کپتان حکومت کی تین برس کی ناکام ترین خارجہ پالیسی

تحریکِ انصاف حکومت اپنے اقتدار کے چوتھے برس میں داخل ہو رہی ہے لیکن اسکی تین برس کی کنفیوژڈ خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان کو آج کئی سنجیدہ داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان تین برسوں میں پاکستان کے اپنے پڑوسی ملکوں ایران، افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدگی کا شکار رہے۔ امریکہ کے ساتھ تو پاکستان کے تعلقات پچھلی سات دہائیوں میں اتنی تنزلی کا شکار نہیں ہوئے تھے جتنا کہ اب ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے ساتھ سی پیک سمیت دوطرفہ تعلقات کے معاملات بھی اس وقت پیچیدہ صورتحال کا شکار ہیں۔
عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار آصف شاہد ڈان کے لیے اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد خطے میں شروع ہونے والی نئی کشمکش میں پاکستان اپنے سب سے بڑے ہمسائے چین کے مخالف اتحاد میں شامل ہوکر مفادات کا تحفظ یقینی نہیں بناسکتا لہذا امریکا کی نئی ترجیحات اور عزائم کی روشنی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معماروں اور نگہبانوں کو ایک راہ کا تعین کرنا پڑے گا۔ لیکن تاریخ کے اس نازک موڑ پر خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے ذمہ داروں کی طرف سے یکسوئی بھی نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے ملک کو خارجہ تعلقات کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
آصف شاہد کے بقول کشمیر کے مسئلے پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ثالثی کی توقع رکھنے والے اب 2 سال سے یومِ استحصال منا کر خود کو تسلی دے رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر یہ معاملہ اب سرد خانے کی نذر ہوچکا ہے۔جو بائیڈن کی صدارت کے آغاز کے ساتھ ہی واشنگٹن کی ترجیحات بدل چکی ہیں اور مشیر قومی سلامتی کے اپنے الفاظ میں امریکی صدر اب بات کرنے کے بھی روادار نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق اصل میں افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد پاکستان امریکا کی ترجیحی فہرست میں کہیں بہت نیچے جاچکا ہے اور وہ اب امریکا کے مقاصد میں کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ امریکی فوجی انخلا کو دنیا کی سپر پاور کی ناکامی تصور کیا جا رہا ہے لیکن اصل میں اب پاکستان کی پالیسی دنیا کے نشانے پر ہے، افغان امن عمل کو ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن چلتا بنا اور اب دنیا پاکستان سے کہہ رہی ہے کہ افغان طالبان کو مناؤ، پاکستان اب صفائیاں دینے پر مجبور ہے کہ اس کا طالبان پر زور نہیں چلتا۔ امریکا نے افغان امن عمل کی ذمہ داری مکمل طور پر افغانستان اور خطے کے ملکوں پر چھوڑ دی ہے اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے چین، بھارت، ایران اور ترکی بھی میدان میں کود چکے ہیں۔
ان حالات میں پاکستان ابھی تک سمت کا تعین نہیں کر پایا اور خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ افغان طالبان افغانستان پر مکمل قبضہ کر لیتے ہیں تب بھی پاکستان نقصان میں ہوگا اور اس کا اظہار خود حکومتی عہدیدار کرچکے ہیں کہ کالعدم تحریکِ طالبان بھی افغان طالبان کا حصہ ہے اور پاکستان کو اندرونی طور پر خطرات کا سامنا ہے۔ اگر افغان طالبان کابل پر کنٹرول کی جنگ میں ناکام ہوتے ہیں اور طویل خانہ جنگی افغانوں کا مقدر بنتی ہے تب بھی پاکستان خطے میں اس عدم استحکام کا متحمل نہیں ہے۔
آصف شاہد کے خیال میں امریکا کی نئی ترجیحات اور عزائم کی روشنی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معماروں اور نگہبانوں کو ایک راہ کا تعین کرنا پڑے گا لیکن تاریخ کے اس نازک موڑ پر خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے ذمہ داروں کی طرف سے یکسوئی بھی نظر نہیں آتی۔ ایک طرف وہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہشمند ہیں اور دوسری طرف وہ جمہوری سربراہ کانفرنس کے دعوت نامے کا بھی بے چینی کے ساتھ انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ صدر بائیڈن سے شکوے شکایات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ امریکا ایک بار پھر دنیا کو 2 کیمپوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔ امریکا کو بھی شاید یہی انتظار ہے کہ ہم اس پر پوزیشن واضح کریں، اس کے بعد ہی رابطے رکھنے یا نہ رکھنے کا معاملہ طے پائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو سمندروں سے گہرا، شہد سے میٹھا اور ہمالیہ سے بلند بتایا جاتا ہے لیکن اس دور میں اس شہد میں تلخی سی گھلی محسوس ہوتی ہے۔ اس تلخی کو چینی انجینیئروں پر حملے کے واقعے کے بعد شدت سے محسوس کیا گیا۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی تعلقات میں پہلے سی گرم جوشی نہ ہونے کے اندازے لگائے جا رہے تھے، اور گرمجوشی نہ ہونے کے اندازے سی پیک منصوبوں پر سست روی کی وجہ سے لگائے جاتے تھے لیکن داسو ہائیڈورپاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے انجینیئروں پر حملے کے بعد کھلا کہ کچھ بداعتمادی اس میں در آئی ہے۔
یاد رہے کہ چین نے سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے پاکستان کو الگ سیکیورٹی فورس بنانے کے لیے مالی مدد دی تھی اور چین کی پالیسی یہی رہی ہے کہ چین کے مفادات کے تحفظ کے لیے مقامی سیکیورٹی کی مدد اور ٹریننگ کی جائے اور براہِ راست مداخلت سے گریز کیا جائے۔ چین کی طرف سے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوج بھجوانا مغربی دنیا میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا جاسکتا ہے لیکن ایسے ردِعمل کے پیشِ نظر چین کی طرف سے ضبط کی بھی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں آصف شاہد کہتے ہیں کہ پاکستان چین کی مدد کے بدلے اپنے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنا سکتا ہے، اگر مستقبل قریب میں مغربی طاقتیں طالبان کو اقتدار پر قبضے سے روک لیتی ہیں اور سلامتی کونسل کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے کوئی نیا پلان آتا ہے تو پاکستان چین کی مدد سے کابل انتظامیہ، جو ان دنوں پاکستان دشمنی کے جذبات رکھتی ہے، کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے کام کرسکتا ہے۔ ابھی تک یوں لگتا ہے کہ پاکستان کے حکمران افغان طالبان کو اقتدار میں آتا دیکھ رہے ہیں اور اسی امکان کو سامنے رکھ کر کابل انتظامیہ کے ساتھ معاملات میں بہتری لانے کی کوشش نہیں کر رہے لیکن یہ پالیسی سودمند ہوگی، اس بات کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔ پاکستان طالبان کو اقتدار میں آتا شاید اس لیے بھی دیکھ رہا ہے کہ طالبان نہ صرف عسکری پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اشرف غنی کے استعفیٰ تک مذاکرات کو آگے بڑھانے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اگر منظرنامے میں بھارت کو بھی شامل کرلیا جائے تو طالبان کے ساتھ رسم و راہ بڑھا کر چین نے افغانستان میں بھارت کو بھی چیلنج کردیا ہے۔ بھارت کابل انتظامیہ کا حامی ہے اور طالبان کا سخت مخالف ہے۔ انتہاپسند بھارتی وزیرِاعظم مودی خطے میں بھارتی اثر و رسوخ بڑھانے اور پاکستان کو خطے میں تنہا کرنے درپے ہے، ایسے میں چین کے ساتھ افغان مسئلے پر مل کر کام کرنے سے پاکستان اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔ علاقائی کشمکش بھی افغانستان کے مستقبل پر اثر انداز ہوگی۔
پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات تاریخی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان تعلقات میں بھی یمن جنگ، مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ سعودی عرب بھارت کی بڑی مارکیٹ کو نظر انداز کرکے پاکستان کے پلڑے میں پورا وزن ڈالنے سے گریزاں ہے جبکہ پاکستان اپنی علاقائی مجبوریوں کی وجہ سے سعودی توقعات پر پورا نہیں اتر پایا۔ نئے عالمی منظرنامے میں سیکیورٹی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور اور محرک بنائے رکھنا اب کافی نہیں ہوگا اور پاکستان کو خارجہ پالیسی کی تشکیلِ نو کرنا پڑے گی۔ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی، امریکی ترجیحات بدل چکی ہیں، پاکستان کو خطے میں نئے رابطے اور مواقع تلاش کرنا ہوں گے۔ وسط ایشیائی ریاستوں، روس اور چین کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا ہوگا۔ بھارت بھی اب غیر جانبداری چھوڑ کر امریکی جمہوری اتحاد کی کشتی میں سوار ہونے کو ہے۔ امریکی جمہوری اتحاد میں پاکستان کی جگہ بنتی نظر نہیں آتی، ویسے بھی خطے میں شروع ہونے والی اس نئی کشمکش میں پاکستان اپنے سب سے بڑے ہمسائے چین کے مخالف اتحاد میں شامل ہوکر مفادات کا تحفظ یقینی نہیں بناسکتا لہذا آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے خارجہ پالسیی کے نگہبانوں کو ایک ایسی نئی راہ تعین کرنا ہوگا جس کی بدولت پاکستان حالات کے جبر کا شکار ہونے کی بجائے نئی صورتحال کا بینیفشری بن جائے ۔
