کیا آرمی چیف پاک سعودی تعلقات میں تناؤ دور کر پائیں گے؟

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک بیان کے بعد آنے والے تناؤ کو دور کرنے کے لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید آج سعودی عرب کے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچیں گے۔
مسئلہ کشمیر پر وعدے کے باوجود سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو سپورٹ نہ ملنے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں خرابی پیدا ہو گئی تھی جسمیں کمی لانے کے لیے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف جنرل قمر سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جسکے دوران وہ سینئر سعودی حکام سے ملاقات کریں گے۔
پاک سعودی تعلقات کے حوالہ سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ سعودی عرب کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت ہے، پاکستان سعودی عرب کے حوالہ سے پالیسی تبدیل نہیں کرے گا البتہ تعلقات میں سرد مہری رہنے کا امکان ہے، آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب تناؤ میں کمی کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
یاد رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف جو سعودی اتحادی فوج کے سربراہ ہیں وہ اسوقت پاکستان میں ہیں اور اسلام آباد میں انکی سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان میں سعودی سفارت خانے کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کر کے بتایا گیا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اور سعودی سفیر نواف المالکی کے درمیان بہترین ماحول میں ملاقات ہوئی۔ اس دوران دونوں رہنماوں کے درمیان اچھے ماحول میں کئی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس ملاقات سے قبل سعودی سفیر نواف المالکی نے کچھ روز قبل ہی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی اہم ملاقات کی تھی۔ جس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب طے پایا۔
یاد رہے کہ پاک سعودی تعلقات میں کشیدگی آنے کے بعد پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر 14 اگست کو سعودی شہزادہ سلمان نے وزیراعظم عمران خان کی بجائے صدر عارف علوی کو نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔ سفارتی حلقوں میں اس طرح کی افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ ہو سکتا ہے حکومت پاکستان کو سعودی عرب کو راضی کرنے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی چھٹی کروانا پڑے تاہم اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button