کپتان کی جہانگیر ترین کو کھڈے لائن لگانے کی اصل کہانی

کئی برس تک وزیراعظم عمران خان کے دست راست اور فنانسر کا کردار نبھانے والے جہانگیرخان ترین کے کھڈے لائن لگائے جانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں یہ خوش فہمی ہو گئی تھی کہ وہ کنگ میکر ہیں اور کپتان اور اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت بن چکے ہیں، تاہم شوگر سکینڈل میں ترین کا نام آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے موقع مناسب جانتے ہوئے جہانگیر ترین کو کھڈے لائن لگا دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کی دولت سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ حکومت سازی میں بھی ترین نے کنگ میکر کا کردارادا کیا بعد ازاں جب مولانا فضل الرحمان نے دھرنا دیا اور چوہدری برادران کے ساتھ کپتان کے معاملات خراب ہوئے تو جہانگیر ترین ہی وزیراعظم کے کام آئے تاہم ترین سمجھ بیٹھے کہ اب وہ ہمیشہ کے لیے کپتان اور اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت بن چکے ہیں لہذا وہ اب جو دل چاہے کرتے پھریں گے اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہ ہوگا لیکن عمران خان نے ترین کے عزائم بھانپتے ہوئے انہیں کھڈے لائن لگا دیا بالکل اسی طرح جس طرح کرکٹ کے زمانے میں عمران خان نے اپنے کزن ماجد خان اورکپتان میاں داد کی چھٹی کروا دی تھی۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں جہانگیر ترین ان گنے چنے بڑے بزنس ٹائیکون میں سے ایک ہیں جو ضیا کے وقت میں تخلیق کردہ اجارہ داری کا فائدہ اٹھانے کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے منتخب کیے گئے تھے۔یہ وہی اجارہ داری ہے جس نے چند افراد کو دولت بنانے کے زبردست مواقع فراہم کیے اور نہایت امیر لوگوں کا ایک ایسا طبقہ تخلیق کیا جس نے خود کو پاکستان کے مضبوط سیاسی خاندانوں میں شمار کرلیا۔ جہانگیر ترین اور ان کے کزن ہمایوں اختر ان اجارہ داریوں میں شامل تھے۔ خسارے میں چلنے والے پاکستان کے مقامی پیپسی ڈسٹری بیوٹر ریاض بوٹلرز کی قسمت بدلنے اور پاکستان میں امیر کھلاڑیوں میں سے ایک بن جانے کے لیے چینی کی صنعت میں قدم رکھنے کے ترین کے کارنامے نے شریف خاندان کے محسن جنرل ضیا کی موت کے بعد یہ ثابت کیا کہ کارنامے انجام دینا صرف نواز شریف کے ہوشیار بچوں کو ہی نہیں آتا بلکہ وہاڑی کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والا جہانگیرترین بھی ایسا کر سکتا ہے۔
جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کو اسٹیبلشمنٹ کی اس قدر حمایت حاصل تھی کہ 1989ء میں جب ایف آئی اے نے ان کے خلاف تحقیقات کی کوشش کی تو پنجاب پولیس نے یہ تمام کوششیں ٹھپ کردیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہنے اور چلنے سے ترین نے بھی ایک طاقتور سیاسی خاندان کا درجہ حاصل کر لیا۔ جہانگیر ترین نے سمجھا کہ عمران خان کے دورِ اقتدار کے دوران وہ خاندانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کی راہ نکال لیں گے۔تاہم جہانگیر ترین کا حساب کتاب غلط ثابت ہوا۔ عمران خان نے ان کی دولت سے ماضی میں بھلے ہی فائدہ اٹھایا ہو لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کی طیش کا خطرہ مول لے کر خود کو معاملات سے جوڑے رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے یہ اندازہ لگایا کہ اسٹیبلشمنٹ مختلف حصوں کا ایک مجموعہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس لیے خوش ہے کیونکہ اس میں شامل افراد خوش ہیں اور انتظامیہ اور خاندانوں سے براہِ راست رابطوں کی طاقت سے محظوظ ہو رہے ہیں۔
جیسے ہی عمران کو یہ عندیہ ملا کہ اسٹیبلشمنٹ کو جہانگیر ترین کی جانب سے ریاستی سبسڈی کا حصول کھٹکنے لگا ہے تو انہوں نے جھٹ سے خود کو ایک طرف کردیا حالانکہ سبسڈی ہو یا شوگر ایکسپورٹ کے فیصلے ہوں، ان کی منظوری دینے والے عمران خان خود تھے۔ جب شوگر سکینڈل سامنے آیا تو عمران خان کے سامنے ایک بار پھر ماجد خان جیسا معاملہ تھا۔ مگر اس مرتبہ میدان کھیل کا نہیں بلکہ سیاست کا تھا۔ لوگوں کو میانداد کے خلاف عمران خان کی وہ بغاوت یاد ہے کہ جس میں وہ ماجد خان کا استعمال کرتے ہوئے کپتان بنے اور پھر انہیں دھوکا دے دیا۔ مگر کپتان سے فراغت کے بعد بھی جہانگیر ترین کا سیاسی کردار ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ترین ماجد نہیں ہیں، وہ شاید ان بزنس ٹائیکونوں میں سے ایک ہیں جنہیں پاکستان میں بالکل بھی ہلکا نہیں لیا جاسکتا ہے۔
سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کو تحریک انصاف سے آؤٹ تو کروا دیا ہے تاہم شوگر سکینڈل میں ترین کا نام ہونے کے باوجود ان کے خلاف تاحال اس لیے کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ کپتان کو خطرہ ہے کہ یہ اپنے ہم خیال اراکین اسمبلی کو ساتھ ملا کر تحریک انصاف کی حکومت کی بنیادیں ہلا سکتے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک کی ایک بڑی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے بھی وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جہانگیر ترین سے محاذ آرائی کا خطرہ مول نہ لیں بصورت دیگر تحریک انصاف کی حکومت گرسکتی ہے۔
