کپتان حکومت نے کس خوف کے تحت الیکشن کمشنر سے استعفیٰ مانگا؟


کپتان حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کے استعفی دینے کے مطالبے کی بڑی وجہ تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس ہے جسے پچھلے چھ برسوں سے لٹکایا جارہا تھا اور اب یہ امید کی جا رہی تھی کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اس کا فیصلہ کر دیں گے۔
یاد رہے کہ پچھلے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار ایس اے رضا کے ساتھ بھی کپتان حکومت کا میچ فارن فنڈنگ کیس پر ہی پڑا تھا اور حکومت کو یہ خوف تھا کہ کہیں وہ اپنے عہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے اس کیس کا فیصلہ نہ کر دیں۔ جسٹس سردار رضا 5 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے تھے جس کے بعد راجہ سکندر سلطان نے 28 جنوری 2020 کو بطور چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
تاہم پچھلے پندرہ ماہ کے دوران بطور چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان بھی اس کیس کا فیصلہ کرنے میں اس لیے ناکام رہے ہیں کہ ان کی جانب سے بنائی جانے والی سکروٹنی کمیٹی تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کے حوالے سے اپنا کام ختم کرنے پر آمادہ ہی دکھائی نہیں دیتی جس کی بنیادی وجہ حکومتی دباؤ ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب راجہ سکندر سلطان نے اسکروٹنی کمیٹی کو اپنا کام ختم کرنے کے حوالے سے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا جس سے حکومت کو یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید الیکشن کمیشن اس کیس کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں اکبر ایس بابر کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات کی بنیاد پر تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ الزامات ثابت ہونے کے واضح امکانات ہیں اور اگر ایسا ہو جائے تو نہ صرف تحریک انصاف پر پابندی لگ جائے گی بلکہ وزیر اعظم عمران خان بھی نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں جس سے ان کی حکومت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ مانگ کر ان کو متنازع کر دیا جائے۔
یاد رہے کہ ایک ریٹائرڈ آرمی میجر کے صاحبزادے راجہ سکندر سلطان پہلے ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں جنھیں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا اور وہ ماضی کے الیکشن کمشنر حضرات کی طرح حکومتی یا ریاستی دباؤ قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور موجودہ حکومت کے مابین اختلافات کا آغاز ڈسکہ کے ضمنی الیکشن سے ہوا جب انہوں نے اس حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا اور وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد جب سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کے تحت کروانے کا فیصلہ دیا تو ان پر حکومت کی جانب سے یہ دباؤ آیا کہ وہ بیلٹ پیپرز پر کوڈ لگائیں تاکہ ووٹر کی شناخت ہو سکے۔ تاہم انہوں نے انکار کر دیا جس کے بعد الیکشن کمیشن کو دوبارہ وزیراعظم کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ ادارہ ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دے رہا ہے۔
تاہم خاموش رہنے کی بجائے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی وزیراعظم کو منہ توڑ جواب دیا گیا اور ایک پریس ریلیز جاری کی گئی۔ کمیشن کا اس پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن آئینی اور آزاد ادارہ ہے، کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظرانداز یا تبدیل نہیں کر سکتے، اگر ہمارے فیصلوں پر کسی کو اعتراض ہے تو آئینی راستہ اختیار کریں۔‘ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ ایک ہی چھت تلے ہونے والے الیکشن میں سے جو جیت گئے وہ منظور اور جو ہار گئے وہ نا منظور۔‘ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’ہمیں کام کرنے دیں اور ملکی اداروں پرکیچڑ نہ اچھالیں۔‘ الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے بیان پر دکھ ہوا۔ آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن پوری قوم نے دیکھا یہی آئین کی منشا تھی، الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں قانون کی پاسبانی ہے، اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ الیکشن کمیشن کی نہیں حکومت کی کمزوری ہو گی۔‘ الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ ’اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آ کر بات کریں، آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں۔ ہمیں کام کرنے دیں، کچھ تو احساس کریں۔ اس پریس کے جاری ہونے کے بعد حکومت اور الیکشن کمشنر میں اختلافات شدید ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ راجہ سکندر سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی چیف الیکشن کمشنر آئے ہیں ان کا تعلق عدلیہ سے رہا ہے اور سپریم کورٹ کا کوئی حاضر سروس جج ہی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ دایاں نبھاتا تھا۔ 22ویں آئینی ترمیم میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تعیناتی کے لیے صرف عدلیہ کے ریٹائرڈ ججز کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ریٹائرڈ بیورو کریٹس کو بھی ان اہم عہدوں پر تعینات کرنے کی شق منطور کی گئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سکندر سلطان راجہ کا نام حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے تین ناموں میں شامل تھا۔ الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد پر حزب مخالف کی جانب سے اعتراض لگنے کے بعد سکندر سلطان راجہ کا نام شامل کیا گیا۔ حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے جو تین نام دیے گئے تھے ان میں سے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے نام کو حتمی تصور کیا جا رہا تھا تاہم ان کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔
جہاں انکی تقرری کے وقت کچھ حلقے چیف الیکشن کمشنر کو حکومت کے قریب سمجھتے تھے وہیں کئی لوگ ان کو مسلم لیگ نواز کے قریب بھی تصور کرتے تھے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نواز دور حکومت میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ کے سُسر سعید مہدی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ ان کے ایک بھائی فخر وصال سلطان راجہ پولیس سروس میں ہیں اور راولپنڈی میں ریجنل پولیس افسر کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکے ہیں جبکہ ان کے ایک برادرِ نبستی عامر علی احمد اسلام آباد میں چیف کمشنر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
سکندر سلطان راجہ کا شمار ملک کے مضبوط اور طاقتور بیوروکریٹس میں ہوتا تھا جو دباؤ نہ لینے اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے جانے جاتے تھے اور انکی یہی صفت حکومت کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کرنے کی وجہ بن گئی ہے۔
راجہ سکندر سلطان کا تعلق ضلع سرگودھا کے علاقے بھیرہ سے ہے اور ان کے والد پاک فوج میں میجر کے رینک پر فائز رہ چکے ہیں۔ راجہ کی بیگم رباب سکندر بھی ایف بی آر ڈویژن میں 20 گریڈ کی افسر ہیں اور کسٹم سروس میں ڈائریکٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ سکندر سلطان راجہ وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری اور طاقتور بیورو کریٹ سمجھے جانے والے فواد حسن فواد کے بیچ میٹ رہ چکے ہیں۔
انہوں نے 1989 میں بطور اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد  ملازمت کا آغاز کیا، بطور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی فرائض سر انجام دیے۔اس کے علاوہ سیکرٹری پٹرولیم اور سیکرٹری ریلویز کے عہدوں پر بھی تعینات رہے۔  وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری کے اہم عہدے  پر بھی کام کر چکے ہیں۔
وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اور پاسپورٹ بھی تعینات رہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دور میں وہ چیئرمین پاکستان ریلویز اور سیکرٹری ریلویز کے طور پر دسمبر 2019 تک تعینات رہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ ایک طرف لیکن ان کی اینی معیاد پانچ برس کی ہے جس سے پہلے انہیں برطرف نہیں کیا جاسکتا۔
سکندر سلطان راجہ اگر اپنے عہدے پر برقرار رہے تو 2023 میں ہونے والی عام انتخابات انہی کی زیر نگرانی منعقد ہوں گے جو کہ موجودہ حکومت کے لیے ناقابل قبول لگتا یے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ مانگنے والی حکومت ان کو ان کے عہدے سے ہٹانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button