راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں FWO کے خلاف بھی تحقیقات

راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے پر کام کرنے والے آڈیٹرزاور محکمہ اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسران نے فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن یا ایف ڈبلیو او کو اندرونی ملی بھگت سے ایک پرائیویٹ کمپنی قرار دے کر پنڈی رنگ روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ دیے جانے کی تحقیقات شروع کردی ہیں.
یاد رہے کہ ایف ڈبلیو او ملک کا سرکردہ انجینئرنگ ادارہ ہے جو قومی تعمیر کے اہم منصوبوں پر کام کرتا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقات کے دوران تفتیش کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ اس پروجیکٹ کے کنسلٹنٹ میسرز زیرک پرائیویٹ لمیٹڈ نے منصوبے کے مجوزہ انجینئرنگ ڈیزائن اور اس کی الائنمینٹ کے بارے میں معلومات ٹینڈر دیے جانے سے پہلے ہی ایف ڈبلیو او کو فراہم کر کے رازداری کی شق کی خلاف ورزی کی۔ یاد رہے کہ اربوں روپے کے اس پروجیکٹ کا ٹھیکہ حاصل کرنے کیلئے ایف ڈبلیو او نے بھی بولی میں حصہ لیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیقات کے دوران انسداد بدعنوانی کے تحقیقات کاروں نے ایف ڈبلیو او کو ایک نجی فریق قرار دیا تھا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ آر تھری کے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ٹھیکے دار میسرز ایف ڈبلیو او نے 4؍ اپریل 2020ء کو آر تھری کی تعمیر کیلئے بے طلب تجویز پیش کی جس میں انجینئرنگ کی وہی ڈرائنگز اور ماحولیات کی تجزیاتی رپورٹ شامل تھی جو میسرز زیرک نے جمع کرائی تھی۔ مزید برآں، الائنمنٹ کی تجویز بھی وہی تھی جو میسرز زیرک نے 4؍ جنوری 2020ء کو جمع کرائی تھی۔ اس میں اٹک لُوپ اور پسوال زگ زیگ شامل تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میسرز زیرک نے آر تھری کا مفصل ڈیزائن ملی بھگت سے پہلے ہی تیسرے فریق کو دے دیا تھا دیا تھا۔ لہازا ٹھیکے کے ضابطوں کی اس سنگین خلاف ورزی کی وجہ سے رازداری شق کی خلاف ورزی ہوئی اس لئے کمپنی کیخلاف سخت کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پنڈی رنگ روڈ منصوبے کا ٹینڈر ملی بھگت سے ایف ڈبلیو او کو دینے کی تحقیقات آڈیٹرز کے علاوہ اینٹی کرپشن کے تحقیقات کار بھی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سابق کمشنر راولپنڈی کے ہمراہ ان افسران سے ایف ڈبلیو اے کے حوالے سے تین سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ منصوبے کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ میں تبدیل کرنے اور ایف ڈبلیو او کی مدد کرنے میں آپ کا کیا مفاد تھا نہ تو پنجاب حکومت نے کوئی ایسی تجویز پیش کی اور نہ ہی اس کی اجازت دی؟ دوسرا سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایف ڈبلیو او کی جانب سے جو بے طلب تجویز پیش کی گئی ہے اس میں تمام تر اعداد و شمار اور تفصیلات زیرک کی استعمال کی گئی ہیں؟ ایسا کیسے ہوا؟ تیسرا سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ ایف ڈبلیو او کی بے طلب تجویز 3 جولائی 2020کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی جس میں منصوبے کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ موڈ میں آپ نے تبدیل کرنے اور آر او ڈبلیو بینک کے ذریعے حاصل کرنے کی حمایت کی گئی؟ لیکن پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے آپ نے بورڈ کو کیوں نہیں بتایا کہ منصوبے کو قرضے کے ذریعے پراسیس کیا جائے گا؟ اگر بینک کے ساتھ اُس وقت مذاکرات مکمل ہو جاتے اور بینک فنڈز فراہم کرنے سے انکار کر دیتا تو کیا ہوتا؟ اگر نہیں تو پروجیکٹ کو آدھے راستے میں کیسے چھوڑا جا سکتا ہے اور پروجیکٹ ڈائریکٹر اس کی حمایت اس وقت کیسے کر سکتے ہیں جب پروجیکٹ کو قرضے سے مکمل کرنے کیلئے رقم فزیبلٹی پر خرچ کی گئی ہو؟
