کیا بغیر پردے کے عورت ریپر کے بغیر ٹافی ہوتی ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کے نئے پاکستان میں اب بغیر پردے کے گھر سے نکلنے والی عورت کا موازنہ بغیر ریپر کے ٹافی سے کیا جانے لگا ہے جس کو ننگا دیکھ کر اس پر مکھیاں بھنبھنانے لگتی ہیں۔ ایسے تبصرے پاکستانی سوشل میڈیا پر تب سامنے آئے جب ایک ٹی وی رپورٹر نے ایک رپورٹ میں پردے اور بنا پردے کے عورت کی مثال ایک ٹافی سے دی۔ وہ ہاتھ میں کاغذ میں لپٹی ایک ٹافی اور بغیر ریپر کے ٹافی دکھاتا ہے اور پھر یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ جو ٹافی بغیر ریپر کے ہو گی اس پر جراثیم حملہ کریں گے لیکن جو ٹافی ریپر میں لپٹی ہو گی وہ یقینا محفوظ رہے گی۔ رپورٹر نے اس دوران عمران خان کے اس حالیہ انٹرویو کا حوالہ بھی دیا جس میں انھوں نے پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرد روبوٹ نہیں ہیں۔ اگر کسی خاتون نے کمم کپڑے پہنے ہوں گے تو اس کے مرد پر اثرات تو مرتب ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر انھیں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم نے ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کی وجوہات میں ایک وجہ بے پردگی اور فحاشی کو قرار دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر جہاں وزیراعظم کے بیان کے بعد خواتین نے اپنے تجربات بیان کیے کہ کیسے وہ مکمل لباس میں ہوتے ہوئے بھی ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں، وہیں عورت کا موازنہ ٹافی سے کرنے پر بھی صارفین رپورٹر پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارف ماریہ عامر نے لکھا: ’اب مجھے سمجھ آئی کہ نئے پاکستان میں مرد کی شناخت بطور روبوٹ اور عورت ٹافی کے طور پر ہو گی۔۔۔ ریپر میں لپٹی ہوئی۔‘ لیلیٰ زیدی نے لکھا: ’کیا یہ خود کو سن بھی پا رہے ہیں۔ جیسے کہ عورتیں پاکستان میں ننگی پھر رہی ہیں اور ان کی یہ بازاری، توڑ مروڑ کر پیش کی گئی یہ منطق کیسے وضاحت کرتی ہے کہ کیوں مرد، بچے، حتیٰ کہ مردہ عورتیں اور جانور نشانہ بن رہے ہیں۔ ریپ کے متعلق یہ خطرناک گفتگو کہ عورتوں کو کیسے کپڑے پہننے چاہیں، کو ختم کرنا ہو گا۔‘
ایک اور صارف نے لکھا: ’یہ کیا بیوقوفانہ منطق پیش کی جا رہی ہے اور بد قسمتی سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو پاکستان میں یہ ہی سکھایا جا رہا ہے۔‘
ایک اور خاتون نے لکھا: ’سکول میں ہمارے بائیولوجی کے ٹیچر بھی ہمیں ایسی ہی مثال دے کر دوپٹے سے سر ڈھانپنے پر مجبور کرتے تھے۔ یہ ہیں پاکستانی مرد اور ان کی بکواس مثالیں۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ: ’پاکستانی مرد اس قسم کی بے وقوفانہ منتطق لے کر تو آ جائیں گے لیکن خواتین، بچوں اور حتیٰ کے دیگر مردوں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کرنا نہیں چھوڑیں گے۔‘ تاہم اس موقع پر چند خواتین نے اپنے تجربات کا بھی ذکر کیا۔ ایک صارف نے لکھا: ایک مرتبہ کسی نے میرے لباس کی وجہ سے مجھے بنا کور کی لولی پاپ کہا۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گی۔‘ صحافی شازیہ نئیر نے بتایا کہ دفتر میں بھی خواتین کو ان کے لباس پر طرح طرح کے تبصرے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ پیسے پورے دیتی تو پورے کپڑے ملتے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ آج تو تم بہت چکنی لگ رہی ہو۔ بڑی سیکسی ڈریسنگ ہے۔‘
شازیہ نئیر کہتی ہیں کہ فیس بک پر بھی لوگ بہت عجیب و غریب کمنٹس دیتے ہیں جس کے بعد انھوں نے اب اپنی تصاویر ہی لگانا چھوڑ دی ہیں۔
تاہم شازیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کمنٹس کو اگنور کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں بہت سے لوگوں نے متعلقہ رپورٹر سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا یہ موصوف اپنی اس توجیح میں مردوں کو وائرس، جراثیم یا بیکٹیریا قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ نگار ضرار کھوڑو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’لوگ بات کرتے رہے ہیں کہ اس ملک میں عورت ہونا کیسا ہے لیکن کوئی یہ بات نہیں کر رہا کہ مرد ہونا کتنا مشکل ہے۔ کیا ہم چیونٹی ہیں جو کھلے ہوئے لالی پاپ کی جانب بڑھتی ہیں یا ہم بپھرے ہوئے کتے ہیں جو بچا ہوا گوشت کا ٹکڑا لینا چاہتے ہیں۔‘ رانیہ نامی صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں لکھا: ’تو یہ مان رہے ہیں کہ مرد وائرس ہوتے ہیں۔‘
