5اگست احتجاج کی کال، پی ٹی آئی قیادت اگر مگر کا شکار کیوں؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید کو 5 اگست 2026 کو تین سال مکمل ہونے جا رہے ہیں، مگر اس اہم موقع پر احتجاج کے حوالے سے پارٹی کی حکمتِ عملی اب تک غیر واضح دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف قیادت ملک گیر احتجاج، جلسوں اور اسٹریٹ موومنٹ کے دعوے کر رہی ہے تو دوسری جانب احتجاج کی نوعیت، دورانیے، قیادت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں کارکنوں اور عوام کے لیے یہ سوال بدستور موجود ہے کہ آیا 5 اگست صرف ایک روزہ احتجاج تک محدود رہے گا یا اس دن سے حکومت مخالف مسلسل تحریک کا آغاز ہوگا۔
خیال رہے کہ پارٹی قیادت کی جانب سے عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان تو کیا جا چکا ہے، تاہم پارٹی کی جانب سے اس احتجاج کی مکمل اور متفقہ حکمتِ عملی اب تک سامنے نہیں آسکی۔ مختلف رہنماؤں کے بیانات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ احتجاج کی نوعیت، دورانیہ، قیادت اور آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی پر ابھی تک مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔پارٹی کے بعض رہنما 5 اگست کو ملک گیر اسٹریٹ موومنٹ کا نقطۂ آغاز قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ رہنماؤں کے مطابق حتمی فیصلے ابھی مشاورت کے مراحل میں ہیں۔ دوسری جانب کچھ رہنما صرف ایک روزہ احتجاج کی بات کرتے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ احتجاج 5 اگست کے بعد بھی مسلسل جاری رکھا جائے گا۔ انہی متضاد بیانات نے پارٹی کارکنوں اور عوام کے لیے صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق گزشتہ برس بھی پی ٹی آئی اپنی احتجاجی حکمتِ عملی کو مؤثر انداز میں عملی شکل نہیں دے سکی تھی۔ اس وقت بھی 5 اگست، جو پاکستان میں یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے، احتجاج کے لیے منتخب کرنے پر پارٹی کے اندر اختلافِ رائے سامنے آیا تھا۔ بعض رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ قومی اہمیت کے اس دن سیاسی احتجاج مناسب نہیں ہوگا، جس کے باعث احتجاجی مہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکی۔
تاہم پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پارٹی نے عمران خان کی رہائی کے لیے مذاکرات سمیت مختلف سیاسی راستے اختیار کیے، لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق اب 5 اگست کو عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر ایک بڑا سیاسی ایونٹ منعقد کیا جائے گا، جس کی نوعیت ماضی کے احتجاج سے مختلف ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں جلسوں، ریلیوں، احتجاج، کنونشنز اور سیمینارز کی مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن پر سیاسی کمیٹی اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ادھر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لیے نامزد علامہ ناصر عباس کا مؤقف اس سے زیادہ جارحانہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق 5 اگست کو صرف احتجاج ہی نہیں بلکہ ملک گیر اسٹریٹ موومنٹ کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جو اس کے بعد بھی مسلسل جاری رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی اس تحریک کا حصہ بنیں گی، جبکہ خیبرپختونخوا میں احتجاجی سرگرمیوں کی قیادت صوبائی قیادت کرے گی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اس حوالے سے اہم مینڈیٹ حاصل ہے، اسی لیے احتجاج کی حتمی حکمتِ عملی انہی شخصیات کی مشاورت سے طے کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارکنوں کے دباؤ کے بعد پارلیمانی پارٹی نے اصولی طور پر چاروں صوبوں میں جلسے اور احتجاجی سرگرمیاں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ظلم اور جبر کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی حالات میں پارٹی احتجاج ضرور کرے گی، تاہم اس تحریک کی کامیابی کے لیے عوامی شرکت ناگزیر ہوگی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان نے بھی اعلان کیا ہے کہ 5 اگست سے نئی احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش جاری ہے، تاہم حتمی فیصلے کے لیے مشاورت کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اسی طرح پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ یہ طے ہے کہ 5 اگست کو پورے ملک میں آئینی اور پرامن احتجاج ہوگا، مگر یہ فیصلہ ابھی باقی ہے کہ کس شہر میں کس نوعیت کی سرگرمی ہوگی۔ ان کے مطابق احتجاج عمران خان کی رہائی تک جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ پی ٹی آئی کی مجموعی قیادت 5 اگست کو احتجاج کے انعقاد پر متفق دکھائی دیتی ہے، لیکن مختلف رہنماؤں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ احتجاج کے خدوخال، قیادت، دورانیہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر مکمل یکسوئی ابھی پیدا نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ تین سالہ قید کے اس اہم سیاسی موڑ پر بھی پارٹی کی جانب سے کوئی ایک جامع اور واضح لائحۂ عمل سامنے نہیں آ سکا، جس سے کارکنوں اور سیاسی حلقوں میں بے یقینی برقرار ہے۔
