کپتان کا تبدیلی سیزن فلاپ ہونے کے بعد نئے سیزن کی تیاری

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کی صورت میں چلایا گیا تبدیلی سیزن بری طرح فلاپ ہو جانے کے بعد اب اگلا سیزن لانے کی تیاری شروع ہوچکی ہے جسکی جھلکیاں ابھی سے دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ نئے سیزن میں ویڈیوز بھی ہیں اور بیان حلفی بھی ہیں لہذا اداروں کی عزت اس کھڑکی توڑ رش میں داؤ پر لگی ہے۔تبدیلی سیزن کے فلاپ ہونے کے بعد اب کسی پرانے ڈبے سے کوئی جمہوری ڈرامہ نکال کر اس میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، لیکن یہ طے ہے کہ اگلا سیزن شروع ہونے والا ہے۔
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ہم ایک ایسے مُلک میں بستے ہیں جہاں خبر مر نہیں سکتی کیونکہ یہاں اس قدر ہنگامہ خیزی ہے کہ دُنیا کے کسی اور ملک میں نہیں۔ باقی ممالک میں ڈراموں کے سیزن ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں سیاسی سیزن آتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی مقبولیت ان سیاسی سیزنز کو ملتی ہے، ڈرامائی سیزنز کو بھی نہیں مل پاتی۔ سیاسی سیزن سنہ 2002 سے انتخابات کی صورت ہر پانچ سال کے بعد باقاعدگی سے آ رہے ہیں۔ ان سے قبل مارشل لائی سیزن آتے تھے اور ہر دو تین سال کی بریک کے بعد دس، دس سال کے یہ سیزن لگاتار جاری رہتا تھے۔
عاصمہ کے مطابق اس دوران بیرونی عکسبندی بلکہ فنڈنگ سے چلنے والے ہلچل سے بھرپور مارشل لائی سیزنز میں کبھی انڈیا اور کبھی افغانستان کا کردار بخوبی ڈال دیا جاتا۔ ان مارشل لائی سیزنز کے بیچ صرف بریک کے لیے کچھ عرصے کے لیے ایک جمہوری ڈرامہ رچایا جاتا، اس کھل میں کبھی ایک سیاسی جماعت بھائی لوگوں کی کٹھ پُتلی بنتی تو کبھی دوسری جماعت۔ ان باریوں کے دوران عوام جمہوریت کی ڈگڈگی پر رقص کرتے اور پھر ’آوے گا بھائی آوے گا‘ کے اس راگ میں ’جاوے ہی جاوے‘ شروع ہو ہوتا۔۔۔
پھر نئے جمہورے کی راہ ہموار ہوتی اور چور دروازے، غلام گردشوں میں نام نہاد جمہوریت کا سکرپٹ تیار ہوتا۔ کبھی جمہوریت کی بقا اور کبھی آئین کی سربلندی کے لیے مصالحت، مفاہمت اور شراکت پر رضامندی اوّلین ٹھہرتی۔
بقول عاصمہ، سیاسی سیزن کے دوران مختصر جمہوری ڈرامے کی شروعات انتخابات سے ہوتی۔ پھر الزامات لگتے، عدالتیں لگتیں، لانگ مارچ ہوتے، کبھی ملک قیوم کی ٹیپ لیک ہوتی تو کبھی سپریم کورٹ پر حملہ ہوتا، کبھی حکومت اور عدلیہ۔کی کشمکش شروع ہو جاتی، تو کبھی عدلیہ اور حکومت کی مخاصمت شروع ہو جاتی۔ لیکن ہر مرتبہ اس قلیل مدتی سیاسی ڈرامے کو ایک طویل بریک فوجی آمریتیں دیتیں۔ غرض عوام کی تفریح کا سامان ریاست فراہم کرتی رہتی اور ریاست کی تفریح کا سامان عوام بہم پہنچاتے رہتے۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پھر سیاسی سیزن میں ایک نیا موڑ آیا۔ ایک دوسرے کے خلاف کام کرنے والی دونوں بڑی جماعتیں کسی حد تک سمجھ گئیں کہ انہیں تیسری طاقت آپس میں لڑوا رہی ہے۔ چنانچہ عسکری ہدایت کاروں نے سوچا کہ کیوں نہ تبدیلی سیزن شروع کیا جائے۔ اس سیزن کے تقریبا تمام کردار نئے تراشے گئے، کچھ پرانے کرداروں کو لانڈری میں دھو کر چمکایا گیا۔ سوچا گیا کہ کیوں نہ اب نیا تجربہ کر ہی لیا جائے۔ عدلیہ اور طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تبدیلی سیزن کو پوری طرح پبلسٹی دی، کپتان کے لیے صادق اور امین کی اسناد بھی بنوائیں، اسکی بہترین ساکھ کے پوسٹر، چسپاں کیے گئے۔ چنانچہ مارکیٹ میں وہ پیشکش آئی کہ جس کی ’مثال‘ نہیں ملتی۔ تمام ادارے کردار بن گئے اور ان کرداروں میں ادارے ڈوب کر رہ گئے۔ لیکن پھر وہی ہوا جسکا ڈر تھا۔ تبدیلی سیزن بری طرح فلاپ ہو گیا۔ اب کسی نئے سیزن کی تلاش کی جائے گی، جمہوری ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی کوشش ہو گی، انصاف کے دروازوں سے نئی ڈیلیں نکلیں یا پارلیمان کے ایوانوں سے نئے کردار، عدد کام آئیں یا ناپ تول، عناد کی باری لگے یا مفاد کی، لیکن یہ طے ہے کہ ایک بار پھر نئے سیزن کی تیاری ہے۔
لیکن عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے نئے سیزن کا حصہ بننے سے پہلے سیاسی جماعتوں کو ہدایت کار سے یہ پوچھ لینا چاہیے کہ اب کی بار آیا جمہوریت اور عوام کو اس میں کوئی تگڑا رول دیا جائے گا۔ اسکے علاوہ یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ نئے سیاسی سیزن کی معیاد کتنی ہو گی اور اسکا معیار کیا یو گا؟
