کپتان کے دور میں جبری گمشدگیاں انتہا کو پہنچ گئیں


تحریک انصاف حکومت کی جانب سے اپنے تین سالہ دور اقتدار میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے حکومتی دعوے کو رد کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ حنا جیلانی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے تین سالہ دور اقتدار میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے اور بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاوہ اب پنجاب سے بھی لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھانے کے دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے ہوئے ایچ آر سی پی کی سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ تحریک انصاف کے تین سالہ دور اقتدار میں پاکستان میں جمہوریت تنزل کا شکار ہوئی، غیر جمہوری ادارے اور طاقتیں مضبوط ہوئیں اور سول سوسائٹی کمزور ہوئی ہے۔  حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جبری طور پر گمشدہ اور اغوا ہونے والوں میں اب صحافی بھی شامل ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب کارکن صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پچھلے تین برس میں میڈیا کے محاذ پر تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی بہت بری رہی ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ تین سال کے دوران اس وزارت کے چار مختلف وزیر رہے، لہازا سوال یہ ہے کہ کپتان حکومت اپنی جو کارکردگی بتا رہی ہے وہ کس وزیر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا کو نکیل ڈالنے کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور میڈیا اتھارٹی کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مظہر عباس نے کہا کہ صحافیوں کی تنظیمیں اور دوسرے ادارے پہلے ہی پی ایم ڈی اے کو مسترد کر چکے ہیں، لیکن حکومت بعض غیر معروف اور غیر نمائندہ افراد کے ذریعے اتھارٹی بنانے کے حق میں مہم چلا رہی ہے۔ انہوں نے پی ایم ڈی اے کے قانون کا خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا: ’ٰاس سے سارا میڈیا مکلم حکومتی کنٹرول میں چلا جائے گا۔‘ 
ایچ آر سی پی کی سربراہ حنا جیلانی کا بھی یہی کہنا ہے کہ پی ایم ڈی اے ایک کالا قانون ہے جسکے ذریعے حکومت میڈیا کو مکمل کنٹرول کرنا چاہ رہی ہے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ اس سے میڈیا اور میڈیا اداروں کو بے انتہا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔‘ حنا جیلانی نے کہا کہ کہ عمران خان وزیر اعظم بننے سے پہلے میڈیا کو آزادی سخنے کے بڑے بڑے دعوے کرتے رہے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایفا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔  انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا اٹھایا جانا، معروف اینکرز کا سکرین غائب ہونا، ٹی وی چینلز کے نمبر آگے پیچھے کرنا وغیرہ حکومت کی آمرانہ سوچ کی کھلی غماز ہیں۔ 
حنا جیلانی نے سچ بولنے والے صحافیوں کے اٹھائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مطیع اللہ جان اور اسد علی طور نے سپریم کورٹ میں بتا دیا کہ انہیں کن کے کہنے پر اٹھایا گیا اور پیٹا گیا تھا لیکن ملزمان کی گرفتاری کے سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو پائی۔ اسی طرح جب سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت نے لاہور سے اپنی بلاجواز گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو ایکٹنگ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نہ صرف انکا کیس سننے والا جسٹس فائز عیسی کا دو رکنی بنچ ختم کردیا بلکہ ایف آئی اے حکام کو جاری کردہ نوٹس بھی واپس لے لئے۔ لہذا میڈیا کی آزادی کے دعوے کرنے والے اگر اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیں تو سچ ان کے سامنے آ جائے گا۔

Back to top button