کیا ابھی نندن کو بھارتی حملے کی دھمکی کی وجہ سے رہا کیا گیا؟


اپنا جہاز تباہ ہو جانے کے بعد پاکستان میں پکڑے جانے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی کپتان حکومت کے ہاتھوں فوری رہائی کے ایک برس بعد اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسے جذبہ خیر سگالی کے تحت نہیں بلکہ اس دھمکی کے بعد رہا کیا گیا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے چند گھنٹوں میں بھارت پاکستان پر حملہ آور ہو جائے گا۔
قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے 28 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ سال بھارتی طیارہ گرائے جانے کے بعد گرفتار ہونے والے لمبی مونچھوں والے پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ممبران اسمبلی کو کانپتی ٹانگوں اور کپکپاتی آواز میں کہا کہ خدا کے واسطے ابھی نندن کو جانے دیں ورنہ بھارت آج رات نو بجے پاکستان پر حملہ کر دے گا۔ تاہم ایاز صادق کے اس دعوے کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا تھا اور ابھی نندن کے معاملے کو بلاوجہ متنازع بنانےکی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی موضوع پر قومی اسمبلی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ابھی نندن کی رہائی کے لیے ہمیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک خصوصی اجلاس میں آمادہ کیا اور ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ابھی نندن کی رہائی کے بعد پاک بھارت معاملات بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہوگئے اور کپتان حکومت ابھی نندن کے معاملے کی طرح اب کلبھوشن کے معاملے پر بھی ہاتھ کھڑے کئے ہوئے ہے اور اسے کسی نہ کسی طریقے سے رہا کرکے واپس بھارت بھجوانا چاہتا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ابھی نندن کے معاملے پر معمول کی گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور حکومت اور اپوزیشن کے اراکین قومی اسمبلی نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔اس دوران اپنی چیخوں کے لیے مشہور عمران خان کے قریبی ساتھی مراد سعید نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بھارتی مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کا ساتھی قرار دے دیا۔ لیکن یہ الزام لگاتے وقت وہ بھول گئے کہ کلبوشن نواز شریف دور میں گرفتار ہوا تھا اور کپتان حکومت پچھلے چھ ماہ سے اس کو رہا کروانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور پچھلے دنوں گرفتا جاسوسوں کے حوالے سے قانون سازی بھی کی ہے۔ اس قانون سازی کی وجہ سے عمران خان پچھلے دنوں اپوزیشن کی جانب سے کڑی تنقید کی زد میں رہے اور انہیں مودی کا اصل یار بھی قرار دیا گیا کیونکہ ماضی میں وہ یہ نعرہ نواز شریف کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
اس معاملہ پر ایاز صادق نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے لیے آرڈیننس ہم نہیں لائے بلکہ موجودہ حکومت لائی ہے۔ابھی نندن کے معاملے پر ایاز صادق نے کہا کہ 27 فروری 2019 کے واقعہ کے بعد ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پارلیمانی رہنما شریک تھے۔ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم عمران خان حسب معمول نہیں آئے، لیکن آرمی چیف اس اجلاس میں شریک ہوئے۔
ایاز صادق نے کہا کہ اس اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے۔ ‘ان کے پیر کانپ رہے تھے اور ماتھے پر پسینہ تھا۔ شاہ محمود قریشی نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے ابھی نندن کو جانے دیں ورنہ بھارت رات نو بجے پاکستان پر حملہ کر دے گا’۔ایاز صادق نے مزید کہا کہ ‘بھارت نے کوئی حملہ نہیں کرنا تھا۔ کچھ نہیں ہونا تھا۔ صرف گھٹنے ٹیک کر ابھی نندن کو واپس بھیجنا مقصود تھا جو انہوں نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران اور انکے یہ ایسی باتیں نہ کیا کریں جن کی وجہ سے ہم بھی یہ باتیں سنانے پر مجبور ہو جائیں۔
سابق اسپیکر کے اس بیان کے بعد خواجہ آصف نے بھی تقریر کی اور کہا کہ ابھی نندن کے معاملے پر ہمیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کہا گیا کہ ‘اس کی رہائی سے بھارت کے ساتھ ٹینشن کم ہو گی’۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ‘اس سرمایہ کاری سے آپ کو حاصل کیا ہوا۔ ابھی نندن کی رہائی کے منفی اثرات آئے۔ آپ سچ کیوں نہیں بولتے۔ آپ نے مودی کے جیتنے کی دعا کی تھی۔ وزیراعظم خود ہاتھ اٹھا کر مودی کے لئے دعا گو ہوئے کہ اس کے آنے سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا’۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ‘بھارت اور مودی کو خوش کرنے کا نتیجہ سقوط سری نگر نکلا۔ اسلام آباد کے سیرینا چوک اور ڈی چوک میں بینرز لگا کر عمران خان کی حکومت نے گونگلوں سے مٹی جھاڑی۔ انیون نے کہا ہہ اصل میں کشمیریوں کے ساتھ رنگ بازی ہو رہی ہے۔ تاریخ ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی’۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جانب سے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان پر کہا کہ ‘ایاز صادق سے ایسی بات کی توقع نہیں کرتا۔ ایاز صادق نے جو مؤقف بیان کیا وہ حقیقت کے برعکس ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے انٹیلی جنس معلومات پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا تھا اور میری تشویش اپنے لئے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘سیاسی مقاصد کے لیے ایسی غیر ذمے دارانہ گفتگو کی جا رہی ہے۔ ذمہ دار لوگ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر رہے ہیں جس پر مجھے حیرانی ہے’۔کشمیر کے معاملے پر شاہ کا کہنا تھا کہ کوئی پاکستانی کشمیر پر سودے بازی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کے معاملے کو بلاوجہ متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ 27 فروری 2019 کو پاک فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا تاہم بھارت صرف ایک جہاز گرنے کی تصدیق کرتا ہے۔ اس روز کے واقعات پر پاک فوج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دونوں طیاروں کو مار گرایا، جس میں سے ایک کا ملبہ پاکستانی ازاد کشمیر جب کہ دوسرے کا ملبہ جموں کشمیر میں گرا تھا۔ ترجمان نے کہا تھا کہ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے بعد ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بھی گرفتار کیا گیا۔ تاہم یکم مارچ کو گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو تمام کاغذی کارروائی کے بعد واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ابھی نندن کی رہائی سے متعلق اعلان وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کیا تھا اور کہا گیا کہ ایسا پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ تاہم حیرانگی کی بات یہ ہے کہ عمران خان ابھی نندن کو رہا کرنے اور کلبھوشن کی رہائی کے لیے کوششوں میں تیزی لانے کے باوجود اپوزیشن رہنماؤں کو ہی مودی کا یار ٹھہراتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button