کپتان کو جھوٹی تعریف چاہیے، جائز تنقید نہیں

16 ستمبر کو عمران خان کے صبر کا پیمانہ تب لبریز ہو گیا جب تاجکستان میں منعقدہ بزنس کانفرنس میں شریک ایک پاکستانی نے شاعرانہ انداز میں وزیراعظم پر تنقید کرنے کی کوشش کی اور یہ کہہ دیا کہ کنٹینر والا عمران آج کے عمران سے بہت بہتر تھا۔ موصوف اپنا تنقیدی شعر کہنے ہی والے تھے کہ عمران سٹیج سے بولے: یہ شعر و شاعری پھر کبھی ہو جائے گی، یہ بزنس کانفرنس ہے لہذا یہاں بزنس کی باتیں ہونی چاہیں۔ کپتان کے ناقدین ان کے اس عمل کو رعونت کے بے جا اظہار سے تعبیر کر رہے ہیں جس سے ان کے بارے میں پایا جانے والا یہ تاثر مزید تقویت پکڑتا ہے کہ وہ جھوٹی تعریف تو پسند کرتے ہیں لیکن جائز تنقید برداشت نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم یعنی ایس سی او کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے عمران خان تاجکستان کے دورے پر ہیں۔ 16 ستمبر کو عمران خان نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں پاکستان، تاجکستان بزنس کنونشن سے خطاب کیا۔ مگر اس کنونشن میں وزیر اعظم اور ان کے مشیر برائے کامرس رزاق داؤد کے سامنے بیٹھے کاروباری حضرات کو جب اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا گیا تو ایک شخص نے اس بزنس فورم کو شاعری کی محفل میں تبدیل کر دیا۔ اس نے اپنی شاعری سے عمران خان اور رزاق داؤد کو کافی متاثر کیا چنانچہ آغاز میں دونوں بظاہر انھیں داد دیتے نظر آئے۔ اس کے بعد اس نے قابل اجمیری کے اشعار پڑھے کہ ’کہتا ہے کہ کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ، کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ، یعنی پاکستان کہہ رہا ہے کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ۔ مرے لہو کی بہار کب تک۔ مجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے۔‘
یہاں تک تو سٹیج پر بیٹھے وزیر اعظم اور ان کے مشیر مسکراتے رہے۔ مگر پھر جب اس بزرگ بزنس مین نے ایک مخصوص شعر عمران خان کے لیے سنایا تو چہرے کی رونقیں مانند پڑنے لگیں۔انھوں نے کہا کہ ’عمران صاحب کے لیے ایک آخری شعر ہے۔‘
’اتنے ظالم نہ بنو۔ عمران بھائی، یہ شعر آپ کے لیے ہے۔ آپ تو اب ایک قیدی ہوگئے ہیں۔ آپ جب کنٹینر پر ہوتے تھے تو زبردست تھے۔ اب تو پتا نہیں آپ کن لوگوں کے چکر میں آگئے ہیں۔
اسکے بعد اس نے شعر سنانا شروع کیا: اتنے ظالم نہ بنو۔ کچھ تو مروت سیکھو۔‘
ادریس آزاد کے اس شعر کا اگلا حصہ ’تم پہ مرتے ہیں تو کیا مار ہی ڈالو گے ہمیں‘ تھا۔ مگر عمران خان اس سے پہلے ہی مائیک پکڑ کر سٹیج سے کہہ دیتے ہیں کہ ’آپ بزنس کی باتیں کریں، یہ بزنس کانفرنس ہے، شعر و شاعری بعد میں ہوتی رہے گی انشا اللہ۔‘ یوں بزنس کنونشن اپنے معمول پر آ جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو مسلسل شیئر کی جا رہی ہے جس پر صارفین اپنے آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ خوش آمد تک بات ٹھیک تھی مگر تنقید کے خوف نے کپتان کا رویہ بدل دیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کاروباری موضوعات پر اس اہم بین الاقوامی اجلاس کے دوران یہ بے جا تنقید تھی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران نے ایک غیر ملک میں سینکڑوں پاکستانیوں کے سامنے اپنی روایتی رعونت کا اظہار کیا جو انکے اپنے امیج کے لیے نقصان دے ہے۔ ٹوئٹر پر ایک صارف سہالیہ مسعود کہتی ہیں کہ ’دل سے برا لگتا ہے بھائی۔ اتنا سچ نہیں بولتے منھ پر۔‘ پیپلز پارٹی کی سینیٹر کرشنا کماری نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ظالم پر غصہ آیا، بات دل کو لگ گئی۔‘
سعید آفریدی نے تفطہ اٹھایا کہ ’شاعر کو معلوم ہونا چاہیے صاحب کو تعریفیں سننے کا شوق ہے۔ اعتراض دوسروں پر اچھا لگتا ہے۔‘ صحافی فرحان احمد خان کے مطابق جیسے ہی اس شخص نے تنقید میں دوسرا شعر پڑھا تو ’پی ٹی وی نے لائیو آسٹریم کٹ کر دی اور یہ دوسرا مصرعہ رہ گیا۔‘
