کیا الیکشن کمیشن وفاقی وزرا کو نااہل کر سکتا ہے؟

پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آئینی طور پر حاصل کردہ عدالتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خود پر سنگین الزامات لگانے والے دو وفاقی وزرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کردے جس کا اختتام وزراء کی نااہلی پر بھی ہو سکتا ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وزیر ریلوے اعظم سواتی اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری الیکشن کمیشن کی جانب سے مانگے گے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے تو کمیشن کو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یاد رہے کہ دونوں وفاقی وزرا کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری کرتے ہوئے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق نہ تو اعظم سواتی الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے عوض پیسے لینے کا کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہی فواد چوہدری چیف الیکشن کمشنر کو کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار ثابت کرنے کے حوالے سے کوئی ثبوت دے سکتے ہیں۔ لہذا موجودہ صورتحال میں دونوں وزرا مشکل صورتحال کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد کی رائے میں اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے ان وزرا کو توہین عدالت کا مجرم گردانا گیا تو پھر ان کی اگلے پانچ سال کے لیے نااہلی ہو جائے گی اور وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ یاد رہے کہ جنوری 2020 میں وزیر اعظم عمران خان نے سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔ گذشتہ برس الیکشن کمیشن کی طرف سے ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دینے کے بعد حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے تھے۔
کنٹونمنٹ بورڈ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے دوران بھی فوج تعینات کرنے کی درخواست کی گئی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا تھا۔ واضح رہے کہ ماضی میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد اُس وقت کے الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا خان نے عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
متعدد بار نوٹس جاری ہونے کے باوجود جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے تو چیف الیکشن کمشنر نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو گرفتار کرکے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔البتہ چیف الیکشن کمشنر کے ان احکامات کے بعد عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے غیر مشروط معافی مانگی تھی جسے جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے قبول کرلیا تھا۔
تاہم تازہ ترین کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے نوٹس جاری ہونے کے بعد فواد چوہدری نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس کا بطور جائزہ لینے کے بعد اپنا اگلا لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا کی جانب سے سے کمیشن پر لگائے گئے الزامات کا مقصد اسکی ساکھ کو خراب کرنا اور ہراساں کرنا ہے کیونکہ مستقبل قریب میں ای سی پی نے وزیراعظم عمران خان کے فارن فنڈنگ کیس سمیت چند اہم کیسوں کا فیصلہ کرنا ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے درمیان تنازعات نئے نہیں۔ ماضی میں بھی دونوں ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن حالیہ بیانات کا سلسلہ 10 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب وزیرِ ریلوے اعظم سواتی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر کمیشن حکام کی موجودگی میں الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے ان کے بقول ‘پیسے پکڑے ہوئے ہیںِ‘۔ ان الزامات کے بعد الیکشن کمیشن کے اراکین اجلاس سے واک آؤٹ کر گے۔
بعد ازاں فواد چوہدری نے اعظم سواتی کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ ”ایسا لگتا ہے الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈکوارٹرز بن گیا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو براہ راست کہا کہ اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو استعفیٰ دے کر عہدہ چھوڑیں اور الیکشن لڑیں، چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے ماؤتھ پیس بن گئے ہیں، وہ نواز شریف سے قریبی رابطے میں رہے ہیں۔”
بعد ازاں الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر نوٹس جاری ہونے کے بعد فواد کا کہنا تھا کہ اس نوٹس کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہو گی کیوں کہ ابھی الیکشن کمیشن کا کورم مکمل نہیں ہوا ہے، اس کے دو ارکان کی تعیناتی ہونی ہے اور دو ارکان کی غیر موجودگی میں ہونے والے اجلاس اور نوٹسز کی قانونی حیثیت دیکھنا ہو گی۔
اس دوران حکومتی حلقوں کی جانب سے ایسی اطلاعات بھی آئی ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن اور حکومت کے مابین چپقلش میں اضافہ ہوا تو پھر حکومت راجہ سکندر سلطان کو ہٹانے کی کارروائی بھی شروع کر سکتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا آئینی طریقہ ان کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا ہے جو حکومت کی ہدایت پر صدرِ پاکستان کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا جاتا ہے جہاں کونسل کے اراکین ججز چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات کا جائزہ لینے کے بعد کوئی فیصلہ کرتے ہیں۔دوسری صورت راجہ سکندر کے خود سے استعفیٰ دینے کی ہے جسکا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری کنور محمد دلشاد کے مطابق دونوں وفاقی وزرا مشکل میں ہیں کیونکہ آئین میں درج اختیارات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک جج کے برابر ہوتے ہیں۔ اور ان پر جھوٹے الزامات لگانے، انہیں متنازع بنانے پر ان کے خلاف بات کرنے والے وزرا کو طلب کر کے توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ دلشاد کا کہنا ہے کہ اگر ان نوٹسز کے جواب میں وہ اپنے لگائے گئے الزامات کے بارے میں ثبوت فراہم نہ کرسکے اور توہین عدالت ثابت ہوگئی تو انہیں پانچ سال تک کے لیے نا اہل بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
