رانا شمیم اپنے الزام پرقائم، ثاقب نثار کو جھوٹا قرار دے دیا


گلگت بلتستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی جانب سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار پر ایک جج کو نواز شریف کے خلاف ہدایات جاری کرنے کے الزام کے بعد ایک پنڈورا باکس کھل گیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرتے ہوئے خبر بریک کرنے والے صحافی اور رانا شمیم دونوں کو 16 نومبر کو طلب کرلیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی اس لیے ضروری تھی کہ نواز شریف کا کیس ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس معاملے میں ایک موجودہ جج کو بھی گھسیٹ لیا گیا ہے۔ تاہم ثاقب نثار پر الزام لگانے والے جسٹس رانا شمیم نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس سلسلے میں حقائق جاننے کے لیے کوئی کمیشن بنایا جاتا ہے تو وہ اس کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف دہرانے کو تیار ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ نون نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے اور سچ ثابت ہو جانے کے بعد نواز شریف کی طرح ثاقب نثار کو بھی جیل بھیجا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کا کیس شروع کرتے ہوئے انصار عباسی اور رانا شمیم کے علاوہ اٹارنی جنرل فار پاکستان، اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل، اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کو بھی پیشی کے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ثاقب نثار نے خود پر لگے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف بیان حلفی دینے والے جج پر جوابی الزامات لگا دیے ہیں۔ تاہم جسٹس ریٹائرڈ رانا شمیم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور انہوں نے یہ بات اس لیے کھلولی ہے کہ وہ اپنے ضمیر پر مزید یہ بوجھ رکھ کر زندگی نہیں گزارنا چاہتے تھے۔
خود پر لگے الزام کا دفاع کرتے ہوئے ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ جب وہ چیف جسٹس تھے تو انھوں نے رانا شمیم کی بطور چیف جسٹس گلگت بلتستان مدت ملازمت میں توسیع دینے سے انکار کر دیا تھا جس وجہ سے شاید انھوں نے ایسا بیان دیا ہے۔ ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جب وہ خود چیف جسٹس تھے تو انھیں سابق وزیر اعظم کو جیل میں رکھنے سے متعلق کسی جج کو ہدایات دینے کی کیا ضرورت تھی۔ ثاقب کا کہنا تھا کہ انھوں نے ماتحت عدلیہ کے کسی جج کو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ لینے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن گلگلت بلتسان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بیان پر من و عن قائم ہیں۔ جب گگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس سے استفسار کیا گیا کہ انہوں نے اتنے عرصے کے بعد بیان حلفی کے ذریعے یہ معاملہ کیوں اٹھایا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ وہ بڑے عرصے سے اس بات کا بوجھ اپنے ضمیر پر لے کر چل رہے تھے لیکن اب مزید اس بوجھ کو اٹھانے کی ہمت نہیں تھی اس لیے انھوں نے اس واقعہ سے متعلق بیان حلفی میں سب کچھ سچ سچ کہہ دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کے ساتھ ثاقب نثار کی گفتگو سن کر انھیں یہ احساس ہوا تھا کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کو جان بوجھ کر کیسز میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ایک سوال پر گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میاں ثاقب نثار ان کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مدت ملازمت میں توسیع کی سمری تو وزیر اعظم کے پاس جاتی ہے لیکن انھوں نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے کسی کو کوئی درخواست ہی نہیں دی تھی کیونکہ وہ توسیع لینا ہی نہیں چاہتے تھے لہٰذا ثاقب نثار غلط بیانی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ رانا شمیم 30اگست 2018 میں اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہو گئے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ معاملہ تب سامنے آیا ہے جب احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف مریم نواز کی اپیل کی 17 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہونے جا رہی ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کے بیان حلفی کا نوٹس لیا تھا اور چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مختصر سماعت کی تھی۔
رانا شمیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اس سلسلے میں حقائق جاننے کے لیے کوئی کمیشن بنایا جاتا ہے تو وہ اس کے سامنے پیش ہونے کو بھی تیار ہیں۔ سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے مطابق میاں ثاقب نثار 14جولائی 2018 کو ایک 27 رکنی وفد کے ہمراہ گلگلت بلتستان آئے تھے، اس دوران وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ لان میں بیٹھے تھے اور ٹیلی فون پر ہدایات دے رہے تھے۔ رانا شمیم کے مطابق سابق چیف جسٹس کے وفد میں دو بزنس مین بھی شامل تھے جو کہ گلگت بلتستان میں ایک جھیل کے قریب ایک ہوٹل بنانا چاہتے تھے۔ وفد میں شامل تمام افراد کا خرچہ رانا شمیم نے اپنی جیب سے ادا کیا تھا۔ انکے مطابق ایک روز وہ لان میں اپنی مرحومہ اہلیہ کے ہمراہ میاں ثاقب نثار اور ان کی اہلیہ کے ہمراہ موجود تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ ثاقب نثار پریشان تھے اور اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کرتے ہوئے اسے ہدایات دے رہے تھے کہ فلاں جج کے پاس جاؤ۔
رانا شمیم کے بقول چیف جسٹس کہہ رہے تھے کہ اس جج سے میری بات کرواؤ اور اگر بات نہ ہو سکے تو ہائی کورٹ کے اس جج کو میرا پیغام دے دو کہ 2018 کے الیکشن سے قبل نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو کسی بھی قیمت پر ضمانت پر جیل سے رہائی نہیں ملنی چاہیے۔
گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انھوں نے ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں چھٹیاں گزارنے آئے ہیں تو تمام معاملات کو ایک طرف رکھیں اور اپنی چھٹیاں گزاریں۔ رانا شمیم کا دعویٰ ہے کہ پہلے تو چیف جسٹس ناراض ہوگئے لیکن کچھ دیر کے بعد لہجہ بدلتے ہوئے کہا انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پنجاب کی کیمسٹری کو نہیں سمھجتے کیونکہ پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے بہت مختلف ہے۔
گلگت بلتسان کے سابق چیف جسٹس نے دعویٰ کیا کہ جب ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دوسری جانب سے جج نے یقین دہانی کرا دی تو ثاقب نثار پُرسکون ہو گئے۔ دوسری جانب جسٹس ثاقب نثار نے سوال اٹھایا ہے کہ وہ کیسے اتنی حساس باتیں کسی اور جج کے سامنے کر سکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ نہ تو انھوں نے تب احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے ملاقات کی اور نہ ہی انھیں نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایات دی تھیں۔ تا ہم انکا کہنا تھا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لیے وہ اس الزام پر کوئی قانونی چارہ جوئی کر کے رانا شمیم کو اہمیت نہیں دینا چاہتے۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس معاملے میں کیا کرتی ہے؟

Back to top button