کیا آپریشن عزم استحکام واقعی عدم استحکام کا باعث بنے گا؟

آپریشن عزم استحکام کے اعلان کے بعد جہاں مختلف سیاسی جماعتیں اس پر سیاست کھیل رہی ہیں وہیں دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے غیر ضروری تشویش بھی سامنے آ رہی ہے اور آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے ایک منفی پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ’عزم استحکام‘ اپریشن کیا ہے، اس کے کیا مقاصد ہیں اور اس کے اہداف کیا ہیں؟
پاکستان کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں آپریشن عزم استحکام پر سیاست کر رہی ہیں،’عزم استحکام‘ سے فوجی آپریشن کا تاثر لینا غلط ہے، عزم استحکام کے نام سے کوئی فوجی آپریشن ہوگا نہ کسی کو بے گھر کیا جائے گا۔بلکہ عزم استحکام کے تحت دہشت گردی کی روک تھام کےلیے کثیر الجہتی پالیسی ترتیب دی جائے گی، دہشت گردوں کو سزائیں دلوانے اور منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کےلیے موثر قانون سازی کی جائے گی جب کہ بارڈر کو منظم بنانے کےلیے لینڈ پورٹ اتھارٹی بنائی جائے گی، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد خوارج ہیں،ان کیساتھ کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے بلکہ دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔ذرائع نے کہا کہ اسمگلنگ اور منشیات کا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہو رہا ہے، عزم استحکام کے ذریعے اسمگلنگ اور منشیات کی بیخ کنی کی جائے گی۔ امن کے دیر پا قیام کےلیے مؤثر حکمت عملی ضروری ہے۔
خیال رہے کہ 22 جون کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی نے انسداد دہشت گردی کےلیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی تھی۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ایوان سے منظور کرانے کا مطالبہ کیا جب کہ جمعیت علمائے اسلام نے بھی آپریشن کی مخالفت کی اور اسے آپریشن عدم استحکام کا نام دیا۔26 جون کو پشاور میں ہونے والے قبائلی امن جرگے نے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کی تھی۔آپریشن کی مخالفت کے بعد وزیراعظم آفس نے عزم استحکام آپریشن کے حوالے سے وضاحت کی کہ بڑے پیمانے پر کسی فوجی آپریشن پر غور نہیں کیا جا رہا ہے کہ جہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہو اور عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔
واضح رہے کہ عزم استحکام بنیادی طور پر کوئی نیا آپریشن نہیں بلکہ ملک بھر میں پہلے سے جاری سکیورٹی فورسز کے آپریشنز کا تسلسل ہے، مگر اس میں ہول آف دی نیشن اپروچ کو شامل کیا گیا ہے یعنی ان جاری آپریشنز کو سیاسی قیادت کی سپورٹ دینا اور پوری قوم کو اس کا حصہ بنانا ہے، کیونکہ جہاں سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کی سرکوبی کےلیے نبرد آزما ہیں وہیں اس جنگ میں کامیابی کےلیے پوری قوم یکجا ہو اور اپنی فورسز کے پیچھے کھڑی ہو۔ اس حکمت عملی میں دہشت گردوں کی سرحد پار آماجگاہوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، عز م استحکام میں دہشت گردوں کے خاتمے کےلیے زمینی آپریشن کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانا بھی شامل ہے تاکہ سکیورٹی فورسز جدید دور کے چیلنجز سے نمٹ سکیں، راہ راست ، راہ نجات یا ضرب ِعزب کی طرح یہ آپریشن کسی مخصوص صوبے یا علاقے تک نہیں بلکہ ملک بھر میں پہلے سے جاری آپریشنز کا حصہ ہے۔اس وقت ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں جن میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہو رہے ہیں، سکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں صوبوں میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر روزانہ کی بنیاد پر ایک سو سے زائد آپریشن جاری ہیں، نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں آپریشن کی کامیابی کےلیے ایک مؤثر قانونی سپورٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ملک کا عدالتی نظام دہشت گردوں کی سرکوبی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق عزم استحکام کے معاملے پر وفاقی حکومت آنے والے چند دنوں میں سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے گی، اس کےلیے آل پارٹیز کانفرنس اور پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے،تاہم بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف ’’عزم استحکام‘‘ کو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت سے مشروط کر رہی ہے، مگر کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت اس معاملے کو بہتر طریقے سے مینج نہیں کر سکی، اگر سیاسی قیادت کو شروع میں اعتماد میں لیا جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔ مبصرین کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات اپنی جگہ مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کےلیے سیاسی اتفاقِ رائے اور قومی یگانگت کی اشد ضرورت ہے، سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں مگر اس عفریت کو شکست دینے کیلئے سیاسی نظریات اور مفادات سے بالاتر ہو کر ایک قوم بن کر اکٹھا ہونے کی اشد ضرورت ہے، یہی عزم استحکام ہے۔
