کپتان الٹا اپنی ہی محسن اسٹیبلشمنٹ کے گلے کیوں پڑ گئے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صورت میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ جو تبدیلی لائی تھی وہ اب اسٹیبلشمنٹ کے اپنے گلے پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی پر وزیر اعظم نے عمران خان نے جو بلاجواز تنازعہ کھڑا کیا اس کی وجہ سے یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ اسٹیبلشمینٹ کی لائی تبدیلی اسٹیبلشمنٹ کے گلے پڑگئی۔ لہٰذا اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟
اپنی تازہ تحریر میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان کا دور ان کے صحافتی کیرئیر کا مشکل ترین دور ثابت ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بطور صحافی میری کوشش تھی کہ میں عمران خان کو دیگر سیاستدانوں کی طرح اصل روپ میں عوام کے سامنے لائوں اور پھر فیصلہ ان پر چھوڑ دوں ۔ میرا ارادہ تھا کہ جس دن عوام ان کو اسی طرح جان لیں گے جس طرح نواز شریف اور آصف زرداری کو جانتے ہیں تو میں ان پر تنقید کرنا چھوڑ دوں گا لیکن افسوس کہ میں اس میں کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ ہر ادارے کو ان کے حق میں ایسے استعمال کیا گیا کہ ہم جیسے چند لوگوں کی آواز نقارخانے میں طوطی کی صدا ثابت ہوئی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ اقتدار میں آنے کےبعد سے ان کی حقیقت بھی دیگر سیاستدانوں کی طرح عوام پر آآکار ہو چکی ہے۔
بقول صافی، عمران خان کو ان کے حامی تو کیا بعض مخالفین بھی سیدھا سادہ انسان سمجھتے تھے لیکن میں ان کے سیاست میں آنے کے دنوں سے ہی نہایت ذہین اور شاطر انسان سمجھتا ہوں۔ لیکن یاد رہے کہ ذہین وہ صرف اپنی ذات کے لیے ہیں کیوں کہ اپنے متعلق فیصلے دل کی بجائے عقل کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ کرکٹ ورلڈ کپ میں پوری ٹیم کی جیت کو زرف اپنی جیت بنا دیا۔ پھر ورلڈ کپ کی جیت کو انہوں نے شوکت خانم ہسپتال اور پھر اس ہسپتال کو سیاسی جماعت بنانے کے لیے استعمال کیا۔ میری اس رائے کی پختگی کے پیچھے ایک نہیں سینکڑوں واقعات ہیں لیکن وہ ان کی ذاتی زندگی سے متعلق ہیں اور میں ذاتی معاملات کا میڈیا میں کبھی ذکر نہیں کرتا۔ یوں میری یہ سوچ بن گئی تھی کہ اگر ایک شخص دل کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتا تو وہ کیوں کر ملک کا درد دل میں سمو سکتا ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ در حقیقت عمران اور پی ٹی آئی کا دور میری صحافتی زندگی کا سب سے مشکل اور صبر آزما دور ہے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمران ایک سلیبرٹی اور سب سے زیادہ ریٹنگ دینے والے لیڈر تھے۔ ملک کے لاکھوں نوجوان ان کو مسیحا سمجھ رہے تھے۔ لہذا ایک ایسا شخص جو سب سے زیادہ ریٹنگ دیتا ہوں وہ آپ کے ٹی وی پروگرام میں آنے سے انکاری ہو جائے تو مسئلہ تو ہوتا ہے، لیکن میں نے یہ قیمت بھی ادا کی۔ دوسری جانب میں 2011 سے ان کے چاہنے والوں کی گالیاں بھی برداشت کررہا ہوں ۔ پی ٹی آئی نے برطانیہ، امریکہ اور سنگاپور میں سوشل میڈیا کے مختلف سیٹ اپ بنا رکھے تھے جو مسلسل میری کردار کشی میں لگے رہے۔ ملک کے اندر بھی اسد عمر، عارف علوی، جہانگیر ترین، علیم خان، عثمان ڈار اور خود عمران کے الگ الگ سیٹ اپ تھے اور ان سب کی نظر عنایت اس عاجز پر رہی۔ پھر حکومت ہاتھ میں آنے کے بعد حکومتی وسائل بھی اس مقصد کے لیے استعمال ہونے لگے ۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ چونکہ اسٹیبلشمنٹ عمران کی حمایت کرنے والے میڈیا پرسنز کی سرپرستی کرتی رہی، لہذا ہم جیسے لوگ اس کے ناپسندیدہ رہے۔ میرے لیے ایک اور بڑی آزمائش یہ تھی کہ ہمارے طبقے سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر سیاسی دوستوں کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے تھا۔ عمران کے دبائو پر کئی ایک نے مجھے چھوڑ دیا اور کچھ کو مجھے الوداع کہنا پڑا کیونکہ دوسرے سیاسی لیڈروں کے برعکس عمران خان ذاتی اور سیاسی تعلق کو الگ الگ رکھنے کے قائل نہیں۔ بہر حال ہم جیسے قلم کے مزدوروں کی چیخ و پکار کے باوجود عدلیہ، میڈیا، نیب اور الیکشن کمیشن کو بری طرح استعمال کرکے عمران کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ ان کی وزارت عظمیٰ پاکستان کے لیے بڑی آزمائش ثابت ہوئی لیکن میں عمران خان کا مشکور ہوں کہ اپنی طرز حکمرانی کے ذریعے انہوں نے مجھے سرخرو کیا۔ تاہم اد سرخروئی کے باوجود میں خوش نہیں کیونکہ یہ تبدیلی کم و بیش ہر حوالے سے الٹی پڑ گئی ہے۔ عمران خان کو اس امید کے ساتھ وزیراعظم بنایا گیا تھا کہ وہ ملکی معیشت کو بہتر کریں گے لیکن جی ڈی پی گروتھ جو ان کے وزیراعظم بننے سے قبل پانچ فی صد سالانہ سے زیادہ تھی، ایک فی صد پر آگئی۔ 2019-20کے مالی سال کے دوران یہ شرح افغانستان سے بھی کم رہی جبکہ اس سال مہنگائی کی شرح افغانستان سے زیادہ رہی ۔
توقع یہ تھی کہ وہ پاکستان کو سنگاپور یا ملائیشیا بنا دیں گے لیکن معاشی لحاظ سے الٹا انہوں نے افغانستان بنا دیا۔ امید لگائی گئی تھی کہ وہ خارجہ محاذ پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیں گے لیکن معاملہ الٹ ہوگیا ۔ چین کو ناراض کیا لیکن امریکہ کو بھی اپنا ہمنوا نہ بنا سکے۔ سعودی عرب کو ناراض کیا لیکن ترکی و ایران کو بھی پوری طرح اپنا نہ بناسکے ۔
سلیم صافی کے مطابق، عمران کو اس امید کے ساتھ وزیراعظم بنایا گیا تھا کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کی سیاست کا خاتمہ کردیں گے لیکن انہوں نے اپنی نا اہلی اور ناکامی سے ان دونوں کے گناہ بخشوا دیے اور ضمنی انتخابات کے نتائج نے ثابت کردیا کہ عمران نے ان کی سیاست کو ختم کرنے کی بجائے الٹا زندہ کردیا ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ عمران قوم کو متحد کریں گے لیکن ان کے دور میں ملکی سیاست حد درجہ نفرت کا شکار ہو گئی۔ توقع تھی کہ وہ میڈیا کو مضبوط بنائیں گے لیکن ان کے دور میں میڈیا کو معاشی لحاظ سے برباد کرنے کے ساتھ ساتھ بد ترین سنسرشپ سے عوام کی نظروں میں بے وقعت کردیا گیا ہے۔ بقول صافی تبدیلی کا منصوبہ بنا کر عمران کو برسر اقتدار لانے والوں کی توقع کے برعکس سب الٹا ہو گیا ہے لہذا مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ تبدیلی الٹی پڑ چکی ہے۔ غریب عوام کو تو پہلے ہی احساس ہو چکا تھا کہ تبدیلی الٹی بلکہ ان کے گلے پڑ چکی ہے لیکن دی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفیکیشن کے معاملے پر ایک بلاجواز تنازعے کی وجہ سے اب یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ یہ تبدیلی اسٹیبلشمنٹ کے بھی گلے پڑ چکی ہے۔ لہٰذا آگے آگے دیکھئے اب ہوتا ہے کیا؟
