ٹرمپ انتظامیہ نے دفاعی ضروریات کیلئے کانگریس سے 87 ارب ڈالر مانگ لیے

ایران کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ نے دفاعی ضروریات کے لیے کانگریس سے 87 ارب ڈالر مانگ لیے۔
ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کے باعث امریکی دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے آئندہ فوجی کارروائیوں اور دفاعی ضروریات کے لیے کانگریس سے تقریباً 87 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی درخواست کر دی ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کی فنڈز مختص کرنے والی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران سے متعلق فوجی آپریشنز پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس تخمینے میں 30 ستمبر تک متوقع اخراجات بھی شامل ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں دفاعی بجٹ میں کمی کے بجائے امریکی فوج کی استعداد میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطلوبہ فنڈنگ فراہم نہ کی گئی تو امریکا کو سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیرِ دفاع نے خفیہ سکیورٹی بریفنگ کے بعد سینیٹ کی بجٹ کمیٹی کے سامنے اضافی فنڈز کی باضابطہ درخواست پیش کی، جس میں پینٹاگون کی مالی ضروریات اور عالمی سطح پر درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل بجٹ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
دوسری جانب، سینیٹ کی فنڈز مختص کرنے والی کمیٹی میں پیٹ ہیگسیتھ کی پیشی کے دوران مظاہرین نے کارروائی میں مداخلت کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا،’’ایران اور فلسطین میں ہمارے بچوں پر بمباری بند کرو، یہ غیر قانونی ہے‘‘۔
5اگست احتجاج کی کال، پی ٹی آئی قیادت اگر مگر کا شکار کیوں؟
احتجاج کے باعث کمیٹی کی کارروائی کئی بار معطل کرنا پڑی۔ مظاہرین کے نہ رکنے پر کمیٹی کے چیئرپرسن نے انہیں اجلاس سے باہر نکالنے کے لیے پولیس کو طلب کر لیا۔
