تحریک طالبان کا غیر مسلح ہونے سے انکار، پیسے بھی مانگ لئے


پاکستانی سکیورٹی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک مہینے کی عارضی سیز فائر کرنے والی تحریک طالبان پاکستان نے حتمی معاہدے کے لیے چار سخت ترین شرائط پیش کر دی ہیں جنہیں تسلیم کرنا ریاست پاکستان کی رٹ کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہوگا۔
مذاکرات میں شامل ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹی ٹی پی نے جو چار شرائط پیش کی ہیں ان میں پہلی اور سخت ترین شرط تحریک طالبان کو پاکستان کے قبائلی اضلاع کا عدالتی نظام سونپا جانا ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تجارت سے ہونے والی کمائی میں ان کا مستقل حصہ مختص کیا جائے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ حکومت ٹی ٹی پی کی مالی مدد کرے تاکہ ان کے خاندانی اخراجات پورے ہوتے رہیں لیکن چوتھا مطالبہ ایسا ہے جو ٹی ٹی پی اور پاکستانی ریاست کے مابین جاری مذاکرات کا عمل سبوتاژ کر سکتا ہے۔ مطالبہ یہ ہے کہ تحریک طالبان سے وابستہ جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے پر اصرار نہیں کیا جائے گا۔
مذاکراتی عمل سے آگاہی رکھنے والے حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے اس مطالبے کو ماننا حکومت پاکستان کے لیے بالکل بھی ممکن نہیں کیونکہ جو شرائط ریاست پاکستان نے معاہدے کے لیے عائد کی ہیں ان میں بنیادی شرط ہی یہ تھی کے ٹی ٹی پی کے جنگجو خود کو غیر مسلح کر کے ہتھیار ڈال دیں گے اور پاکستانی آئین کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ تمام جنگجو اپنے خاندانوں سمیت پاکستان واپس آ کر اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کے پاکستانی شناختی کارڈ بنوائیں گے تاکہ انکی شناخت ہو سکے۔ تاہم تحریک طالبان کی جانب سے پیش کردہ چار شرائط کے بعد اب اس مکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید ریاست پاکستان کے ٹی ٹی پی کے ساتھ جاری مذاکرات ناکامی سے دوچار ہو جائیں۔
یاد رہے کہ حالیہ ہی میں وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق مذاکرات ہو رہے ہیں جن میں کہ ریاست کی حاکمیت، ملکی سلامتی، متعلقہ علاقوں کے امن، معاشرتی اور اقتصادی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے افراد کو ان مذاکرات میں نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور ان کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
تاہم تحریک طالبان کی جانب سے آنے والی ان چار شرائط پر عمل کرنے کا مطلب ریاست پاکستان کی رٹ ختم کر کے قبائلی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنا ہوگا جو کہ کسی بھی صورت ممکن نظر نہیں آتا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں نے بتایا ہے کہ پاکستانی حکام کو پہلے ہی ٹی ٹی پی سے ہونے والے مذاکرات پر قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے امن پسند قبائل کی مخالفت کا سامنا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلی ایک دہائی میں تحریک طالبان کے ہاتھوں ان قبائلیوں کے ہزاروں عزیز اور رشتہ دار مارے گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ طالبان کو عام معافی دیے جانے کے بعد ان کی قبائلی علاقوں میں واپسی سے خونریزی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر وفاقی کابینہ کے کچھ وزرا بھی وزیراعظم کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت اپنے پیاروں کے قاتلوں کو معاف نہیں کریں گے۔ اس لیے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر تحریک طالبان سے معاہدہ کرنا بھی ہے تو انہیں پاکستان واپس لاکر بسانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تجویز کے مطابق افغان حکومت سے درخواست کی جائے کہ انہیں افغانستان میں ہی رہنے دیا جائے لیکن حکومت پاکستان ان کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھاری رقم ان کے حوالے کر دے۔ لیکن اس کے بدلے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں روکنے کا وعدہ کریں جس کی ضمانت افغان طالبان کی حکومت دے۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو پایا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت کے ایماء پر تحریک طالبان کے ساتھ شروع ہونے والے امن مذاکرات کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل طالبان کے ہاتھوں مارے جانے والے 85 ہزار پاکستانیوں کے خون کا سودا کرنے کے مترادف یے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی حکومت کے تحریک طالبان سے مذاکرات اور طے پانے والے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تفصیلات پارلیمان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ طالبان کو قریب سے جاننے والے مولانا نور حسن کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی حکومت اور طالبان کے درمیان کئی بار امن معاہدے ہوئے ہیں لیکن پائیدار امن قائم نہیں ہو سکا۔‘ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ’طالبان چاہتے ہیں کہ قبائلی علاقے کے تمام معاملات کے اختیارات ان کے پاس رہیں تبھی امن قائم ہو سکتا ہے۔‘ مولانا کے مطابق ’علاقے میں طالبان کا خیال ہے کہ جتنے بھی مقدمات چل رہے ہیں خواہ وہ دیوانی ہوں یا فوجداری، انکی ثالثی کے لیے لوگ طالبان کے پاس آئیں تاکہ ریاست کی رٹ ختم ہو جائے اور ان کے رٹ قائم ہو جائے۔ تاہم طالبان کا موقف یے کہ ایسا کرنے سے ایک طرف ان کو فیصلے کرنے کی اجرت ملے گی اور دوسری طرف فریقین کو انصاف بھی ملے گا۔
اس کے علاوہ طالبان چاہتے ہیں کہ سرحد کے اس پار سے آنے والے سامان پر ٹیکس میں بھی ان کا حصہ شامل ہو جس سے وہ اپنے اخراجات پورے کر سکیں۔ جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی جمال الدین محسود کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بہت ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مالی طور پر بھی طالبان کی مدد کرے ورنہ وہ پیسے اکٹھے کرنے کے لئے دوبارہ اپنی دہشت گرد سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر صورت میں طالبان کے مالی مسائل کو حل کرنا ہو گا۔
تاہم دفاعی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ کامیاب ہو یا ناکام، دونوں صورتوں میں افغان سرحد پر واقع قبائلی اضلاع میں موجود ’گڈ‘ اور ’بیڈ‘ طالبان یعنی دونوں دھڑوں کے طالبان اسلحہ نہیں واپس کریں گے کیونکہ اسلحہ کے بغیر طالبان خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔
یاد رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی فوج اور طالبان کے درمیان گذشتہ 16 سالہ جنگ کے دوران ہزاروں عام لوگوں کے علاوہ 1250 سے زیادہ قبائلی عمائدین نشانہ بنے ہیں جس کی وجہ سے طالبان نے اپنے علاقے میں اپنے ہی لوگوں سے دشمنیاں پیدا کی ہیں۔ طالبان کے ایسے مخالفین سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس فی الوقت بندوق اٹھانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
تاہم یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے طالبان کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی تو معاہدہ ناکام ہو جائے گا اور ایک بڑی تعداد میں طالبان داعش میں شامل ہو جائیں گے۔ دوسری جانب قبائلی عمائدین کے مطابق انہوں نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ امن معاہدے میں بنیادی شرط یہ رکھی جائے کہ تحریک طالبان کے جنگجو خود کو غیر مسلح کر لیں گے اور وہ پاکستان واپس آنے کی صورت میں وزیرستان کے کسی دور دراز علاقے میں رہائش پذیر ہوں گے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان پر امن زندگی بسر کرنے کے لئے طالبان کی مالی امداد کرے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ تاہم طالبان کی جانب سے قبائلی علاقوں کے عدالتی نظام کا کنٹرول مانگنا اور غیر مسلح ہونے سے انکار اس مذاکراتی عمل کو ناکامی سے دوچار کر سکتا ہے۔

Back to top button