کیاوزیر اعظم آزادکشمیر ایک بار پھر تبدیل ہونے والا ہے؟

پاکستان میں جہاں ایک طرف الیکشن کی گہما گہمی جاری ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن کے بعد اقتدار کے حصول کیلئے اپنے پتےشو کرنا شروع کر دئیے ہیں وہیں دوسری جانب آزاد کشمیر میں بھی ایوان اقتدار میں ایک بار پھر تبدیلی کی بازگشت سنائی دینا شروع ہو گئی ہے اور موجودہ وزیراعظم چودھری انوارالحق کے ساتھیوں نے ہی انھیں ہٹانے کیلئے لابنگ شروع کر دی ہے۔

دنیا نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق  آزاد جموں و کشمیر سال 2023 ء کے دوران سیاسی طور قومی سطح پر مرکز نگاہ رہا، آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتخب وزیراعظم کو توہین عدالت میں آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے نااہل قرار دیدیا، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اس فیصلے کے بعد قانون ساز اسمبلی کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔

‎سردار تنویر الیاس خان کی نااہلی کے بعد آزاد جموں و کشمیر حکومت میں موجود انتہائی سینئر وزیر خواجہ فاروق کو قائم مقام وزیراعظم کا عہدہ مل گیا، وزارت عظمیٰ کیلئے ایک مرتبہ پھر دوڑ شروع ہوئی تو تحریک انصاف کی قانون اسمبلی میں واضح اکثریت کے باوجود پارٹی میں تقسیم کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو اقتدار میں آنے کا موقع مل گیا، پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر کے ہم خیال گروپ سے پہلی مرتبہ انوارالحق کو 53 کے ایوان میں 48 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل رہی، مخلوط حکومت میں بالآخر وزارت عظمیٰ کا تاج انوارالحق کے سر سج گیا۔

وزیراعظم چودھری انوارالحق  نے اقتدار کے ابتدائی ایام میں بغیر استحقاق کے سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی اور ضبطگی کے احکامات جاری کئے، پہلی بار آزاد جموں و کشمیر میں بیوروکریسی سے بھی کرپٹ مافیاز کو نکال دیا گیا، وزیراعظم نے بائیو میڑک سسٹم کے ذریعے تمام سرکاری اداروں میں ملازمین کی حاضری کو بھی یقینی بنایا۔

وزیراعظم کی اس اعلیٰ کارکردگی کے باوجود ان کے مخالفین انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے لئے ایک بار پھر متحرک ہو گے ہیں، ایک طرف وزیر اعظم چودھری انوارالحق نے بہت سے اچھے اقدامات کئے لیکن دوسری جانب انہوں نے سابق وزرائے اعظم پر نوازشات کی بارش بھی کی، یہ عمل وزیر اعظم چودھری انوارالحق کے لئے بدنامی کا باعث بنا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے نہ صرف سابق وزرائے اعظم پر نوازشات کو جاری رکھا بلکہ انہیں قانونی تحفظ دینے کے عمل میں سب سے آگے رہے۔

سابق وزرائے اعظم نے جہاں ایک طرف وزیراعظم چودھری انوارالحق سے بے پناہ مراعات کے حصول کے عمل کو مستقل کروایا وہیں دوسری جانب یہی لوگ سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان کو وزیر اعظم بنانے کے لئے بھی متحرک ہو گئے ہیں، سابق وزرائے اعظم مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو اس حد تک قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ موجودہ وزیراعظم کے دفتر سے ان کی خواہشات کا احترام نہیں کیا جاتا ہے، لہٰذا اس کو اقتدار سے ہٹانا لازمی ہے۔

سابق وزرائے اعظم نے یہاں بھی مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلزپارٹی کے صدور اور دیگر سینئر رہنماؤں کے بجائے اپنے ہی ایک ساتھی اور سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان کو وزیر اعظم چودھری انوار الحق کے مقابلے میں لانے کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

Back to top button