پاکستانیوں میں نزلہ، زکام، جسم درد کی شکایات کیوں بڑھنے لگیں؟

کرونا وائرس کے نئے وئیرینٹ ’’جے این ون‘‘ کے تیزی سے پھیلنے اور عالمی ادارہ صحت کی وارننگ کے بعد پاکستانیوں میں نزلہ، زکام، جسم درد کی شکایات بڑھنے نے طبی ماہرین کو چونکا دیا ہے، دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کوویڈ کے اس نئے ویریئنٹ کو کم خطرناک قرار دیا گیا ہے اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ موسم سرما میں کرونا اور دیگر انفیکشن میں زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔پمز ایمرجنسی وارڈ کے ڈاکٹر شرجیل نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہسپتال میں ایسے مریضوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جو زکام، بخار، اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، روز کی بنیاد پر مریضوں کی ایک بڑی تعداد اس وائرل انفیکشن کی وجہ سے پسپتال آ رہی ہے اور ان میں زیادہ تر کو نمونیا ہے۔ڈاکٹر شرجیل کا کہنا تھا کہ جے این ون اور اس وائرل انفیکشن کی علامات تقریباً ایک جیسی ہی ہیں مگر ابھی تک جتنے ٹیسٹ کیے گئے ہیں ان کی تمام رپورٹس منفی آئی ہیں، وائرس کی نئی قسم کی علامات میں جسم میں درد، بخار، تھکن، گلا خراب اور سانس لینے میں دشورای ہے۔ اس وائرس کی بھی تمام علامات تقریباً وہی ہیں جو کورونا وائرس کی پچھلی اقسام کی تھیں اور اس کے علاوہ اس کی احتیاط بھی وہی ہیں کہ سماجی فاصلہ رکھیں، ماسک لگائیں، کھٹی اور ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں تاکہ گلہ خراب نہ ہو۔متعدی بیماریوں کی ایکسپرٹ ڈاکٹر نسیم نے اس حوالے سے بتایا کہ اس وقت دونوں میں فرق کرنا مشکل ہے کیونکہ دونوں کی علامات تقریباً ایک ہی جیسی ہیں، اس وقت پاکستان میں انفلوئنزا اے اور انفلوئنزا بھی کے کیسز بہت زیادہ ہیں لیکن ساتھ ہی کرونا کے ٹیسٹ بھی کیے جا رہے ہیں جن میں اس وبا کے اکا دکا کیسز آ رہے ہیں۔وزارت صحت کے ترجمان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ ممالک میں کرونا کے نئے ویریئنٹ جے این ون اومیکرون کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور وزارت اس حوالے سے صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک کوئی کیس رپورٹ نہین ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس ویریئنٹ کے پھلنے پھولنے کا خطرہ بہت کم ہے لیکن احتیاط ضروری ہے، کرونا کی نئی قسم کے کیسز رپورٹ نہیں ہو رہے مگر ڈاکٹرز کے مطابق پاکستان میں زیادہ تو نہیں لیکن کچھ کیسز آ رہے ہیں۔پاکستان میں اس وقت ہر دوسرا شخص بخار، نزلہ، زکام اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا ہے اور کوویڈ کے نئے ویریئنٹ کے بعد اب ہر شخص سردی کی وجہ سے ہونے والے بخار کے باعث تشویش میں مبتلا ہے۔
