کیا بلوچستان کے وزیر خزانہ ڈاکوؤں کے سرپرست ہیں

25 اور 26 مئی 2020 کی درمیانی شب بلوچستان کے علاقی کیچ میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک خاتون کے قتل اور چار سالہ بچی کے زخمی ہو جانے کے بعد بلوچستان کے کئی شہروں میں مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں جو افراد ملوث ہیں، انہیں صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی کی سرپرستی حاصل ہے لہذا فوری طور پر ان ڈاکوؤں کے سرپرست کو پکڑ کر ایسے واقعات کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع کیا جائے۔
صوبہ بلوچستان کے دور دراز سرحدی علاقے کیچ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں خونی ڈکیتی کی واردات نے صوبے میں منظم جرائم پیشہ گروہوں اور ان کی سیاسی طاقت کے بارے میں ایک ایسی بحث شروع کر دی ہے جس پر طویل عرصے سے دبے لفظوں میں بات تو ہو رہی تھی لیکن عوامی سطح پر اس بارے میں پہلی بار سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔
گذشتہ چند روز سے صوبے کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چل رہے ہیں اور سیاسی اور سماجی رہنما اس بارے میں بیانات جاری کر رہے ہیں اور ان سب سرگرمیوں کا محور ہے، چار سالہ بچی برمش۔برمش کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت کے قریب 20 سے 25 کلومیٹر دور ایک دیہی علاقے ڈھننوک سے ہے۔ 25 اور 26 مئی کی درمیانی شب پیش آنےوالے ڈکیتی مزاحمت واقعے میں فائرنگ سے زخمی ہونے والی چار برس کی برمش اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور وہ صحتیاب بھی ہو رہی ہیں لیکن اسی ڈکیتی کی واردات جس میں برمش زخمی ہوئیں، ان کی والدہ ہلاک ہو گئی تھیں۔برمش اور ان کی والدہ کے ساتھ رونما ہونے والے واقعہ کے خلاف نہ صرف بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں احتجاج ہو رہا ہے بلکہ گزشتہ کئی روز سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’جسٹس فار برمش‘ ٹرینڈ بھی کرتا رہا۔
جرائم کے دیگر واقعات میں احتجاج ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا جاتا ہے لیکن یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے اصل ملزمان گرفتار ہونے کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں خواتین کی شرکت بھی نمایاں ہے۔اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض ایسی تصاویر سامنے آئیں جن میں ملزمان میں سے بعض بلوچستان کی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور وزیر خزانہ میر ظہوربلیدی کے ساتھ بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔اس واقعے کے حوالے سے ضلع کیچ میں آل پارٹیز کے نام پر احتجاج کیا جارہا ہے جن میں زیادہ تر سیاسی اور مذہبی جماعتیں شامل ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے زیراہتمام احتجاج کیا جارہا ہے۔
احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا یہ مؤقف ہے کہ کیچ سمیت مکران کے بعض دیگر علاقوں میں ڈکیتی، راہزنی سمیت متعدد دیگر واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کے پیچھے عام جرائم پیشہ لوگ نہیں ہیں بلکہ مسلح گروہوں کے لوگ ہیں۔سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ ان وارداتوں کے پیچھے منظم گروہ ہیں جن کو پشت پناہی حاصل ہے۔انھوں نے کہا کہ مکران کے علاقے میں ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور خوف کی ایک فضا ہے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما حلیم بلوچ کے مطابق انھوں نے بتایا کہ اگر کوئی دکاندار ان سے پیسوں کا مطالبہ کرے تو یہ اسے اسلحہ دکھا کر بے عزت کرتے ہیں اور بعض کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور تشدد بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے کیچ سمیت مکران ڈویژن میں لوگ ایک پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں اور آل پارٹیز کا یہ مطالبہ ہے کہ اس صورتحال کا خاتمہ کیا جائے۔
بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے کسی مسلح گروہ کی حمایت کرنے کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔بلیدی کہتے ہیں کہ وہ سیاسی کارکن اور عوامی نمائندے ہیں۔ ان سے دن میں کئی لوگ ملتے اور ساتھ میں تصاویر بھی بنواتے ہیں تاہم ان کا گرفتار ملزمان یا کسی مسلح گروہ یا سے کوئی تعلق نہیں۔
