کپتان وعدے کے باوجود اسمبلی میں آنے سے گریزاں کیوں ہیں؟

عمران خان کو وزیر اعظم بنے 18 ماہ گزر جانے کے باوجود ان کی جانب سے قومی اسمبلی میں ’وزیراعظم آور‘ شروع کرنے اور اراکین اسمبلی کے سوالوں کے جواب دینے کا وعدہ بھی دیگر کئی وعدوں کی طرح پورا نہ ہوسکا اور یو ٹرن کا شکار ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان نے جولائی 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے فوری بعدبطور قائد ایوان اعلان کیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک گھنٹہ اراکین کے سوالات کے جوابات دیا کریں گے۔تاہم تاحال اس وعدے کی تکمیل نہ ہونے پر جہاں حکومتی جماعت اپوزیشن کو قصور وار ٹھہرا رہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کا موقف ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے پاس ایوان میں بتانے کیلئے کچھ نہیں اسی لئے اپنے دیگر جھوٹے وعدوں کی طرح ’وزیر اعظم آور‘ کے وعدے پر بھی یوٹرن لے چکے ہیں۔
وزیراعظم کو سوالوں کے جواب دینے کا پابند بنانے کے لیے قومی اسمبلی کے قواعد وضوابط میں ستمبر 2018 کو ترمیم پیش کی گئی۔اپوزیشن کے اصرار پر یہ ترمیم قائمہ کمیٹی میں بھیجی گئی۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ وزیراعظم کن سوالوں کے جواب دیں گے۔ اس کے علاوہ ترمیم میں یہ بھی واضح نہیں کہ وزیراعظم سے سوال کرنے کے لیے کیا پہلے تحریری سوال جمع کروانے ہوں گے یا پھر زبانی سوالات پر ہی جواب دیں گے۔ایوان میں اکثریت کے باوجود تحریک انصاف نے اس ترمیم کو فوری طور پر منظور نہیں کروایا جبکہ عموماً کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد بل منظور کروانے میں تاخیر نہیں کی جاتی۔حال ہی میں زینب الرٹ بل کئی ماہ تک کمیٹی میں زیر بحث رہنے کے بعد رپورٹ ایوان میں پیش ہوئی تو حکومت نے اسے فوراً منظور کرایا۔اسی طرح مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت، توسیع اور مراعات سے متعلق بلز ریکارڈ مختصر مدت میں پاس کروائے گئے۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں مجوزہ ترمیم کے مطابق وزیراعظم ’دستیابی‘ کی صورت میں ہر اجلاس کے پہلے بدھ کو وقفہ سوالات کے بعد ایک گھنٹہ حکومت کی مجموعی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی پر اراکین کے سوالوں کے جواب دیں گے۔ اگر کسی وجہ سے وزیراعظم پہلے بدھ کو دستیاب نہیں ہوں گے تو دوسرے بدھ کو وزیراعظم ایوان میں آ کر سوالوں کے جواب دینے کے پابند ہوں گے۔’وزیراعظم آور‘ کے دوران پچاس فیصد سوالات حکومتی اراکین اسمبلی جبکہ 50 فیصد اپوزیشن اراکین کر سکیں گے۔ تاہم ہفتہ وار بدھ میں اراکین کے سوالات کیلئے آنا تو دور وزیراعظم گزشتہ ایک سال میں بہت کم بلکہ صرف اہم مواقع پر ہی ایوان میں حاضر ہوئے جس کی وجہ سے اپوزیشن انہیں تنقید کا نشانہ بھی بناتی رہی ہے۔
چند دن قبل مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے طنز کیا تھا کہ وزیراعظم اس سال شاید ہی ایوان میں آئے ہوں گے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ وزیراعظم کے پاس ایوان کو بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے اسی لیے نہ تو ’وزیر اعظم آور‘ شروع ہوا اور نہ ہی وزیر اعظم ایوان میں آنا پسند کرتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’وزیراعظم آور‘ بھی ان جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ تھا جو وزیراعظم نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بولے تھے کہ وہ آئی ایم ایف نہیں جائیں گے وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے پہلے خودکشی کر لیں گے۔ وہ بجلی تیل اور گیس مہنگا نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنے والے حکمران چور ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ایوان میں آکر بتائیں بھی تو کیا بتائیں؟ کیا وہ یہ بتائیں کہ ان کی ٹیم نالائق ہے ان کی معاشی ٹیم نااہل ہے۔ جس کی وجہ سے سے ملک میں مہنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کی شرح 14 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملکی قرضہ 16 ہزار ارب سے بھی آگے نکل چکا ہے۔ ملک میں آٹے، چینی اور گیس کا بحران ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’البتہ وزیراعظم کو ایک بار ایوان میں آکر کر یہ ضرور بتانا چاہیے کہ وہ جس کو مافیا کہتے تھے وہ اس کے سربراہ خود ہیں جبکہ جہانگیر ترین اور خسروبختیار ان کے شراکت دار ہیں۔ وزیراعظم ایوان کو یہ بھی بتائیں کہ دوائیاں، آٹا، چینی مہنگی کیوں ہوئی؟ ادویات مہنگی کرنے کے سکینڈل میں جس وزیر کو فارغ کیا گیا اس کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ چینی اور آٹے سے کس نے کتنے کروڑ کمائے؟‘
دوسری طرف حکومت کا موقف ہے کہ اپوزیشن اگر ’وزیراعظم آور‘ سے متعلق قواعد میں ترمیم قائمہ کمیٹی میں بھیجنے کی ضد نہ کرتی تو وزیراعظم اسی دن سے ہی ایوان میں ارکان کے سوالوں کو جواب دینے کے پابند ہوتے۔ ترمیم پیش کرنے والے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ وزیراعظم نے تو خود کو ایوان کے سامنے جواب دہ بنانے کا عمل فوراً ہی شروع کر دیا تھا۔ان کے مطابق اپوزیشن نے جان بوجھ کر معاملہ لٹکانے کے لیے ترمیم کو قائمہ کمیٹی میں بھیجنے کی ضد کی تاکہ وزیر اعظم کو اس کارنامے کا کریڈٹ نہ مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ قائمہ کمیٹی نے کافی عرصہ بحث و مباحثے کے بعد قواعد و ضوابط میں کچھ مزید ترامیم تجویز کی ہیں۔ حکومت کو ان ترامیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔جلد ہی قومی اسمبلی میں قواعد و ضوابط سے متعلق ترمیم منظور کر لی جائے گی جس کے بعد وزیراعظم ایوان میں آ کر جواب دیا کریں گے۔
