فضل الرحمان، نواز شریف اور عمران خان کے درمیان صلح کرائیں گے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے کہا ھے کہ پاکستان میں جاری بحران کا سیاسی، جمہوری اور عوامی حل نہ سپریم کورٹ نکال سکتی ہے اور نہ ہی انتظامیہ۔ عوام نے ووٹ دے کر اپنا فرض ادا کردیا اب منتخب نمائندوں کا فریضہ ہے کہ وہ ملک کو بحرانوں سے نکالیں۔ نواز شریف عمران خان , آصف زرداری اور محمود خان اچکزئی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں مولانا فضل الرحمٰن تحریک انصاف اور نون لیگ کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔اپنے ایک کالم میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ شاید کسی کو بھی اس حقیقت سے انکار نہ ہو کہ ہلڑ بازی، گالیاں، طعنے، نعرے بازی، جذباتیت اور انتہا پسندی سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ سیاستدانوں نے اپنا کافی ٹھٹھا اڑوا لیا ، اب بحرانوں کے قابل عمل اور سب کے لئے قابل قبول سیاسی حل کی طرف آنا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں اس وقت سب سے بڑا اختلافی مسئلہ الیکشن دھاندلی کا ہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین کا خیال ہے کہ ان کی پارٹی اکثریت سے جیتی ہے اور اس کے ساتھ دھاندلی کرکے ان کی نشستیں کم کردی گئی ہیں۔ تحریک اپنا یہ مقدمہ الیکشن ٹریبونلز لے گئی ہے اور بالآخر یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ کی طرف ہی جائے گا۔ اس معاملے کی انکوائری کے لئے پارلیمان کی کل جماعتی کمیٹی بنائی جانی چاہیے جس کا سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو بنایا جائے۔ کمیٹی میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، اور نون لیگ کے ارکان بھی شامل ہوں ۔ مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت پرتحریک انصاف اور نون لیگ کا اتفاق آسانی سے ہو سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن طالبان کی طرف جھکائو کے باوجود جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ دھاندلی کے مسئلے کا حل عدالتوں اور انتظامیہ نے نکالا تو ایک نہ ایک فریق کو شکایت ہوگی اور وہ اس فیصلے کو نہیں مانے گا یوں یہ معاملہ کبھی حل نہ ہوگا۔ اگر قومی اسمبلی کل جماعتی کمیٹی کسی نتیجے پر پہنچتی ہے تو اس کا فیصلہ سب کے لئے قابل قبول ہوگا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ماضی میں نواز شریف نے پانامہ کیس کی انکوائری پارلیمانی کمیٹی کے پاس لے جانے کی بجائے سپریم کورٹ سے کروانے کو ترجیح دی جس سے جسٹس کھوسہ کو موقع مل گیا اور انہوں نے جائز ناجائز طریقے سے نواز شریف کو نااہل قرار دلوایا ۔ اب بھی اگر سپریم کورٹ نے دھاندلی کے الزامات مسترد کردیئے تو عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے یہ فیصلہ ناقابل قبول ہوگا، گویا پرنالہ وہیں رہےگا۔ہلڑبازی، شور شرابااور گالی گلوچ جاری رہے گا۔ مہذب قومیں بحرانوں کا حل نکالتی ہیں ہمیں بھی اپنے مسئلوں کا حل نکالنا چاہیے اور پھر سب کو اسے ماننا چاہیے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج کا جو بھی نظام چل رہا ہے یہ 1973ء کا آئین جو ساری جماعتوں نے قومی اسمبلی میں بیٹھ کر طے کیا تھا اسی لئے اس آئین پر آج تک سب کا اتفاق ہے۔ اٹھارویں ترمیم پر بھی سب جماعتوں نے اتفاق رائے کیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن بھی قومی اسمبلی میں سب جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس بحران کا سیاسی، جمہوری اور عوامی حل نہ سپریم کورٹ نکال سکتی ہے اور نہ ہی انتظامیہ، اس کا حل صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں اور سب جماعتوں کے اراکین اتفاق رائے سے نکال سکتے ہیں

سہیل وڑائچ تجویز پیش کرتے ہیں کہ کہ قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں سپیکر کل جماعتی کمیٹی کا اعلان کریں، نظام کو چلانا ہے تو وزیر اعظم شہباز شریف اس کی تائید کریں اور لیڈر آف دی اپوزیشن اس سے اتفاق کریں۔ اس اقدام سے اہل سیاست اور منتخب اراکین کی ساکھ بھی بحال ہوگی اور مستقبل کا راستہ بھی نکلے گا۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال بھی بحرانوں سے نکلنے کا حل پارلیمان کے ذریعے سے ہی سمجھتے تھے ہمیں بھی اسی طرف جانا چاہیے اگر نومنتخب وزیراعظم یہ اقدامات لے لیں تو ملک میں یک لخت سکون آ جائے گا اور پھر ہم معاشی استحکام کی طرف بڑھ سکیں گے۔ یہ کمیٹی بناتے وقت سب جماعتوں کے لئے اس کے فیصلے کو ماننے کا پابند بھی بنانا چاہیے ۔ فرض کریں کہ تحریک انصاف کا دھاندلی کا الزام درست نکلتا ہے تو شہباز شریف کو مستعفی ہو کر تحریک انصاف کی حکومت بننے دینی چاہیے اور اگر تحریک انصاف کا الزام غلط نکلتا ہے تو پھر انہیں شہباز شریف کو وزیراعظم تسلیم کرنا ہوگا۔فرض کریں کہ یہ بحران حل نہیں ہوتا تو اسی طرح ہلڑبازی اور شور شرابا جاری رہے گا، نہ قانون سازی ہو سکے گی اور نہ پالیسی سازی۔ایس آئی ایف سی کے فیصلوں کو بھی منتخب نمائندوں کی تائید کی ضرورت ہے اگر یہ تائید نہیں ملتی تو نہ معیشت مستحکم ہوگی اور نہ سیاست۔ اور اگر سیاست مستحکم نہیں ہوتی تو بیرونی سرمایہ کاری کیسے ہوگی؟ ہم پچھلے کئی ماہ سے سن رہے کہ مڈل ایسٹ سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی ابھی تک تو وہاں سے پھوٹی کوڑی نہیں ملی۔ اگر ملک کے اندر معاملات درست نہ ہوئے تو دنیا میں کوئی بھی ہمیں کچھ نہیں دے گا۔ پہلے ہمیں خود کچھ کرکے دکھانا ہوگا تبھی ہمارے دوست ممالک بھی ہماری مدد کے لئے تیار ہوں گے؟۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو ہمیشہ سے یہ گلہ رہا ہے کہ مقتدرہ اور عدلیہ کی مداخلت کی وجہ سے نظام چل نہیں پاتا، سیاسی استحکام قائم نہیں ہوتا، اسی لئے معاشی مسائل جنم لیتے ہیں۔ مقتدرہ اور عدلیہ کو اس بار ضبط کرکے سیاسی جماعتوں کو مفاہمت کی ترغیب دینی چاہیے اور اگر پارلیمان کی کل جماعتی کمیٹی دھاندلی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتی ہے تو اسے سب کو مان لینا چاہیے۔ مقتدرہ اور عدلیہ کا وجود بھی ریاست کا مرہون منت ہے اگر ملک عدم استحکام اور افراتفری کا شکار رہا تو بالآخر اس کے منفی اثرات ان اداروں تک بھی پہنچیں گے اور پھر ریاست میں وہ توڑ پھوڑ ہوگی کہ الامان والحفیظ. . .
ہم نے ماضی میں بہت غلط فیصلے کئے ہیں اب اہل سیاست کو آگے بڑھ کر ایک فیصلہ اپنی محبت اور نفرت کو ایک طرف رکھ کر ملک کے لئے بھی کرنا چاہیے۔ نواز شریف سب سے تجربہ کار سیاستدان ہیں وہ اس حوالے سے سبقت لیں ۔ عمران خان ذاتی طور پر بہت مقبول ہیں وہ بھی اس حوالے سے مثبت فیصلے کریں۔ آصف زرداری صدر پاکستان بننے والے ہیں وہ بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن تحریک انصاف اور نون لیگ کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی پر بھی دونوں فریقین کا اعتماد ہے وہ الیکشن دھاندلی کے لئے منصف بنائے جا سکتے ہیں۔ اہل سیاست سیاسی اور جمہوری مستقبل کے لئے فیصلے خود اپنے ہاتھوں میں لیں وگرنہ ان کے فیصلے دوسرے ادارے کریں گے جو ان کے لئے قابل قبول نہیں ہوں گے!!۔

Back to top button