بگٹی حکومت خطرے میں، کیا واقعی بلوچستان میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟

اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں میں ایک بار پھر بلوچستان حکومت کی تبدیلی کی افواہیں زوروں پر ہیں، جس کے بعد بلوچستان میں امن و امان، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے سوالات ایک بار پھر قومی سیاست کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی اہم ملاقاتوں نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ وفاقی سطح پر بلوچستان کے مسائل کے سیاسی حل پر نئی مشاورت شروع ہو رہی ہے۔ اگرچہ ان ملاقاتوں کو حکومت میں تبدیلی سے جوڑنے کی تردید کی جا رہی ہے، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بحران پر سنجیدہ سیاسی مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔

مبصرین کے مطابق بلوچستان ایک بار پھر قومی سیاسی بحث کا محور بن گیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، سیاسی بحران، معاشی مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نیشنل پارٹی کے مطابق ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تمام ملاقاتوں میں اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا ہے، جس کا پائیدار حل طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مذاکرات، جمہوری عمل اور اعتماد سازی میں مضمر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام، انتخابی عمل میں شفافیت، آئینی اصلاحات، بارڈر ٹریڈ کی بحالی، نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع اور جمہوری حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں بلوچستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور سیاسی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے بلوچستان کے منتخب نمائندوں سے مزید مشاورت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صوبے میں پائیدار امن کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی یا حکومت میں نیشنل پارٹی کی شمولیت جیسے معاملات زیرِ بحث نہیں آئے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ انہیں ماضی میں حکومت میں شمولیت کی دعوت ضرور دی گئی تھی، تاہم اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں کو محض سیاسی ملاقاتوں کے بجائے بلوچستان کے بحران پر اعلیٰ سطحی مشاورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ماضی میں بھی مفاہمتی سیاست اور مذاکراتی عمل کے حامی رہے ہیں، اسی لیے موجودہ حالات میں وہ وفاقی اور سیاسی قیادت کو بلوچستان کے زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سینئر مبصرین کے مطابق بلوچستان میں پائیدار امن صرف سکیورٹی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے سیاسی جماعتوں، وفاق، صوبائی قیادت، نوجوانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان بامعنی مکالمہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی اعتماد بحال نہ کیا گیا تو محض انتظامی یا حکومتی تبدیلیاں دیرپا نتائج نہیں دے سکیں گی۔

دوسری جانب مختلف حلقوں میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی یا نئی سیاسی صف بندی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسی کسی پیش رفت کے واضح شواہد موجود نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ملاقاتوں کا بنیادی مقصد بلوچستان کے مسائل کو وفاقی قیادت کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دینا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور سیاسی استحکام کا راستہ جامع قومی مکالمے، عوامی اعتماد کی بحالی، معاشی مواقع کی فراہمی اور آئینی و جمہوری عمل کے تسلسل سے ہی ہموار ہو سکتا ہے۔ اگر وفاق اور صوبے کی سیاسی قیادت اس سمت میں مشترکہ پیش رفت کرتی ہے تو یہ بلوچستان میں دیرپا استحکام کیلئے اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button