کیا اسمبلیوں سے استعفوں کا فائدہ ہوگا یا نقصان؟

اپوزیشن کو پارلیمینٹ سے استعفے دینے کا اس وقت تک فائدہ نہیں جب تک پورے ملک میں احتجاج کی فضا نہ بنی ہو اور عوام باہر آنے کو تیار نہ ہوں۔ یہ نہ ہو کہ عمران خان کی طرح اسمبلیوں سے استعفے دینے کے بعد پھر وہ استعفے واپس لینے پڑیں۔ ویسے بھی اگر پی ڈی ایم کو اپنا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو کسی ایک پارٹی کے مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ ساری قربانیاں پیپلزپارٹی سے مانگی جائیں گی اور انہیں بدلے میں کچھ بھی نظر نہیں آئے گا تو وہ کیوں اس حکمت عملی کو مانیں گے؟
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ انکا کہنا یے کہ پی ڈی ایم کی میٹنگ میں کھلم کھلا کلیش ہوا اور پھر بات کریش تک آ گئی۔ دوسری جانب ن لیگ اور مریم نواز سمیش کیے جانے کی دھمکیوں کے باوجود اپنا جارحانہ انداز ِسیاست برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کا لتاڑا نکالتے چلے جا رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اس وقت پی ڈی ایم کے اندرونی اختلافات دراصل آئیڈلسٹک یا تصوراتی اور رئیلسٹک یا حقیقت پسندانہ رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ مریم نواز، مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف چاہتے ہیں کہ اسمبلیوں سے فوری اجتماعی استعفے دے کر لانگ مارچ کیا جائے اور یوں پارلیمان کے اندر اور باہر ایسی بحرانی صورت حال پیدا کر دی جائے کہ عمران کی حکومت کے پاس نئے الیکشن کروانے کے سوا چارہ باقی نہ ہو۔
دوسری طرف آصف زرداری کا حقیقت پسندانہ رویہ یہ کہتا ہے کہ فی الحال ملک میں بحرانی صورت حال نہیں یے، اور پارلیمان سے استعفے دینے کا اس وقت تک فائدہ نہیں جب تک پورے ملک میں احتجاج کی فضا نہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ عمران خان کی طرح پی ڈی ایم جماعتیں بھی تمام اسمبلیوں سے استعفے دے دیں اور ان کا اثر بھی نہ ہو اور پھر کھسیانے ہو کر استعفے واپس لینے پڑیں۔
آصف زرداری کا موقف یہ ہے کہ جوش کی بجائے ہوش سے اور مرحلہ وار چلا جائے اور سب سے آخری وار اجتماعی استعفے ہوں جب اس کے لیے فضا تیار ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ استعفے ایسے وقت دیے جایں جب حکومت کے لیے نئے الیکشن کے سوا کوئی آپشن باقی بچا ہی نہ ہو۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اصولی اختلافات کے علاوہ پی ڈی ایم میں مفادات کا کھیل بھی موجود ہے۔ پیپلز پارٹی اپنی سندھ حکومت نہیں چھوڑنا چاہتی کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد سندھ میں ان کے مخالف برسر اقتدار آ جائیں گے اور ان کے لیے سندھ کی محفوظ پناہ گاہ ایک آزمائش گاہ میں تبدیل ہو جائے گی۔ پیپلزپارٹی کو جام صادق اور ارباب رحیم کے سیاہ ادوار یاد ہیں اس لئے وہ نہیں چاہتے کہ ان ادوار ہی کی طرح حالات پیدا ہوں۔ پیپلزپارٹی یہ بھی سوچتی ہے کہ ن لیگ ان سے سندھ حکومت کی قربانی مانگ رہی ہے اور بدلے میں الیکشن کے بعد وفاق میں تو پھر نون لیگ کو حکومت ملے گی اور پیپلز پارٹی خالی ہاتھ رہ جائے گی۔ چنانچہ زرداری صاحب اپنا اقتدار قربان کر کے تاج و تخت ن لیگ کے حوالے کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ چاہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی ادھوری تحریک نہ چلائے، وہ کہتے ہیں کہ سندھ حکومت برقرار رکھ کر اور اجتماعی استعفوں سے انکار کر کے پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ نواز شریف اور مولانا نہیں چاہتے کہ اجتماعی استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کیا جائے کیونکہ یہ ایک ادھوری کوشش ہو گی۔ ان کی خواہش ہے کہ لانگ مارچ اور اجتماعی استعفے اگر ایک ساتھ آ جائیں تو یہ حکومت کو گرانے اور کمزور کرنے کا کارگر حربہ ہوں گے۔ تاہم پی ڈی ایم کے 12 مارچ کے اجلاس میں آصف زرداری نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ہم استعفے دینے کو تیار ہیں لیکن نواز شریف وطن واپس آئیں تاکہ ہم اپنے استعفے ان کے ہاتھ میں پکڑا سکیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا یے کہ موجودہ حالات میں اب پی ڈی ایم والے پیپلزپارٹی پر یہ الزام بھی لگا ریے ہیں کہ پیپلزپارٹی دراصل اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل میں لگی ہوئی ہے اور یوسف رضا گیلانی کی جیت اور سندھ حکومت کا برقرار رہنا دراصل اسی ڈیل کا حصہ ہے۔ ن لیگ کے بعض انتہا پسند تو یہ الزام بھی لگا دیتے ہیں کہ زرداری صاحب نہ تو نئے انتخابات چاہتے ہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت کو فوراً گرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سندھ حکومت چلتی رہے اور پیپلز پارٹی بھی پارلیمان میں بھی موجود رہے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کا ایک دیرینہ موقف یہ ہے کہ چاہے دھاندلی ہو یا نا انصافی ان کا تجربہ یہ کہتا ہے کہ پارلیمانی سیاست کے اندر موجود رہ کر سیاست کرنا ہی بہتر ہے۔ پارلیمان سے باہر ہو گئے تو آپ سسٹم سے باہر ہو جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا یہ موقف بھی ہے کہ لانگ مارچ تو ٹھیک ہے مگر دھرنا دے کر دارالحکومت کا محاصرہ کرنا ٹھیک نہیں۔ دونوں فریقوں کے دلائل میں اپنا اپنا وزن ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اکثر لوگوں کی رائے میں اب پی ڈی ایم ٹوٹ جائے گی، مگر میری رائے ہے کہ اختلافات کے باوجود یہ اکھٹے چلتے رہیں گے۔ ان کے اختلافات بھی موجود رہیں گے اور یہ سیاست کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ بھی نکالتے رہیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پی ڈی ایم کو اگر اپنے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے تو انہیں کسی ایک پارٹی کے مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ ساری قربانیاں پیپلزپارٹی سے مانگیں گے اور انہیں بدلے میں کچھ بھی نظر نہیں آئے گا تو وہ کیوں اس حکمت عملی کو مانیں گے؟ اس لیے پی ڈی ایم کو چاہیے کہ سب کو ساتھ چلانے کے لیے ٹھنڈے دل سے حکمت عملی ترتیب دیں۔ مولانا فضل الرحمن ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں انہیں اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے سب سیاسی جماعتوں کے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے۔
سہیل وڑائچ کا موقف یے کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات کو ختم کرنے کے لیے اگلے الیکشن کے بعد کے منظر نامے پر بھی ابھی سے گفتگو ہونی چاہیے۔ کیا پیپلز پارٹی کو پنجاب سے کوئی حصہ ملے گا؟ کیا اگلے الیکشن کے لیے پی ڈی ایم کا انتخابی اتحاد بنے گا؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کا جواب حاصل کیے بغیر پیپلزپارٹی سے سندھ حکومت کی قربانی مانگنا جائز نہیں بنتا۔
