کپتان کی ناکامی سے چینی 55 سے ڈبل ہو کر 110 تک کیسے پہنچی؟


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شوگر مافیا کے خلاف اعلان کردہ کریک ڈاؤن ایک کھوکھلا نعرہ ثابت ہوا جس کے بعد سے اس برس چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو گرام سے دو گنا بڑھ کر 110 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔
رواں برس جب ملک میں چینی 55 روپے فی کلوگرام سے 80 روپے فی کلوگرام ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر ملز مالکان کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایک اعلی سطحی کمیشن کے ذریعے انکوائری کروائی۔ انکوائری کمیشن نے جن شوگر ملز مالکان کو چینی کی قیمتوں میں اضافےکا ذمہ دار قرار دیا ان میں وزیراعظم کے قریب ترین ساتھی جہانگیر ترین کے علاوہ خسرو بختیار اور مونس الہی بھی شامل تھے۔ کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد شوگر مافیا نے چینی کی سپلائی کم کرکے اسکی قیمت 110 روپے فی کلوگرام تک پہنچانے کی دھمکی دی تھی اوراب چارمہینوں کے دوران شوگر مافیا اپنی دھمکی پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے جبکہ کپتان حکومت ایک مرتبہ پھر ناکام ہوگئی ہے۔ لیکن ظلم یہ ہے کہ چینی کی قیمت بڑھنے کا خمیازہ عام آدمی بھگت رہا ہے اور کوئی اس کی داد رسی کرنے کو تیار نہیں۔
پاکستان میں گذشتہ سال کے آخر میں 52 روپے کلو ملنے والی چینی کی قیمت اچانک رواں سال کے آغاز پر 75 سے 80 روپے فی کلو ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے ‘شوگر مافیا’ کے خلاف تحقیقات کروائی اور ذمہ داروں کے خلاف مختلف اداروں کو کارروائی کا حکم دے دیا۔ حکومتی اقدامات کے بعد توقع تھی کہ بازار میں چینی کی قیمتیں کم ہوں گی، تاہم ایسا نہ ہوا اور قیمتیں ہر ہفتے پانچ دس روپے فی کلوگرام مسلسل بڑھتی چلی گئیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ مہینے اس اضافے کا نوٹس لیا لیکن پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کپتان کے نوٹس لینے کے بعد چینی کی قیمت 85 روپے فی کلو سے 100 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی
اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران چینی کی مارکیٹ قیمت میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔جو چینی دسمبر 2018 میں مارکیٹ میں 55.99 روپے کلو فروخت ہو رہی تھی اب 110 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ حکومت کے شوگر کمیشن کے مطابق چینی کی قیمت مل ریٹ پر 63 روپے فی کلو ہونی چاہیے جو مارکیٹ میں چند روپے زیادہ پر فروخت کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ شوگر مافیا نے وزیراعظم اور شوگر انکوائری کمیشن کے سربراہ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کو خبردار کیا تھا کہ شوگر سکینڈل کی تحقیقات فوراً روک دی جائیں بصورت دیگر ملک میں چینی کی سخت قلت پیدا کر دی جائے گی جو 110 روپے فی کلوگرام تک جا سکتی ہے۔ اس الٹی میٹم کے باوجود شوگر کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے رکھ دی گئی جس کے ردعمل میں چینی نے قیمت کی سینچری کراس کر لی ہے اور 110 روپے فی کلو گرام تک فروخت ہو رہی ہے۔ لیکن حکومت کا دعویٰ ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی 68 روپے کلو میں بک رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر شوگر کمیشن نے تحقیقات جاری رکھیں تو ملک میں چینی کا بدترین بحران آ جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اب چینی کی قیمتیں معمول پر لانے کے لئے اس کی درآمد شروع کردی گئی ہے۔ ان حالات میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود انکوائری کمیشن نے اپنا کام تو مکمل کر لیا لیکن شوگر مافیا کی کھلی دھمکی اور خدشات کے عین مطابق کپتان حکومت کی چینی کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کی کوششیں کامیاب کیوں نہ ہو سکیں۔ حکومت کی جانب سے شوگر مافیا کو ٹھکانے لگانے کیلئے ایکشن پلان کے تحت، سات اداروں کو شوگر کمیشن کی رپورٹ میں قصور وار افراد کیخلاف مختلف اقدامات اٹھانے کا ذمہ دیا گیا تھا۔ جن سیاست دانوں کی شوگر ملوں کا فارنزک آڈٹ میں نام آیا تھا ان سے نیب اور دیگر 6 ریاستی اداروں کو پوچھ گچھ کرنا تھی مگر شوگر ملز مالکان نے سپریم کورٹ سمیت دیگر اعلی عدالتوں میں اس انکوائری کو چیلنج کیا جس کے بعد کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد بھی رک گیا اور اس طرح چینی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگئی۔
وزیراعظم کی جانب سے قائم کیے گئے شوگر انکوائری کمیشن کے مطابق پاکستان میں چھ گروپس چینی کی پیداوار کا 51 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ یہ سیاسی اثر رسوخ والے مل مالکان جن میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار، سابق وزیراعظم نواز شریف کا خاندان، چودھری آف گجرات کا خاندان، پیپلز پارٹی کے قریب سمجھا جانے والا اومنی گروپ اور دیگر شامل ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مارکیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں اور حکومتی پالیسی اور انتظامی امور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ شوگر کمیشن کے مطابق چینی مل مالکان لاگت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ گنے کی قیمت گزشتہ پانچ سالوں میں صرف دس روپے فی چالیس کلو بڑھی ہے اور وہ 180 روپے من سے 190 روپے ہو گئی جبکہ گزشتہ سال انہوں نے کاشتکاروں سے حکومتی امدادی قیمت 190 روپے فی من کے بجائے سستے داموں گنا خریدا۔ تاہم پچھلے سال گنے کی کم پیداوار کے باعث بعض کاشتکاروں نے 220 روپے من بھی گنا بیچا لیکن اس حساب سے بھی چینی کی قیمت مل ریٹ پر 63 روپے ہی بنتی ہے جبکہ 190 روپے من کا حساب کیا جائے تو چینی کی قیمت 57.59 ہونی چاہیے۔ کمیشن کے مطابق بعض مل مالکان نہ صرف کسانوں کو گنے کی کم قیمت دیتے ہیں بلکہ ان کے وزن کا تخمینہ بھی کم لگا کر اپنا خرچ بچا لیتے ہیں اور اس طرح کی خریداری کو ریکارڈ میں لائے بغیر اس سے چینی بنا لیتے ہیں اور بیچ بھی دیتے ہیں۔ تاہم حکومت کو صرف ریکارڈ بک میں موجود چینی کا حساب بتا کر نہ صرف ٹیکس بچاتے ہیں بلکہ اس اندرون کھاتہ مزدوری اور بجلی وغیرہ کے اخراجات کو بھی اپنی ریکارڈ بک والی چینی کی لاگت میں شامل دکھا کر چینی کی قیمت مہنگی کر دیتے ہیں۔ کمیشن کے مطابق ملیں گنے سے چینی کے علاوہ حاصل ہونے والے خام مال اور محصولات کے غلط تخمینے کے ذریعے لاگت کی قیمت بڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ مہنگی چینی بیچ سکیں۔ جو مزدور اور مشینیں گنے سے چینی کے علاوہ دیگر سامان بناتے ہیں ان کی تنخواہیں اور اخراجات بھی چینی کے پیداواری خرچے میں ڈال کر لاگت زیادہ دکھائی جاتی ہے جو بین الاقوامی فنانشنل رپورٹنگ کے معیار کے برعکس ہے۔
شوگر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اپنی لاگت غلط بتا کر گزشتہ سال صرف چھ شوگر مل مالکان نے 53 ارب روپے کا منافع کمایا جس پر لاگو ٹیکس کم از کم 18 ارب روپے بنتا تھا جو قومی خزانے کو نہ مل سکا۔ کمیشن کے مطابق متعلقہ قانون کمپنیز ایکٹ 2017 میں ترمیم کے ذریعے ملوں کی لاگت کا آڈٹ ختم کر دیا اور انہیں من مانی لاگت دکھانے کا موقع مل گیا۔ شوگر ملز مالکان ایسوسی ایشن کے مرکزی عہدیدار اسلم فاروق کہتے ہیں کہ ملک میں چینی کی پیداوار کا صرف 30 فیصد عام آدمی کے لیے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے جب کہ باقی 70 فیصد انڈسٹری کو بیچ دیا جاتا ہے۔ شوگر ملز 88 سے 90 روپے فی کلو تک چینی مارکیٹ کو فراہم کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قیمتیں چینی کی مانگ بڑھنے کے باعث زیادہ ہوئی ہیں، شوگر ملز مانگ پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن پھر بھی ملک بھر میں سپلائی پوری نہ ہونے پر حکومت نے تین لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں شوگر ملز مالکان بھی قیمتیں کم کرنے کو تیار نہیں۔ وہ حکومت تک پہلے ہی اپنے تحفظات پہنچا چکے ہیں اور جب تک تین لاکھ ٹن چینی درآمد نہیں ہوتی اس وقت تک قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button