کیا بلوچ عسکریت پسندوں کی ٹھکائی شروع ہونے والی ہے؟

سابق نگران وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر سرفراز بگٹی جمعے کو بلا مقابلہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوچکے ہیں۔ سرفراز بگٹی شرپسندوں سرکسی قسم کے مذاکرات کی بجائے طاقت کے استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مبصرین کا ماننا ہے کہ سرفراز بگٹی کے وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد مسلح تنظیموں کی ٹھکائی میں شدت آئے گی۔مبصرین کے مطابق’سرفراز بگٹی مفاہمت کے بجائے مسلح تنظیموں کو عوام کا خون بہانے کا ذمہ دار سمجھ کر طاقت کے استعمال کے قائل ہیں۔ ان کے وزیراعلٰی بننے سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ شاید ریاست بات چیت کی بجائے مسلح تنظیموں کے خلاف طاقت کے استعمال کو زیادہ قابل عمل سمجھتی ہے۔‘ اب دیکھنا ہے کہ سرفراز بگٹی وزیراعلٰی بن کر اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں یا پھر نئی حکمت عملی اپنائیں گے۔خیال رہے کہ سرفراز بگٹی ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ سینیٹر بننے کے بعد نگران حکومت کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔
سرفراز بگٹی 1981 میں بگٹی قوم کے ممتاز قبائلی سیاسی رہنما میر غلام قادرمسوری بگٹی کے ہاں پیدا ہوئے۔ میر سرفراز بگٹی نے لارنس کالج مری سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ان کے والد میرغلام قادر مسوری بگٹی نے 1988 میں پیپلز پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی۔ میر سرفراز بگٹی سال 2013 میں پہلی بار رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے۔سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواب ثنا اللہ زہری کی حکومتوں میں سرفراز بگٹی نے بحیثیت وزیرداخلہ اپنی خدمات پیش کیں۔2018 کے عام انتخابات میں میر سرفرازبگٹی نے حصہ لیا تاہم انتخابات میں ناکام ہوئے۔وہ 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے اور سینیٹ میں بلوچستان کی نمائندگی کی۔ 2021 میں دوبارہ سینیٹر منتخب ہو کر ایوان بالا کا حصہ بنے۔تاہم 2023 میں بننے والے نگران سیٹ اپ میں بحیثیت وفاقی وزیر داخلہ اپنی خدمات پیش کی۔
2024 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے اور اب وہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوچکے ہیں۔سرفراز بگٹی کے والد سابق گورنر اور سابق وزیراعلٰی بلوچستان نواب اکبر بگٹی کے اتحادی تھے۔ تاہم 80 کی دہائی کے آخر میں ان کے مخالف بن گئے اور اس وقت بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخ کلپر سے تعلق رکھنے والے امیر حمزہ کلپر اور نواب بگٹی کے رشتے دار میر حمدان راہیجہ بگٹی کے ساتھ مل کر نواب اکبر بگٹی کے خلاف سیاسی اتحاد بنایا۔اس سے قبل نواب اکبر بگٹی اور ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر اہم افراد قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر بلامقابلہ منتخب ہوتے آ رہے تھے، لیکن سنہ 1988 کے انتخابات میں غلام قادر بگٹی اور ان کے سیاسی اتحادیوں نے پہلی بار نواب اکبر بگٹی کو چیلنج کیا۔
اس طرح سرفراز احمد بگٹی کا خاندان نواب اکبر بگٹی کے سیاسی مخالفین کے طور پر ابھرا اور آج تک نواب بگٹی اور ان کے خاندان کے درمیان یہ سیاسی اور قبائلی مخاصمت جاری ہے۔ حالیہ انتخابات میں بھی انہوں نے نواب اکبر بگٹی کے پوتے گہرام بگٹی کو شکست دی ہے۔خیال رہے کہ نواب اکبر بگٹی سے مخاصمت بڑھنے کے بعد سرفراز بگٹی کا خاندان ملتان اور ڈیرہ غازی خان منتقل ہو گیا۔ سنہ 2002 کی دہائی کے اوائل اور وسط میں جب نواب اکبر بگٹی اور پرویز مشرف حکومت کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے تو سرفراز بگٹی اور ان کے خاندان نے حکومت کی حمایت کی۔نواب اکبر بگٹی نے حکومت کی حمایت اور ڈیرہ بگٹی میں فورسز کی آمد کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے قبائلی لشکر بھیج کر سرفراز بگٹی کے والد، بڑے بھائی اور چچا کو ڈیرہ بگٹی کے علاقے پھیلاوغ سے پکڑ کر کئی ماہ تک نجی جیل میں قید رکھا۔تاہم مارچ 2005 میں نواب اکبر بگٹی کے خلاف سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کی اور ان کے قلعے کو راکٹوں اور بھاری اسلحے سے نشانہ بنایا تو نواب اکبر بگٹی علاقہ چھوڑ کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ اس طرح سرفراز بگٹی کے والد اور باقی رشتے داروں کو رہائی مل گئی۔
بعد ازاں سرفراز بگٹی کی فیملی کے سیکیورٹی فورسز سے اختلافات پیدا ہو گئے۔خود سرفراز بگٹی یہ کہہ چکے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے انہی اختلافات کی بنا پر انہیں اور ان کے والد کو گرفتار کیا اور کئی ماہ تک نامعلوم مقام پر رکھا۔ اس طرح خود سرفراز بگٹی اور ان کے والد بھی لاپتہ افراد میں شامل رہے ہیں۔‘سرفراز بگٹی سنہ 2013 کے انتخابات میں پہلی بار آزاد حیثیت سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر ن لیگ میں شامل ہوئے۔‘وہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سربراہی میں مسلم ن لیگ، نیشنل پارٹی اور پشتونخوا میپ کی مخلوط حکومت میں وزیر داخلہ بنے تو سیاسی منظر نامے پر نمایاں ہوئے۔باقی وزرا اور حکومتی حکام کے برعکس سرفراز بگٹی بلوچ مسلح تنظیموں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کھل کر بولتے رہے اور لاپتہ افراد کے حوالے سے بھی سخت گیر مؤقف رکھا۔ اس طرح انہیں بلوچستان کی سیاست میں اسٹیبلشنٹ نواز سیاستدان کی حیثیت سے شہرت ملی۔
سرفراز بگٹی سنہ 2018 کے اوائل میں نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور ن لیگ میں بغاوت کر کے بلوچستان عوامی پارٹی باپ کی تشکیل میں پیش پیش رہے۔سنہ 2018 کے عام انتخابات میں باپ کی حکومت بنی تاہم سرفراز بگٹی ڈیرہ بگٹی سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر نواب اکبر بگٹی کے پوتے گہرام بگٹی سے شکست کھا کر صوبائی اسمبلی سے باہر ہو گئے۔تاہم وہ ستمبر 2018 میں سینیٹ کی ایک خالی نشست پر ضمنی انتخاب میں کامیاب ہو کر سینیٹر منتخب ہوئے۔ اور 2021 میں باپ کے ٹکٹ پر چھ سال کے لیے دوبارہ سینیٹر بنے۔ وہ ایوان بالا کی قائمہ کمیٹیوں برائے امور داخلہ، خارجہ، پیٹرولیم اور استحقاق کمیٹیوں کے رکن رہے۔سرفراز بگٹی اگست 2023 میں انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں نگراں وفاقی وزیر داخلہ بنے تاہم دسمبر کے وسط میں انتخابی شیڈول کے اعلان سے صرف چند گھنٹے پہلے انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑ کر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پی بی 10 ڈیرہ بگٹی سے دوبارہ بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے۔
مبصرین کے مطابق سرفراز احمد بگٹی اور نواب اکبر بگٹی کے خاندان کے درمیان چار دہائیوں سے چلی آ رہی سیاسی اور قبائلی جنگ میں سنہ 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی موت کے بعد تشدد کا عنصر واضح دیکھا گیا۔نومنتخب وزیراعلٰی کے قریبی حلقوں کے مطابق سرفراز بگٹی پر اب تک 17 حملے ہو چکے ہیں۔سرفراز بگٹی اپنے اور اپنے قریبی ساتھیوں پر ہونےوالے حملوں کے لیے نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ بارہا الزام عائد کر چکے ہیں کہ براہمداغ بگٹی نے بلوچ ری پبلکن آرمی کے نام سے مسلح تنظیم بنا کر نہ صرف ریاستی اداروں اور اہداف بلکہ اپنے قبائلی مخالفین کو بھی نشانہ بنایا۔دوسری جانب نواب بگٹی کا خاندان سرفراز بگٹی پر اپنے مخالفین کے خلاف ریاستی اور حکومتی حمایت سے نجی ملیشیا چلانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
