KPKمیں دہشتگردانہ کارروائیاں، کیا الیکشن ملتوی ہو سکتے ہیں؟‘

پاکستان میں آئندہ ماہ آٹھ فروری کو عام انتخابات سے قبل خیبر پختونخوا کے افغان سرحد سے متصل اضلاع کے امیدواروں پر حالیہ حملوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جاری کیے گئے ‘سیکیورٹی تھریٹس’ کے اجرا نے سیاسی حلقوں میں الیکشن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ایک جانب یہ بحث ہو رہی ہے کہ ملک میں امن و امان کی موجودہ صورتِ حال کے دوران کیا پر امن طریقے میں انتخابات کا انعقاد یقینی ہو پائے گا؟ دوسری جانب سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انتخابی مہم میں دہشت گردی کے واقعات کو جواز بناکر الیکشن ملتوی کیے جانے کے خدشات اور مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ پر امن اور شفاف انتخابات منعقد کرنے کے ذمہ دار نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کے لیے پر امن فضا قائم کرنے کے بجائے صرف سیکیورٹی تھریٹ کے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور خود کو بری الذمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

جے یو آئی(ف) کے مرکزی ترجمان اسلم غوری کے مطابق صرف خطرات لاحق ہونے کے نوٹس جاری کرنے سے انتظامیہ کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔پارٹی رہنماؤں کی سیکیورٹی کے حوالے سے آئے روز نوٹس آ رہے ہیں۔ لیکن انتظامیہ، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو پرواہ نہیں ہے۔

دوسری جانب نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ خیبرپختونخوا کی چیئر پرسن اورسابق ایم این اے بشریٰ گوہر نے بھی محسن داوڑ کی انتخابی مہم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے حفاظتی انتظامات ممکن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ریاست کی طالبان کے حوالے سے ناقص پالیسی کی وجہ سے وزیرستان اور پختونخوا میں دہشت گردی بڑھتی رہی ہے۔ اس طرح کے دہشت گرد حملوں اور خطرناک ماحول میں ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ کس طرح فراہم کی جاۓ گی۔‘‘

خیال رہے کہ ماہ نومبر میں بھی خیبر پختونخوا کے محکمۂ داخلہ نے پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ عام انتخابات میں جے یو آئی(ف) اور اے این پی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات موجود ہیں۔ تحریکِ انصاف کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا شدت پسند گروہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بھی خطرات لاحق ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والے تمام انتخابات میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں سیکیورٹی امور سے متعلق قائم تھنک ٹینک ’پاک انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز‘ کی گزشتہ برسوں کی سالانہ رپورٹس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ ماضی کے تین عام انتخابات میں 2013 کے الیکشن سب سے زیادہ پر تشدد رہے جس میں تحریکِ طالبان پاکستان جیسی کالعدم شدت پسند تنظیموں نے الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ریلیوں پر حملے کیے جن میں سینکڑوں افراد ہلاک بھی ہوئے۔

تھنک ٹینک کے سربراہ محمد عامر رانا نے بتایاکہ پاکستان میں 2007 میں اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن اور متعدد شدت پسندوں گروہوں کے انضمام کے سبب ٹی ٹی پی وجود میں آئی جس سے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔ان کے بقول اس دوران کچھ مخصوص سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے نظریات اور حکومت کی شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کی وجہ سے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔

دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ افسران کا کہنا ہے کہ آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ خطرہ داعش کی جانب سے ہے جو مذہبی جماعتوں خاص طور پر جے یو آئی (ف) کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔پشاور میں تعینات ایک سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق داعش افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کی سخت مخالف ہے جبکہ جے یو آئی (ف) کے متعدد رہنماؤں کے افغان صوبے کنڑ میں طالبان قیادت سے قریبی روابط کی بنیاد پر داعش باجوڑ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ دو سال سے جے یو آئی کے رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا رہی ہے۔دوسری جانب ٹی ٹی پی ماضی کے برعکس اپنے اعلامیوں اور مطبوعات میں بار بار یہ اعادہ کر رہی ہے کہ عوامی مقامات اور سیاسی جماعتیں اب ان کا ہدف نہیں ہیں۔ ٹی ٹی پی اب ایک حکمتِ عملی کے ذریعے خود عوامی مقامات یا سیاسی رہنماؤں پر حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے۔ مگر اسی گروہ سے وابستہ دھڑے حافظ گل بہادر گروپ یا تحریکِ جہادِ پاکستان جیسی نئی تشکیل کردہ تنظیمیں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہتی ہیں۔

بعض سیاسی حلقے ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ نگراں حکومت شدت پسند تنظیموں کی جانب سے حملوں میں اضافے کو جواز بنا کر انتخابات ملتوی کر سکتی ہے۔ تاہم اسلام آباد میں تعینات الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار کے مطابق موجودہ حالات ماضی سے کافی مختلف ہیں۔ ماضی میں سیاسی جماعتوں کی انتخابی ریلیوں کو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن اس کے باوجود انتخابات ملتوی نہیں ہوئے۔حالیہ عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کو در پیش خطرات ماضی کی نسبت کم ہیں جس کی وجہ سے یہ انتخابات ملتوی ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہے۔

Back to top button