کپتان سفارتی معاملات پر غیر ضروری گفتگو سے گریز کریں

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کپتان حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ انھیں افغانستان اور امریکہ کے حوالے سے سفارت کاری کرتے ہوئے ہر لفظ ناپ تول کر اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے، ویسے بھی پیچیدہ سفارتی معاملات پر روزانہ آدھ درجن بیان جاری کرنا یقینا عقل مندی نہیں کیونکہ اس سے فائدہ نہیں بلکہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی اور اس پر عمل درآمد بھی کروانا ہوگا۔ خود ان کی اپنی گفتگو بھی نپی تلی ہونی چاہیے کیونکہ اس کا افغانستان اور پاکستان کے اندر اور باہر اثر پڑے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نسیم زہرہ کہتی ہیں پاکستان نے ماضی میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ، غلطیاں ضرور کیں لیکن ان کوتاہیوں کے باوجود افغانستان کے لوگوں کو سہارا بھی دیا ہے خصوصا لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے کر۔ لیکن انکا کہنا ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی بنانا آسان کام نہیں۔ ایک طرف ماضی کے معاملات پر افغانستان میں مار کھایا ہوا امریکہ تنقید سے باز نہیں آتا اور دوسری طرف بوکھلایا ہوا بھارت پاکستان مخالف پروپیگینڈا جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں پاکستان ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔ ان مشکلات کی عکاسی حالیہ چند دنوں کے دوران دو واقعات واضح طور پر کرتے ہیں۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ اسلام آباد پولیس نے حال ہی میں لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جس میں الزامات ہیں کہ مولانا نے اپنے مدرسے پر افغان طالبان کا جھنڈا لہرایا اور پولیس والوں کو دھمکیاں دیں پولیس کو دھمکیا دیں۔ وہ بستی ہیں کہ مولانا کا نام فورتھ شیڈول میں بھی ہے جس کے باوجود انہوں نے اسلام آباد پولیس کو طالبان کا نام لے کر دھمکی دی کہ ’وہ آپ کو ٹھیک کریں گے۔‘ پھر وہ پولیس کے خلاف بولے اور ان کو کوئی دوسری نوکری تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ معاملات یقینا ریاست کو دھمکی دینے اور قانون سے بغاوت کرنے کے مترادف ہیں۔ مولانا صاحب نے سرعام غیرقانونی بات کی اور پولیس کو بغاوت پر کھلے عام اکسایا۔
نسیم زہرہ کے مطابق سوال تو سب کے ذہنوں میں یہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کی مدد نتیجے میں مولانا اس بغاوت کی پٹی پڑھا رہے ہیں تو پھر آگے کن خطرات سے پاکستان کی حکومت کو اور ریاست کو دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسرے واقعے کا تعلق وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ بیان سے ہے۔ ایک ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے یہ کہا کہ ’میں نے طالبان سے رابطہ قائم کیا ہے تاکہ ان کو میں یہ سمجھا سکوں کہ وہ ایک نمائندہ حکومت بنایں۔‘ اس بیان کے نتیجے میں طالبان حکومت کے ایک اہلکار نے افغانستان کے ٹی وی طلوع نیوز کو یہ جواب دیا کہ کسی غیرملکی حکومت کو انہیں یہ رائے دینے کی ضرورت نہیں۔ ’ہم اس تنقید کو مانتے ہی نہیں۔ ہماری موجودہ حکومت نمائندہ حکومت ہی ہے۔‘ ظاہر ہے اس کا جواب اب پاکستان سے نہیں آنا چاہیے۔ ان دونوں واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کو ہر لفظ اور ہر قدم ناپ تول کر اور سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے۔ پیچیدہ معاملات پر روزانہ آدھے درجن بیان دینا یقینا عقل مندی نہیں۔ حکومتی معاملات سے جڑے ہوئے عہدیدار بارہا یہ کہتے ہیں کہ یہ طے ہوتا ہے کہ کم سے کم وزرا افغان پالیسی پر بات کریں گے لیکن ایسا عملی طور پر نہیں دکھتا۔ شاید توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں اہم معاملات پر آپس میں شاید مقابلہ بازی ہوتی ہے۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ الفاظ کی مقابلہ بازی کسی کو راس نہیں آتی۔ وزیر اعظم کو یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی اور اس پر عمل درآمد بھی کروانا ہوگا۔ خود ان کی اپنی بات بھی نپی تلی ہونی چاہیے اور یہ سوچ کر ادا ہونی چاہیے کہ اس کا افغانستان اور پاکستان کے اندر اور باہر اثر ہوگا۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان افغانستان کے مستقبل کے بارے میں یقینا صحیح خیالات رکھتے ہیں جن کا اظہار انہوں نے حال ہی میں ایس سی او کے دوشنبے میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں کیا۔ وزیر اعظم تواتر کے ساتھ افغانستان کے لیے اپنا چار نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہیں۔ نمبر ایک یہ کہ تمام خطے کا مستقبل افغانستان کے امن سے نتھی ہے، نمبر دو کہ 40 سال میں پہلی مرتبہ عمران خان امن کے امکانات دیکھ رہے ہیں لیکن اگر ایک نمائندہ حکومت تشکیل نہیں دی جائے گی تو یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔ نمبر تین یہ کہ افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کے تمام ممالک اور خاص طور پر بین الاقوامی ادارے اقتصادی اور انسانی ہمدردی کی امداد فوری طور پر مہیا کریں۔ اس وقت افغانستان قحط سالی کے ساتھ ساتھ اقتصادی طور پر بدحالی کا شکار ہے۔ اگست 31 کے انخلا کے بعد تقریبا تمام مغربی ممالک نے باہمی امداد افغانستان کو روک دی ہے۔ امریکہ نے بھی یہی قدم اٹھایا اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور امریکی فیڈرل ریزرو نے نہ صرف امداد روکی بلکہ افغانستان کے ڈالرز جو فیڈرل ریزرو بینک میں ہیں ان کو بھی منجمد کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی اقتصادی صورت حال میں عمران خان کا کہنا ہے کہ پناہ گزین بڑی تیزی سے ہمسایہ ملکوں میں جانا چاہیں گے۔
نسیم زہرہ کے مطابق آخری بات یہ کہ دہشت گردی افغانستان کو دوبارہ اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس کے خاتمے میں جہاں ہمسایہ ممالک اور بین الاقوامی قوتیں اور ادارے اپنا کردار ادا کریں اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی حکومت کا اس میں بہت کلیدی کردار ہے۔ اسی بنا پر پاکستان نے 15 اگست کے بعد ان ممالک کے درمیان سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس کی سطح پر باقاعدہ ایک اجتماعی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وزیر اعظم کی یہ سوچ اور پاکستان کی مربوط حکمت عملی جس کے اقتصادی، خارجی، عسکری اور فلاحی پہلو ہیں ان سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے۔ یہی وجہ ہے افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک اور وہ ممالک بھی جن کا کبھی بھی پاکستان کے ساتھ تناؤ ہے، ان سب نے پاکستان کی سوچ اور حکمت عملی کی تائید کرتے ہوئے اجتماعی طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ لہذا بہتر ہے کہ غیر ضروری بیان بازی سے گریز کیا جائے اور پس پردہ اپنے خارجی معاملات بہتر کرنے کی کوشش کی جائے۔
