کپتان نے آپریشن سے یوٹرن لے کر TLP سے معاہدہ کیوں کیا؟

https://youtu.be/Mri3811zyeE
وفاقی کابینہ اور قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ کو طاقت سے کچلنے کے فیصلے کے بعد کپتان حکومت نے تحریک لبیک کے سامنے ایک بار پھر گھنٹے کیوں ٹیک دیئے؟ یہ سوال ابھی تک ایک معمہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب تحریک لبیک کے معاملے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں جاری تھا تب بریلوی علما کرام کا ایک گروپ اچانک سامنے آیا جس نے پہلے راولپنڈی اور پھر اسلام آباد میں چند خفیہ ملاقاتیں کیں جس کے بعد ماحول اچانک تبدیل ہو گیا۔ انھی علما کا وفد مفتی منیب کی سربراہی میں بنی گالہ پہنچا اور ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ اس کالعدم گروہ کے ساتھ ’معنی خیز‘ مذاکرات میں تبدیل ہو گیا۔ شیخ رشید مذاکراتی کمیٹی سے اور فواد چوہدری فیصلہ سازی کے عمل سے ’باہر‘ ہو گئے اور مفی منیب اس سارے عمل میں ’اندر‘ ہو گئے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دباؤ ڈالا جو مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بنی گالہ میں عمران سے ملاقات کے بعد یہ وفد کہاں گیا، کس سے ملا، مذاکرات میں کون کون شامل رہا، اس دوران جو معاہدہ ہوا اس میں کیا یقین دہانیاں کروائی گئیں، یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ریاست کے سیاسی ستونوں کے بعض اہم ترین افراد کو بھی یہ تفصیل معلوم نہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریک لبیک کا لانگ مارچ شروع ہونے سے لے کر 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں حکومت کے ساتھ ہونے والے خفیہ معاہدے تک اس کالعدم تحریک کا احتجاجی مارچ مختلف نشیب و فراز سے گزرا۔ اس دوران اس تنظیم کے سرکردہ رہنماؤں اور ریاست کے اہم ترین عہدوں پر فائز بعض شخصیات کے مابین مذاکرات کے کئی دور ہوئے جس میں ان شخصیات نے مختلف اوقات میں مختلف قسم کے مؤقف اختیار کیے۔ ان 10 روز کے دوران کئی مرتبہ انکار ہوا، جو بعد میں اقرار میں بدلا اور کئی بار ایسا بھی ہوا کہ اس احتجاجی مظاہرے کے خلاف ریاستی ایکشن ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ حکومت، فوج، آئی ایس آئی، بعض اہم قومی رہنماؤں اور خود اس کالعدم تنظیم کے رہنماؤں نے ان مذاکرات کے دوران مختلف طرح کے مؤقف اختیار کیے اور ریاستی سطح پر متضاد نوعیت کے اشارے ملتے رہے اور فیصلے بدلتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کی قیادت نے لاہور سے نکلنے والے تحریک لبیک کے جلوس کو بزور طاقت روکنے پر اصرار کیا تھا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بارے میں ’اعلیٰ ترین سطح‘ سے تحریری حکم کے بغیر طاقت کے ’بھرپور‘ استعمال کی مخالفت کر دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ حالات تب زیادہ خراب ہوگئے جب حکومت نے تحریک لبیک کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا لیکن دوسری جانب لاہور میں لبیک سے نمٹنے کی ذمہ داری نبھانے والے انٹیلی جنس ادارے کے ریجنل افسران نے اسکی مخالفت شروع کر دی۔ اسی شش و پنج میں پہلی رات گزری اور اگلی صبح لبیک کا جلوس لاہور کی حدود سے باہر نکل گیا۔ اس دوران تشدد کے واقعات میں پولیس اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہو گئییں کیونکہ انہیں طاقت کے استعمال سے روکا جا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق معاملہ وزیرِ اعظم تک پہنچا جنھوں نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سے ٹیلی فون پر بات کی اور ہدایت کی کہ یہ جلوس اسلام آباد میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ اس مختصر حکم میں سیاسی حکمت عملی یا سمت کے تعین کا عنصر موجود نہیں تھا۔ ان دونوں رہنماؤں نے اگلے روز ملک سے باہر بھی جانا تھا لہٰذا اس مختصر حکم کو پنجاب حکومت کے حوالے کر کے وزیراعظم سعودی عرب اور وزیر داخلہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے دبئی روانہ ہو گئے۔
اس دوران تحریک لبیک کا مارچ رکاوٹیں توڑ کر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا رہا۔ اس دوران تشدد کے واقعات بڑھے بھی اور مزید پولیس والے مارے گئے تو وزیر اعظم نے وزیرِ داخلہ کو فوراً واپس پہنچنے اور ٹی ایل پی کے ساتھ ’انگیج‘ کرنے کا حکم دیا۔ شیخ رشید اسلام آباد پہنچے اور وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے ہمراہ وزیرِ اعلیٰ کے خصوصی طیارے میں لاہور روانہ ہو گئے۔ لاہور میں انھوں نے ٹی ایل پی کی شوریٰ کے بعض ارکان سے مذاکرات کیے جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ شیخ رشید نے اس دوران مختلف ریاستی اداروں کے حکام سے رابطے کیے اور انھیں بھی ان مذاکرات میں کردار ادا کرنے پر راضی کر لیا۔ ان رابطوں سے واقف شیخ رشید کے بعض قریبی ذرائع نے بتایا کہ اس موقع پر طے پایا کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سے براہ راست رابطہ کیا جائے۔ یہ حربہ کامیاب رہا اور ٹی ایل پی شوریٰ کے بعض ارکان کی موجودگی میں سعد رضوی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حکومت ان سے کچھ یقین دہانیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق ان میں سرِ فہرست یقین دہانی یہ تھی کہ جب تک حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان بات چیت جاری رہے گی ان کا احتجاجی مارچ جہاں ہے وہیں رکا رہے گا اور یہ کہ وہ اسلام آباد کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملانے والی شاہراہ جی ٹی روڈ کو کھول دیں گے۔ شیخ رشید نے بعد میں اپنے ایک قریبی ساتھی کو بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ٹی ایل پی کے صفِ اوّل کے رہنماؤں میں سب سے معقول اور لچک دار رویہ سعد رضوی نے اختیار کیا۔ شیخ رشید واپس اسلام آباد آ گئے اور سعد رضوی جیل واپس چلے گئے، لیکن جی ٹی روڈ پر حالات نہیں بدلے۔
وزیرِ اعظم سعودی عرب سے واپس اسلام آباد پہنچے اور اپنی جماعت کی کور کمیٹی سے ملاقات کی۔ شیخ رشید نے صورتحال پر بریفنگ دی جس کے بعد مشاورت کا سلسلہ شروع ہوا اور متعدد ارکان نے اپنی رائے ظاہر کی۔ ٹی ایل پی کی ’سٹریٹ پاور‘ کے ساتھ ساتھ اس کی مستقبل میں انتخابی مقبولیت پر بھی بات ہوئی۔
اس طویل اجلاس کی روداد سے واقف بعض ذرائع کہتے ہیں کہ انھوں نے پی ٹی آئی کے بہت کم ایسے اجلاس دیکھے ہیں جس میں اتنی واضح اور دلیرانہ بات چیت اور مؤقف سامنے آیا ہو۔بعض رہنماؤں نے اس معاملے کو صلح صفائی سے حل کرنے پر زور دیا جس میں شیخ رشید سرِ فہرست تھے مگر بڑی اکثریت سے یہ رائے مسترد ہوئی اور ٹی ایل پی کو ہر قیمت پر روکنے اور بغیر معاہدے کے گھر واپس بھیجنے پر اتفاق ہوا۔
اس اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وہ معروف جملہ کہا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ ’عسکریت پسند گروہ‘ کے طور پر نمٹا جائے گا۔ پنجاب کو رینجرز کے حوالے کیا گیا اور ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن کی تیاریاں شروع کر دی گئی۔اگلے روز وزیراعظم نے مسلح افواج اور انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان کو بنی گالہ میں مدعو کیا اور اس معاملے پر مشاورت شروع ہوئی۔ عمران خان نے مشاورت مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا جو ٹی ایل پی سے کسی بھی قسم کے معاہدے یا بات چیت کے خلاف تھا۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس کو واضح طور پر بتایا کہ وہ ریاست کی رٹ ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیں گے۔ اگلے روز وفاقی وزیرِ داخلہ سے کہا گیا کہ وہ پریس کانفرنس اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے یہ پیغام سخت ترین لہجے میں ٹی ایل پی تک پہنچائیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ اتوار کے روز شیخ رشید کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد وزیرِ اعظم نے انھیں فون کیا اور اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لہجے اور الفاظ میں وہ ’سختی‘ واضح نہیں تھی جس کی انھیں ہدایت کی گئی تھی۔ اگلے روز قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اور ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم نے لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا مؤقف دہرایا کہ ریاست کی رٹ ہو یا نہ ہو، یہ معاملہ قابل بحث یا قابل مذاکرات نہیں ہے، اس لیے ٹی ایل پی ریاستی رٹ تسلیم کرے، احتجاج ختم کرے اور اپنے گھروں کو جائے، ورنہ طاقت استعمال ہو گی۔
اس اجلاس میں یہ بات تسلیم کی گئی کہ اگر ٹی ایل پی ایسا کر لیتی ہے تو پھر اس کے ساتھ لاہور میں بات ہو سکتی ہے۔ متعلقہ اداروں کو آپریشن ’کلین اپ‘ کی تیاری کی ہدایت کے ساتھ یہ اجلاس ختم ہوا۔ لیکن جس وقت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا یہ اجلاس اسلام آباد میں جاری تھا، اس دوران بریلوی علما کرام کا ایک گروپ اچانک پنڈی سامنے آیا۔ اس گروپ کی راولپنڈی اور پھر اسلام آباد میں چند ’خفیہ ملاقاتیں‘ ہوئیں اور واقفان حال کے مطابق اسلام آباد کا ماحول اچانک تبدیل ہو گیا۔ انھی علما کا وفد مفتی منیب کی سربراہی میں بنی گالہ پہنچا اور ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ اس کالعدم گروہ کے ساتھ ’معنی خیز‘ مذاکرات میں تبدیل ہو گیا۔ شیخ رشید مذاکراتی کمیٹی سے اور فواد چوہدری فیصلہ سازی کے عمل سے ’باہر‘ ہو گئے اور مفی منیب اس سارے عمل میں ’اندر‘ ہو گئے۔ اس کے بعد مفتی منیب الرحمان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی اور معاملات طے پا گئے۔
رات گئے اس ملاقات کی ایک تصویر جاری ہوئی اور معاہدے کی کاپی تھامے ‘مذاکراتی ٹیم’ کے ایک رکن کا یہ جملہ سنائی دیا کہ جنرل باجوہ نے ان مذاکرات کی کامیابی میں ‘ہزار فیصد’ کردار ادا کیا ہے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے خفیہ مذاکرات پر عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور ٹی ایل پی کے ارکان کی رہائی کے علاوہ اس پر سے کالعدم کا ٹھپہ ہٹانے کے لیے کارروائی بھی جاری ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں وزیراعظم کی رائے اب کیا ہے؟ کیا وہ ذاتی طور پر اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں جو انھوں نے اپنی جماعت کی کور کمیٹی کے سامنے رکھا اور پھر فوجی سربراہان کے سامنے قطعی انداز میں اس پر ڈٹے رہے؟ اس سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم ہاؤس کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطہ رکھنے والے ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ یہ جاننے کے لیے آپ فواد چوہدری اور ان کی ’حرکات و سکنات‘ پر نظر رکھیں۔ یعنی فواد چوہدری وزیراعظم کی ایما پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ وزیر اعظم نے اس معاہدے کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر بادل ناخواستہ قبول کیا ہے۔

Back to top button