کپتان کے عسکری مدد گار آ گے نہ آتے تو دھرنا فوری ختم نہ ہوتا


معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کوئٹہ میں قتل ہونے والے غریب مزدوروں کی لاشوں کے ساتھ لگائی اپنی جھوٹی انا اور ضد کی جنگ یقینا ہار جاتے اگر وہ آخری لمحات میں اپنے پرانے عسکری مددگاروں سے مشورے کے نام پر مدد طلب نہ کرتے۔ چنانچہ پھر عسکری ڈنڈا گھوما اور ہزارہ شہداء کے لواحقین نے وزیراعظم کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنے پیاروں کو دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یوں بلیک میلرز ہار گئے اور کپتان جیت گیا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ عمران اپنی جھوٹی انا کی یہ جنگ جیت کر بھی قوم کی نظروں میں ہار گئے کیونکہ اس سارے عمل کے دوران انکے اندر کا بے حس اور سفاک آدمی بے نقاب ہوگیا ہے۔
کوئٹہ کی ہزارہ برادری نے 6 روز تک اپنے پیاروں کی لاشیں سڑک پر رکھ کر وزیراعظم کے آنے کا انتظار کیا لیکن جواب میں عمران خان نے ان کو بلیک میلر قرار دے دیا اور لاشوں کی تدفین سے پہلے آنے سے انکار کر دیا۔ وزیراعظم کے اس بیان پر ملک بھر سے شدید عوامی ردعمل آیا لیکن اس کے باوجود آخری فیصلہ انہی کا تسلیم کیا گیا اور کوئٹہ دھرنا کے مظاہرین کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ پہلے لاشوں کو دفن کریں تاکہ وزیراعظمان سے مل سکیں۔
وزیر اعظم عمران خان کے بلیک میلنگ والے بیان سے پہلے ان کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے دورہ کوئٹہ کی راہ میں ‘سیکیورٹی خدشات’ کو رکاوٹ قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم جب مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کوئٹہ پہنچ گئے اور دھرنے والوں سے اظہار افسوس کر لیا تو وزیراعظم کا سیکیورٹی والا بہانہ ہو گیا اور انہوں نے کھل کر بتا دیا تھا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کوئٹہ بلانے کا مطالبہ بلیک میلنگ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
لیکن ایسا کرتے ہوئے عمران خان بھول گئے کہ جب 2012 میں پیپلزپارٹی دور میں ہزارہ قتل ہوئے تھے تو انھوں نے خود کوئٹہ پہنچ کر یہ بیان داغا تھا کہ ایسے واقعات کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے اور ایسی حکومت کو ختم کر دینا چاہیے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد بھی موصوف اپنی تقریروں میں یہ فرما چکے ہیں کہ وزیراعظم قوم کا باپ ہوتا ہے اور ان کے دکھ درد کا درماں ہوتا ہے۔ تاہم جب وقت آیا اور ہزارہ والوں نے ان کو اپنے دکھ درد میں شریک ہونے کے لئے بلایا تو پتہ چلا کہ خان صاحب کے ایسے تمام بیان صرف ہوائی باتیں تھیں اور کچھ بھی نہیں۔
وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں اور کابینہ کے اراکین سے حاصل کردہ پس پردہ معلومات سے انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم کو گزشتہ اتوار کو بلوچستان کے علاقے مچھ میں دہشت گردوں کی جانب سے 11 کوئلے کے کان کنوں کے ذبح کیے جانے کے فوراً بعد کوئٹہ خانے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن انہیں مصاحبین کی جانب سے مشورہ دیا گیا کہ وہ صورتحال بہتر ہونے تک انتظار کریں۔ پھر جب عمران خان نے اس حوالے سے اپنی روحانی گائیڈ سے مشورہ کیا تو انہوں نے بھی یہ تجویز دی کہ لاشوں کی تدفین سے پہلے ان کا کوئٹہ جانا رسکی ہوگا۔ لیکن جب مریم نواز اور بلاول بھٹو کوئٹہ دھرنے میں پہنچ گئے تو عمران خان بپھر گئے اور انہوں نے ہزار مظاہرین کو ہی بلیک میلر قرار دے دیا۔ خان صاحب زاد پر اتر آئے اور اس بات کو اپنی توہین سمجھا کہ وہ مریم اور بلاول کے کوئٹہ جانے کے بعد وہاں پر جائیں اور وہ بھی لاشوں کی تدفین سے پہلے۔
تاہم عمران خان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے ‘بلیک میلنگ’ کے تبصرے کے پس منظر میں کچھ وجوہات ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ہزارہ کے معصوم عوام نے یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ لاشوں کی اسی وقت تدفین کریں گے جب وزیر اعظم ان سے تعزیت کے لیے کوئٹہ آئیں گے بلکہ یہ مطالبہ بنیادی طور پر مجلس وحدت مسلمین کے قائدین کا تھا اور حزب اختلاف نے حساس معاملے پر سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اس آگ کو بھڑکایا۔ وزیر اعظم کے ایک معاون کا کہنا ہے کہ ان کا مؤقف تھا کہ ایک بار اگر انہوں نے تدفین سے قبل کوئٹہ جانے کا مطالبہ قبول کرلیا تو یہ ایک مثال بن جائے گی اور پھر جب بھی کہیں کوئی ایسی قتل کی واردات ہو گئی تو ان پر موقع پر پہنچنے کے لئے دباؤ ڈالا جائے گا۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ عمران خان جنازے پر جانا پسند نہیں کرتے اور اسی وجہ سے انہوں نے کبھی اپنے قریبی ترین رفقا کے بھی جنازہ میں شرکت نہیں کی۔
بتایا گیا ہے کہ انکو کوئٹہ نہ جانے کا پہلا مشورہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کابینہ کے اجلاس کے دوران کوئٹہ میں سوگواروں سے ملاقات کے بعد دیا تھا، انہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ کم سے کم دو دن کوئٹہ جانے سے گریز کریں کیونکہ لاشوں کے ساتھ دھرنا دینے والے مظاہرین کے جذبات بہت زیادہ بھڑکے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم کی وہاں موجودگی میں کوئی بھی ‘ناخوشگوار’ واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ وزیر اعظم کے ایک مشیر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘میں اور فواد چوہدری کابینہ کے پہلے دو اراکین تھے جنہوں نے کابینہ کے اجلاس میں شیخ رشید کی رائے کی مخالفت کی اور وزیر اعظم سے کسی تاخیر کے بغیر کوئٹہ کا دورہ کرنے کی اپیل کی’۔
انہوں نے کہا کہ اس سارے واقعے میں جب ہزارہ افراد کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا جارہا تھا اور حزب اختلاف بھی انہیں ‘اکساتا’ رہی تھی کہ سب نے اصل قاتلوں کو فراموش کردیا، ‘اس صورتحال میں قاتل رقص کر رہے ہوں گے کیونکہ ان کا اصل مقصد پورا ہو گیا’۔ لیکن وزیر اعظم کے اس بیان پر کہ انہیں ہزارہ کی جانب سے ‘بلیک میل’ نہیں کیا جانا چاہیے، ایک نئے تنازع نے جنم لیا ہے اور مرکزی دھارے اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کی وجہ سے حکومت کے میڈیا منیجروں کے پاس وزیر اعظم کے دفاع کے لیے بہت کم جگہ بچی ہے۔ ان کے اس بیان سے وہ تمام مفروضہ غلط ثابت ہوتے ہیں کہ عمران خان کسی کے مشورے کی وجہ سے کوئٹہ نہیں جا رہے تھے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سراسر ان کا اپنا فیصلہ تھا۔
اندرونی حکومتی ذرائع کے مطابق ڈھائی سال سے زیادہ کی حکمرانی میں پہلی بار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وزیر اعظم کے بیانات کی وجہ سے بہت پریشان دکھائی دیتی ہے۔ میڈیا پر حکومتی وژن کا مکمل خاتمہ ہوگیا اور وزیر اطلاعات شبلی فراز کا ٹوئٹ وزیر اعظم کی تقریر کے تقریباً 7 گھنٹے بعد شام 6 بجے آیا جس میں انہوں نے وزیر اعظم کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔ بعدازاں وزیر اعظم کے دوسرے ترجمان مختلف ٹی وی شوز میں نمودار ہوئے لیکن وہ اس کا مناسب دفاع کرنے میں ناکام رہے کہ وزیر اعظم خان نے ہزارہ برادری سے یہ کیوں کہا کہ وہ انہیں بلیک میل نہ کریں۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے تاثرات پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے لیکن انہیں یقین ہے کہ جلد ہی ہزارہ اور حکومت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔
وزیر اعظم کے ترجمان اور پی ٹی آئی رہنما کنول شوزب نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہزارہ کو "بلیک میلرز” نہیں کہا تھا بلکہ اس کے بجائے مجلس وحدت مسلمین سمیت ان لوگوں کو کہا تھا جو ہزارہ برادری کو اکسا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورے کے سلسلے میں علاقے میں سیکیورٹی خدشات پر بھی غور کیا جارہا ہے جو پہلے ہی دہشت گردی کی گرفت میں تھا، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہزارہ کے رہائشیوں کے اصل شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بحالی کے مطالبے پر بھی تشویش میں مبتلا تھے جو اصل میں افغانی ہیں اور ان دستاویزات کو غیر قانونی طور پر حاصل کر چکے ہیں، لہٰذا یہ صرف قتل و غارت کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ کچھ دیگر حساس معاملات بھی اس میں شامل تھے۔ یعنی حکومت کے کسی بھی وزیر نے کھل کر عمران خان کے موقف سے اختلاف نہیں کیا۔ تاہم اس دوران وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے ایک ٹوئٹ کی اور لکھا کہ اے بے یار و مدد گار معصوم مزدوروں کی لاشوں۔۔۔میں شرمندہ ہوں۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ندیم افضل چند اس سے پہلے بھی عمران خان کے ساتھ اختلاف کرتے رہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button