کپتان نے نیب آرڈیننس سے پیاروں کو NRO کیسے دیا؟

نیب ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے پیاروں کو این آر او دینے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اب چیئرمین کی نوکری حکومت کی جی حضوری سے مشروط کردی گئی ہے جس کے بعد وہ حکومتی شخصیات کے خلاف کارروائی کی جرات نہیں کر سکے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیب چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے پچھلے تین برسوں میں بھی حکومت کے کاسہ لیس کا کردار ادا کیا ہے لیکن اب ان کا مستقبل مکمل طور پر وزیراعظم کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور انصاف کی رہی سہی توقع بھی ختم ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا یہ طرز عمل دراصل حکومتی شخصیات کے لئے این آر او حاصل کرنے کے مترادف ہے۔
آزاد تجزیہ کاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد نیب اب حکومتِ کا ایک ماتحت ادارہ بن گیا ہے جو وزیراعظم کی مرضی کے خلاف کسی کا احتساب نہیں کر سکتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بار بار این آر او نہیں دوں گا کی گردان کرنے والے وزیر اعظم عمران خان نے تیسرا نیب ترمیمی آرڈینس جاری کرکے کرپشن میں ملوث اپنے پیاروں کو پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا این آر اور دے دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ آرڈیننس جاری کر کے عمران خان نے آٹا چینی میں اربوں کمانے والے خسرو بختیار اور جہانگیر خان ترین کو این آر او دیا ہے۔ اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر صحت عامر کیانی کو ادویات ساز کمپنیوں سے سے اربوں روپے کی رشوت لینے پر این آر او دے دیا ہے۔ عمران خان کے قریبی دوست اور فنانسر سابق مشییر برائے پٹرولیم ندیم بابر نے غریب عوام کی جیب سے کھربوں روپے نکلوائے اور اب عمران خان نے نیب آرڈیننس جاری کر کے انہیں بھی این آر او دے دیا ہے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کر کے عمران خان نے اپنے تمام وزیروں مشیروں کی ماضی کی کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کو این آر او دیا ہے اور ایک طرح سے یہ بتا دیا ہے کہ آپ جتنی چاہے لٹ مچائو اب نیب آپ پر ہاتھ ڈالنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ نیب چیئرمین پوری طرح حکومت کے شکنجے میں آگیا ہے جو پوری تندہی سے صرف اپوزیشن کو ہی نشانہ بنائے گا ورنہ صدر کے ذریعے گھر جائے گا۔
یاد رہے کہ صدرِ پاکستان نے ایک بار پھر قومی احتساب بیورو ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت نیب کو 6 اکتوبر سے قبل دائر ہونے والے منی لانڈرنگ اور فراڈ کے مقدمات کی تحقیقات کی اجازت ہو گی۔ اس سے قبل جاری ہونے والے ترمیمی آرڈیننس میں نیب سے چھ اکتوبر سے قبل کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تحقیقات کا اختیار واپس لے لیا گیا تھا۔ نئے آرڈیننس کے اجرا سے سابق آصف زرداری، سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے زیرِ التوا کیسز پر نیب اپنی تحقیقات جاری رکھ سکے گا۔
نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق کا کہنا ہے کہ صدارتی آرڈیننس سے اوپر نیچے ترامیم کے بعد نیب کی بچی کھچی ساکھ بھی صفر ہو ہی گئی ہے اور اب یہ تاثر تقویت پکڑ گیا ہے کہ نیب حکومت وقت کی سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ بن چکا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے بارے میں اگر قانون پر عمل درآمد ہوتا تو اب تک وہ ریٹائر ہو کر گھر جا چکے ہوتے کیوں کہ ان کے عہدے کی مدت مکمل ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیسرے نیب ترمیمی آرڈیننس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دائر ریفرنس نیب کے دائرہ اختیار میں واپس آ گے ہیں اور اس حوالے سے دائر کردہ ریفرنسز پر احتساب عدالتیں ہی سماعت کریں گی۔ زر ضمانت کے تعین کا اختیار احتساب عدالتوں کو ہو گا۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دائر ریفرنس نیب کے دائرہ اختیار میں رہیں گے، اینٹی منی لانڈرنگ کے تحت دائر ریفرنسز پر احتساب عدالتیں ہی سماعت کریں گی۔ اس آرڈیننس کے آنے کے بعد مضاربہ اسکینڈل کے کیسز پر بھی نیب کا دائرہ اختیار بحال ہو گیا ہے اور منی لانڈرنگ سے متعلق چھ اکتوبر سے پہلے شروع ہونے والے کیسز سابقہ آرڈیننس کے تحت جاری رہ سکیں گے۔ یعنی دوسرے نیب ترمیمی آرڈیننس سے اپوزیشن رہنماؤں کو ریلیف ملنے کا امکان پیدا ہوا تھا اسے مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ نیب کے سابق پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے یہ ترامیم عدالت میں چیلنج کر دی ہیں اور ان کے خیال میں ان ترامیم کے خلاف فیصلہ آنے کا قوی امکان ہے۔
