کپتان کی حمایت کے باوجود بزدار کے خلاف نیب تحقیقات تیز


وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے باوجود کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو شراب لائسنس کیس میں نیب کے دفتر بلایا جانا ایک مذاق سے کم نہیں، قومی احتساب بیورو نے پنجاب عثمان بزدار کیخلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی کو شراب لائسنس کی فروخت جیسے چھوٹے کیس میں نیب کے دفتر بلاکر انکوائری کرنا ایک مذاق سے کم نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے کیسز کی تحقیقات ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کرتا ہے نیب نہیں۔
لیکن ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور کے ایک نجی ہوٹل کو شراب کا لائسنس دینے کی انکوائری کے علاوہ، نیب کا لاہور آفس وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف ان انکوائریز کی تصدیق کے مرحلے سے بھی گزر رہا ہے جن کے مطابق انہوں نے منتخب افراد کو سرکاری ٹھیکے مہنگے نرخوں میں دیے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب کے قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں کے خلاف بھی تحقیقات ہو رہی ہیں جو ماضی میں ان کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم نیب کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہم اب تک وزیراعلیٰ پنجاب کو گرفتار کرنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے۔ نیب ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ کے دعوے کے برعکس، انہوں نے ابھی تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات نہیں دیں جو وزیراعلیٰ سے اثاثوں کے خصوصی فارم پر طلب کی گئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیب نے کچھ ایسے بیوروکریٹس سے بھی اثاثوں کی تفصیلات مانگی ہیں جو وزیراعلیٰ پنجاب سے وابستہ ہیں۔
دوسری طرف اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے بزدار کی حمایت میں بیان آنے کے بعد 20 اگست کے روز چند سینئر حکومتی افسران نے شراب لائسنس کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے والے دو سابق بیوروکریٹس کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف جانے سے باز رہیں اور سچ کا ساتھ دیں۔ شراب کے لائسنس کیس میں نیب کو موصول ہونے والی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ لائسنس کیلئے بزدار کو 5 کروڑ روپے رشوت دی گئی تھی۔ شراب فروخت کا لائسنس 6؍ ماہ کیلئے دیا گیا تھا لیکن اس کی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل ہی اسے منسوخ کر دیا گیا تاکہ لائسنس حاصل کرنے والے کو عدالت سے حکم امتناع کے حصول میں مدد مل سکے۔ مقصد یہ تھا کہ لائسنس ایکسپائر نہیں ہو گا۔
نیب ذرائع اعتراف کرتے ہیں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل اکرم اشرف گوندل اس کیس میں نیب کے وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں اور وہ اس معاملے میں بہت ہی واضح ہیں۔ یاد رہے کہ لاہور کے ایک نجی ہوٹل کو جاری کیے جانے والے شراب کے لائسنس کیس میں تحریری طور پر ایسا کچھ موجود نہیں جس سے وزیراعلیٰ کے ملوث ہونے کا پتہ چل سکے۔ عثمان بزدار کا مؤقف یہ ہے کہ لائسنس انہوں نے نہیں بلکہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل اکرم اشرف گوندل نے جاری کیا جو اب وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا مؤقف ہے کہ گوندل ان کو ان کے پرنسپل سیکریٹری اور پنجاب کے چیف سیکریٹری کے ذریعے اس کیس میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اسی لیے اس لائسنس کی منظوری کے لیے بار بار وزیراعلیٰ کے پاس منظوری کیلئے سمریاں بھیجتے رہے۔
دستاویزات سے یہی لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ خود کو سمریوں سے دور رکھے ہوئے تھے اور کوئی بات تحریری طور پر نہیں لا رہے تھے لیکن وعدہ معاف گواہ نے نیب کو بتایا ہے کہ بزدار کے دفتر میں انہیں پانچ چھ مرتبہ طلب کیا گیا تھا اور لائسنس جاری کرنے کو کہا گیا تھا۔ نیب کے ذرائع کہتے ہیں کہ وائٹ کالر کرائم میں سرکاری فائلوں میں بمشکل ہی کوئی ثبوت چھوڑا جاتا ہے۔ ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ بیورو کو وزیراعلیٰ کیخلاف کئی دیگر شکایات بھی ملی ہیں جن میں سے بیشتر سرکاری ٹھیکوں میں کرپشن کے متعلق ہیں۔
یہ شکایات اب تک تصدیق کے مرحلے سے گزر رہی ہیں اور مختلف حکام سے نیب نے معلومات کے حصول کیلئے رابطہ کیا ہے۔ اسی دوران ایک موقر ذرائع نے بتایا ہے کہ جن لوگوں کو شراب لائسنس کیس میں طلب کیا گیا ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا عثمان بزدار اور ان کے منصب سے جڑا کوئی اور معاملہ بھی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ کچھ معاملات میں شک ہے جبکہ کچھ میں دال واقعی کالی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب کو کچھ ایسے معاملات ملے ہیں جو واقعی ’’کالے‘‘ ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے کام کاج میں انتہائی شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کوئی بھی سمری پڑھے اور اس کے میرٹ کا جائزہ لیے بغیر منظور نہیں کرتے لیکن نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب شراب لائسنس کیس میں پوری طرح ملوث ہیں اور انکے خلاف تحقیقات تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button