ٹی ایل پی اسٹیبلشمنٹ کے نئے پاکستان کا اصل چہرہ ہے


دفاعی موضوعات پر لکھنے والی معروف لکھاری ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا ہے کہ تحریک لبیک اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بنائے جانے والے نئے پاکستان کا اصل چہرہ ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی پر عائد پابندی کا خاتمہ اور اسے مرکزی دھارے کی سیاست میں واپس لانے کا فیصلہ انہی لوگوں کا ہے جو اس ملک کو چلا رہے ہیں اور ہر لمحہ اگلے سیٹ اپ کے نقشے بھی بناتے رہتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری اور اس کا مزار بنانے والے علامہ خادم رضوی کو بھی ہیرو بنا دیا۔ اس لیے ٹی ایل پی کے سامنے حکومتی سرنڈر اور اسکے سربراہ کی رہائی کسی کیلئے حیرانگی کی بات نہیں ہونی چاہئیے۔
نیا دور کے ٹی وی پروگرام ”خبر سے آگے” میں گفتگو کرتے عائشہ صدیقہ نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی نئے پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہے۔ اس وقت پاکستان کی نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ اب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری اور اسکا مزار بنانے والے علامہ خادم حسین رضوی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے نئے ہیروز ہیں اور انہیں ایک ایجنڈے کے تحت پاکستانیوں کا ہیرو بنانے کی سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ دراصل ٹی ایل پی ان لوگوں کی ضرورت ہے جو کہ ملک کا نظام سیاست چلا رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب اور سندھ میں اس شدت پسند مذہبی جماعت کو مسلسل آگے لاتے اور ریاستی عتاب سے بچاتے ہوئے طاقت کا ایک نیا نقشہ کھینچا جا رہا ہے۔ لہٰذا خدشہ ہے کہ ٹی ایل پی پاکستانی سیاست میں ایک اہم کردار بننے جا رہی ہے چونکہ صوبہ پنجاب کے ہر حلقے میں ان کے بڑی تعداد میں ووٹرز ہیں۔ اس صورت حال میں جو بھی جماعت اگلے الیکشن میں میدان میں اترے گی، وہ یا تو تحریک لبیک سے اتحاد کرے گی یا پھر اسکا مقابلہ کرے گی۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا کہ معاشی اور معاشرتی طور پر اس وقت جو نیا پاکستان جنم لے رہا ہے، تحریک لبیک اس کی عکاسی کر رہی ہے۔ پاکستان میں سنی بریلوی مکتبہ فکر کے مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے اور لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ دینے کے بعد ختم نبوت اور ناموس رسالت کے ایشو پر کوئی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا ریاستی ادارہ کسی قسم کی سودے بازی کا سوچ بھی نہیں سکے گا۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ پاکستان میں ٹی ایل پی کا پھیلائو مزید زیادہ ہوگا کیونکہ ہماری سول سوسائٹی فوت ہو چکی ہے اور اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ماضی میں ہمارے معاشرے میں جو لبرل عناصر رجعت پسندوں کے خلاف مزاحمت کرتے دکھائی دیتے تھے، اب اس کا بھی کوئی وجود باقی نہیں رہا۔ اب ہمارے معاشرے میں صرف تحریک لبیک اور اس جیسے دوسرے شدت پسند عناصر باقی بچے ہیں جو کہ سڑکوں پر بذریعہ طاقت حکومتوں کو شکست دیتے نظر آتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ وہ اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے کہ اگلے الیکشن میں تحریک لبیک دوبارہ ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر ابھر پائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر اپنی طاقت دکھانا اور الیکشن میں ووٹ حاصل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں اور ویسے بھی میرے خیال میں علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد تحریک لبیک کی اب وہ پوزیشن نہیں رہ گئی جو کہ 2018 کے الیکشن میں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خادم رضوی اور ان کے بیٹے سعد رضوی کے قد کاٹھ میں زمین آسمان کا فرق ہے لہٰذا اگلے الیکشن میں تحریک لبیک ویسے ووٹ حاصل نہیں کر پائے گی جیسے کے اسنے 2018 کے الیکشن میں حاصل کیے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے تشدد کے پے درپے واقعات نے عوام میں اس کا تاثر خراب کیا ہے اور اب اس کی سٹیم نکلنا شروع ہو گئی ہے جسکا اندازہ اگلے الیکشن میں ہو جائے گا۔

Back to top button