں کووڈ 19 سے تحفظ ملا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر بچوں کی پیدائش اینٹی باڈیز کے ساتھ ہو تو اس سے زندگی کے ان ایام میں انہیں تحفظ ملتا ہے جب وہ سب سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔

تحقیق میں قدرتی بیماری سے بننے والی اینٹی باڈیز کو ویکسین سے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز سے الگ کرکے شناخت کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی گئی اور معلوم ہوا کہ بیماری سے بننے والی اینٹی باڈیز بہت زیادہ تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔

اسی تحقیقی ٹیم نے ماضی میں ایسے ٹھوس شواہد دریافت کیے تھے جن کے مطابق دوران حمل ایم آر این اے ویکسینز ثابت ہوتی ہیں۔

16 اگست کو جریدے امریکن جرنل آف اوبیسٹرک اینڈ گائنالوجی میٹرنل فیٹ میڈیسین میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ویکسینز کے استعمال سے حمل ، بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

محققین کا کہنا تھا کہ نئی تحقیق سے ان وجوہات کی فہرست میں اضافہ ہوا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دوران حمل ویکسینیشن کرانا کیوں ضروری ہے اس سے نہ صرف خواتین بلکہ ان کے نومولود بچوں کو بھی تحفظ ملتا ہے۔

Back to top button