کیا اقتدار کے پجاری مولانا ایک بار پھر یوٹرن لینے والے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل اس وقت گرینڈ الائنس بنانے کی تیاریاں کر رہی ہیں، جس میں ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے علاوہ تمام جماعتوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق گرینڈ الائنس بنانے کی منظوری سابق وزیراعظم عمران خان دے چکے ہیں، اس حوالے سے پہلی سیاسی حکمت صدارتی انتخابات کے وقت منظر عام پر آئے گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سیاسی افہام تفہیم کیلئے متحرک ہوگئے ہیں، انہوں نے ناراض سیاسی رہنماؤں کو منانے کیلئے مصالحتی مشن شروع کردیا ہے۔ قائد ن لیگ مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کیلئے انکے گھر جا پہنچے اور حکومت میں شمولیت کی دعوت دیدی، نواز شریف نے ان سے صدر، وزیر اعظم کیلئے ووٹ بھی مانگ لیا، اس موقع پر جے یو آئی سربراہ نے نواز شریف کو انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر تحفظات سے آگاہ کیا۔ جس کے بعد سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ساتھ چلنے کی دعوت دیدی۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے قائدین کی ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان جمعہ کو وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کی ’’ون آن ون‘‘ تفصیلی ملاقات بھی ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آئندہ کیلئے کسی حکمت عملی پر بات چیت ہوئی ہے یا پھر مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم کو آئندہ کی منصوبہ بندی کے حوالے سے اعتماد میں لیا ہے اس بارے میں محض قیاس کے حوالے سے گفتگو کی جارہی ہے۔ تاہم ایک نہایت مصدقہ ذریعے کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے روا رکھے جانے والا طرزعمل، اہم امور سے علیحدہ رکھنے کی پالیسی سمیت خود سابق وزیراعظم کی لندن سے واپسی کے بعد ان کی لاتعلقی کے رویئے پر جب گلے شکوے کئے وہیں پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف جدوجہد سے لیکر عدم اعتماد کی تحریک تک جمعیت علمائے اسلام کی قربانیوں کا ذکر بھی شامل تھا۔ تاہم قائد نون لیگ نے ان کے تمام گئے شکوے سننے کے بعد انھیں تمام تحفظات دور کرنے کی یقین  دہانی کرائی۔

دوسری جانب ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کی ون ٹو ون ملاقات ہوئی ہے، اللّٰہ پاک بہتری کریگا، انشااللّٰہ سب ٹھیک ہوگا،رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات اچھی رہی۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے موقف سے آگاہ کیا، مولانا فضل الرحمان ہمارے رہنما ہیں، ہم نے سخت وقت گزارا ہے، ہمیں مولانا فضل الرحمان سے ہمیشہ رہنمائی ملتی رہی ہے، ہماری کوشش ہے اور وہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف مولانا فضل الرحمان سے ووٹ مانگنے کی نیت سے نہیں آئے تھے۔ ملک کو درپیش سیاسی صورتحال پر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی ہم سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک معتبر اور محب وطن سیاست دان ہیں، محمود خان اچکزئی کو بھی ساتھ جوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو احترام میاں نواز شریف کی نظر میں مولانا اور مولانا کی نظر میں نواز شریف کا ہے وہ مثالی ہے، ہمیشہ ایک دونوں نے ایک دوسرے کی بات مانی ہیں۔ لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مولانا سے عزت و احترام کا رشتہ ہے،امید ہے کہ وہ ووٹ کاسٹ کرینگے، جمہوریت کے تسلسل اور معیشت کے استحکام کیلئے آگے چلنا ہوگا۔توقع ہے فضل الرحمٰن حکومت کا حصہ بنیں گے۔

تاہم جے یو آئی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کے مطابق ہمارا موقف قائم ہے ہم حکومت کا حصہ نہیں ہونگے، ہم نے بڑا فیصلہ لیا ہے ہم اس فیصلے کو بدلنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

Back to top button