کیا ایک روز پہلے عید منا نے کا مشورہ پنکی پیرنی نے دیا تھا؟

شوال کے چاند سے متعلق کھڑے ہونے والے تنازعہ پر بحث کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور لوگوں کا الزام ہے کہ رویت ہلال کمیٹی نے حکومت کے دباؤ میں آکر ان کا ایک روزہ کھا لیا اس لیے انہیں ایک روز پہلے ہی اچانک عید منانا پڑ گئی۔ سوشل میڈیا صارفین اچانک عید منانے کی ذمہ داری خاتون اول بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی پر عائد کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پنکی پیرنی نے عمران خان کو بتا دیا تھا کہ اگر جمعہ کے روز عید منائی گئی تو ایک ہی روز دو خطبے حکمران پر بھاری ثابت ہو سکتے ہیں جیسا کہ جنرل ایوب خان کے ساتھ ہوا تھا لہذا عید جمعرات کو منائی جائے۔ چنانچہ رویت ہلال کمیٹی کو حکومتی فیصلے سے آگاہ کیا گیا اور اس نے علامہ طاہر محمود اشرفی کے کہنے پر مجبورا رات پونے بارہ بجے عید کا چاند ایک روز پہلے ہی اچانک برآمد کرلیا۔
دوسری جانب ڈائریکٹر اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بارہ مئی کو ٹیلی سکوپ سے بھی چاند دیکھنا ممکن نہیں تھا کیونکہ چاند نظر آنے کے لیے اسے آٹھ ڈگری پر ہونا چاہیے جبکہ پشاور میں یہ یہ چھ ڈگری سے بھی کم پر تھا لیکن پھر بھی رویت ہلال کمیٹی نے چاند نظر آنے کا اعلان کر دیا جو کہ ایک لطیفے سے کم نہیں۔ تاہم رویت ہلال کمیٹی کا پول اس کے اپنے ہی ایک ممبر کی آڈیو گفتگو نے بھی کھول دیا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ رویت ہلال کمیٹی پر چاند نظر آنے کا اعلان کرنے کے لیے حکومتی دباو تھا۔ چنانچہ چاند نظر آنے کا جو اعلان 12 مئی کو پشاور کی مسجد قاسم خان کے مفتی پوپلزئی 23 شہادتوں کی آڑ میں اندھیرا پھیلتے ہی کر چکے تھے، اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے مولانا عبدالخبیر آزاد کی سربراہی میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو چھ گھنٹے کی طویل مشقت سے گزرنا پڑا۔ تب جاکر یہ دریافت ہوسکا کہ عید کا جمعرات 13 مئی کو منانا ہی صائب ہوگا۔ تاہم فواد چودھری نے رویت حلال کمیٹی کا اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چاند کی پیدائش ہی نہیں ہوئی تو وہ نظر کیسے آگیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی مجبوری ہے تو علماء حضرات سیدھی طرح کہہ دیں کہ ہم نے عید سعودی عرب کے ساتھ ہی منانی ہے۔ چنانچہ اچانک عید کے معاملے پر سرکاری اور غیر سرکاری علماء بھی آمنے سامنے آ چکے ہیں۔
رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ تمام مسلمان ایک روزہ قضا رکھیں۔ مولانا راغب نعیمی کا بھی کہنا ہے عید کروانے کی ذمہ داری حکومت پرہوتی ہے لہٰذا شرعی طور پر جمعہ کو چھوڑ کر ایک روزے کی قضا کرلی جائے۔ تاہم وزیراعظم کے مشیر علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ چاند نظر آنے کا فیصلہ بالکل درست ہے اس لیے ایک اضافی روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں یے۔
پاکستان میں یہ بحث تو کبھی ختم نہیں ہوسکے گی کہ چاند دیکھنے اور اس کے مطابق اسلامی مہینے کے آغاز کا سب سے مناسب طریقہ کیا ہے۔ ماہرین موسمیات سال ہا سال سے مسلمان علما کو یقین دلارہے ہیں کہ ان کے پاس چاند کی ’پیدائش‘ سے لے کر اس کے ’ظہور‘ تک کی تمام تفصیلات سیکنڈوں کے حساب سے موجود ہوتی ہیں اور یہ حساب کسی خاص ماہ کا چاند کے رونما ہونے سے بہت پہلے لگایا جاسکتا ہے۔ اسی لئے بیشتر مسلمان ملکوں میں رویت ہلال کمیٹی نہیں ہوتی بلکہ سرکاری طور سے اسلامی سال کا کیلنڈر شائع ہوجاتا ہے جس کے مطابق روزے بھی رکھے جاتے ہیں اور عید بھی منائی جاتی ہے۔ ترکی جیسے سیکولر اقدار والے ممالک میں چاند دیکھنے کی رسمی کارروائی بھی ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ اس کے برعکس سعودی عرب میں گو کہ فیصلہ تو سائینس کے مطابق ہی کیا جاتا ہے تاہم قدامت پسند سماجی روایت کا احترام کرتے ہوئے خاص مواقع پر جیسا کہ رمضان یا شوال کا چاند دیکھنے کے حوالے سے خاص طور سے سرکاری اعلان بھی سامنے آجاتا ہے۔ عید کا چاند دیکھنے کا جو جتن البتہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان میں کرتی ہے، اس کی مثال شاید دنیا کے کسی کونے میں اور مسلمانوں کے کسی گروہ میں تلاش نہیں کی جاسکتی۔ اس کی ساری مثالیں پاکستان میں ہی ملتی ہیں اور چاند دیکھنے اور کسی خاص روز عید کرنے کے حوالے سے سارے تنازعات پاکستانی لوگوں سے ہی وابستہ ہیں۔ بیرون ملک مقیم مسلمانوں میں بھی پاکستانی اس حوالے سے ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔ ان کے مختلف گروہ اپنے عقیدہ اور گروہی تعلق کی بنیاد پر ہی عید منانے یا نہ منانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کچھ گروہ سعودی عرب کی پیروی کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور بعض گروہ چاند دیکھنا مستحب خیال کرتے ہیں اور اس کے لئے ان ’ذرائع یا شہادتوں‘ پر یقین کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جن کا تعین ان اسلامی مراکز کے امام یا عالم کرتے ہیں۔ متعدد ممالک میں موسمی حالات کی وجہ سے بھی چاند دیکھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن پاکستانی علمائے دین محض اس ایک وجہ سے سائینس کے سامنے ہتھیار پھینکنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
اس رویہ کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چئیرمین اور بریلوی مسلک کے ممتاز عالم مفتی منیب الرحمان نے پاکستان میں راسخ کرنے کی پوری کوشش کی ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کوئی سائینس دینی احکامات پر حاوی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے اس سادہ سے اصول کو ماننے سے انکار کیا کہ کہ سائینس دین میں مداخلت کی دعوے دار نہیں اور نہ ہی اس میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن اپنی ایجادات اور مہارت کے ذریعے وہ دین دار لوگوں کی سہولت کار ضرور ہوسکتی ہے۔ لیکن مفتی منیب الرحمان کا دعویٰ رہا کہ شرعی حکم کے مطابق جب تک انسانی آنکھ ہلال نہ دیکھے اس وقت تک کسی اسلامی ماہ کے آغاز کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی سخت گیر رویہ کی وجہ سے اس وقت کے وزیر سائینس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ساتھ ان کا تنازعہ اور بیانات کا تبادلہ بھی بہت مشہور ہؤاتھا۔ فواد چوہدری کا دعویٰ تھا کہ ان کی وزارت کے ماہرین پہلے سے چاند کی عمر اور دیکھے جانے کا وقت بتا سکتے ہیں۔ مولوی حضرات چاند دیکھنے کی مشقت نہ کیا کریں ۔ لیکن مفتی منیب انسانی آنکھ سے چاند دیکھنے کا شرعی حکم سناکر سائینس کو مسترد کرنے کے بعد توپ نما دوربینوں کے ساتھ رویت ہلال کمیٹی کے دیگر ارکان و معاونین کے ساتھ شہر کی کسی بلند عمارت پر چاند تلاش کرنے کی جد و جہد کرتے پائے جاتے۔
فواد چوہدری اب وزیر اطلاعات ہیں اور مفتی منیب الرحمان کو رویت ہلال کمیٹی کے عہدہ سے فارغ کرکے مولانا عبد الخبیر آزاد کو رویت ہلال کمیٹی کا چئیرمین بنایا جاچکا ہے۔ پاکستان میں غیر متوقع طور پر اچانک پاکستان عید الفطر منانے کا اعلان انہی کی بابرکت قیادت میں کئی گھنٹے کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اس اجلاس کے بارے میں کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ کوئی کہے گا کہ ملک بھر سے شہادتیں اکٹھی کرنے اور ان کی تصدیق کرنے میں وقت صرف ہوتا ہے اور کسی کا یہ دعویٰ ہوگا کہ اس اجلاس میں کسی ایسے نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش گئی کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یعنی حکومت بھی راضی رہے اور عید کا اہتمام بھی ’شریعت کے عین‘ مطابق ہوجائے۔
بات اگر شرعی احکامات اور ہر علاقے میں چاند دیکھنے تک محدود ہوتی تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو پشاور کے مفتی پوپلزئی سے کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ وہ روائیتی طور سے سعودی عرب کے ساتھ عید کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ اس مقصد سے وہ چاند دیکھنے کی شہادتیں بھی فراہم کرتے ہیں اور اپنی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد کرتے ہیں۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی اس طریقہ کو قومی یک جہتی کے منافی سمجھتے ہوئے یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ انہیں بھی ’مین اسٹریم‘ میں شامل کرلیا جائے اور عید کے حوالے سے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ مسجد بنانے سے روکا جائے۔ حالانکہ اگر عقیدے کے نام پر دیگر سب شعبوں میں اختلافات کے ساتھ جیا اور آگے بڑھا جاسکتا ہے تو مختلف اوقات میں عید منانے سے قومی یک جہتی کا اصول کیسے متاثر ہوسکتا ہے؟
اس سال بھی مفتی پوپلزئی کو راضی کرنے اور ملک بھر میں ایک ہی روز عید کا اہتمام کرنے کے لئے قبل از وقت کوششوں کا آغاز ہوگیا تھا تاہم بظاہر یہ کاوش بھی بارآور نہیں ہوئی کیوں کہ مفتی پوپلزئی نے سر شام ہی اپنی شہادتیں اکٹھی کرکے جمعرات کو عید کا اعلان کردیا تھا۔ تاہم مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اسی نتیجے پہنچنے کے لئے نصف شب تک انتظار کرنا پڑا جب ملک کے بیشتر لوگ تراویح کی نماز ادا کرکے سحری پر بیدار ہونے کے لئے سو چکے تھے۔ اگر شرعی احکامات کے مطابق کسی علاقے میں کوئی اسلامی مہینہ چاند دیکھے بغیر شروع نہیں ہوسکتا تو کسی ملک کی جغرافیائی حدود پر ان کا اطلاق نہیں ہونا چاہئے۔ نزول اسلام کے وقت ممالک کی موجودہ جغرافیائی تقسیم موجود نہیں تھی۔ اس اصول کو مان لیا جائے تو پھر ہر علاقے میں خود مختاری سے چاند دیکھنے اور عید منانے یا نہ منانے کا اہتمام کرنے کا طریقہ مروج ہو یا پھر سائینس کی رہنمائی میں یہ اختلاف اور مذہبی ڈھکوسلہ ختم کیا جائے تاکہ ہر سال عید کے موقع پر اغیار کو مسلمانوں کی حالت زار پر ہنسنے کا موقع فراہم نہ کیا جائے۔
فواد چوہدری رویت ہلال کمیٹی کے فیصلہ سے پہلے ہی اعلان کرچکے تھے کہ چاند بدھ کو نظر نہیں آ سکتا اس لئے عید جمعہ کو ہی ہوگی۔ ایک ٹوئٹ پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ اس وقت چاند کی عمر 13 گھنٹے 42 منٹ ہے لہذا چاند کا بدھ کو نظر آنا ممکن ہی نہیں۔ فواد نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ ’جن حضرات نے عید سعودیہ کے ساتھ منانی ہے، یہ ان کا آپشن ہے لیکن جھوٹ بول کر ماہ مقدس کا اختتام کرنا کہاں کی عقلمندی ہو گی‘۔
لیکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے وزیر اطلاعات کی پیش گوئی کو غلط ثابت کردیا اور جمعرات کو عید منانے کا اعلان کرکے بتا دیا کہ فواد چوہدری کی سائینس غلط ہے۔ آخر مولانا عبدالخبیر آزاد کو یہ بھی تو ثابت کرنا تھا کہ مفتی منیب کی جگہ انہیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا چئیرمین بنا کر وزیر اعظم نے دور اندیشی کا ثبوت دیا تھا۔ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے شاید اسی لئے فواد کے ٹوئٹ پر بیان دیا تھا کہ ’عید یا رمضان کا فیصلہ کرنا کسی وزیر یا حکومتی شخصیت کے لیے مناسب نہیں ہے۔ رویت کمیٹی کے فیصلے اہم دینی و شرعی حکم کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں قبل از وقت فیصلہ دینا دینی شعائر کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ حکومت کا متعین کردہ ادارہ اور جید علما ہلال کی رویت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ کسی حکومتی شخصیت یا وزیر کا کام نہیں ہے‘۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا عید کا اعلان اچانک ضرور آیا لیکن اس میں پیر نور الحق قادری کے فرمودات کی تائید بھی ہوگئی اور سائینس پر شریعت کی بالادستی قائم کرنے کا اعلان بھی ہوگیا۔ یقیناً ملک کے دین دار وزیر اعظم اس فیصلہ پر بے حد خوش ہوں گے۔ یاد رہے کہ جمعہ کو عید کا تنازعہ پہلی بار سابق فوجی حکمران اور عمران خان کے ممدوح ایوب خان کے دور میں سامنے آیا تھا۔ ساٹھ کے عشرے میں جمعہ کو پڑنے والی ایک عید کو ایوب خان کی حکومت نے ہفتہ پر منتقل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے صرف سرکاری طور سے منایا جا سکا تھا۔ پاکستانیوں کی اکثریت نے جمعہ کو ہی عید منا کر یہ واضح کیا تھا کہ وہ تو عید مرضی سے منائیں گے خواہ دو خطبے حکمران کے لئے بھاری ہی کیوں نہ پڑیں۔ اب جمعہ کی بجائے جمعرات کو عید الفطر کا اہتمام کرکے ایک بار پھر ملک کے حکمران کو ایک ہی روز میں دو خطبوں سے پیدا ہونے ولی ’مشکل‘ سے بچانے کا اہتمام کیا گیا تاکہ بقول بشری بی بی ان کا اقتدار خطرے میں پڑنے سے روکا جاسکے۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اس حد تک ضرور اپنا فریضہ بخوبی ادا کیا ہے لیکن اس اعلان سے ایک بار پھر یہ واضح ہوگیا ہے کہ توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی میں ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں دہائیوں پہلے تھے۔ کوئی نہیں جانتا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو سائینس کے برعکس ہلال عید کی شہادتیں تلاش کرنے کی تگ و دو کیوں کرنا پڑی۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ کوئی بھی حکومت دور اندیشی اور بہتر کارکردگی سے ہی عوام کا اعتماد حاصل کرسکتی ہے۔ پھر ایک روز میں دو خطبوں والے دن بھی مشکل پیدا نہیں کرتے۔ حکومت عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کررہی ہو تو رویت ہلال کمیٹی کے ہتھکنڈے بھی اسے نوشتہ دیوار سے نہیں بچا سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button