کیا تحریک لبیک پر پابندی ختم ہو جائے گی یا نہیں؟


تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دینے کے بعد تحریک انصاف حکومت اہنے فیصلے پر کنفیوژن کا شکار نظر آتی ہے اس پر عائد پابندی ختم کرنے کے حوالے سے تحریک انصاف کے اپنے لوگ بھی متضاد دعوے کر رہے ہیں۔ ایک طرف وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ تحریک لبیک پر سے پابندی ہرگز نہیں اٹھائی جائے گی جبکہ دوسری جانب ٹی ایل پی سے نظریاتی قربت رکھنے والے وفاقی وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کہتے ہیں کہ بہت جلد لبیک سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔
خیال رہے کہ حال ہی میں حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کی سمری کابینہ میں پیش کی تھی اور وزارت داخلہ نے اس پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا تھا۔ قانون کے مطابق حکومت کو کسی بھی پارٹی پر پابندی کے لیے کابینہ کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا ہوتا ہے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ حکومت کے ایسے ارادے نہیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی لگانے اور اسے ختم کرنے کے حوالے سے تحریک انصاف کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ تحریک لبیک کے معاملے پر حکومت کے اندر دو دھڑے بن چکے ہیں اور اسی طرح سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھی ایک پیج پر نظر نہیں آتی۔ ذرائع کہنا ہے کہ تحریک لبیک معاملے میں فوجی اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ بھی الگ الگ پیج پر نظر آرہی ہے۔ آئی ایس پی آر چونکہ آرمی چیف کی ترجمانی کرتی ہے اس لئے ان کی جانب سے میڈیا کو یہی بتایا گیا کہ تحریک لبیک پابندی برقرار رہے گی جبکہ دوسری جانب ملکی انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ جماعت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی کمیٹی نے یہ واضح کردیا تھا کہ اس پر لگی پابندی ختم نہیں کی جائے گی تاہم قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے کے حوالے سے بحث کے لیے قرارداد پیش کر دی جائے گی لیکن سفیر کی بیدخلی کی تحریک لبیک کو کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی تھی۔ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو یہ بھی واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ ان کی رہائی کے لئے بھی حکومت کچھ نہیں کرے گی، اور ریلیف لینے کے لیے انکو عدالتوں سے رجوع کرنا ہو گا۔
تحریک لبیک اور حکومت میں مذاکرات کے بعد جب 20 اپریل کی شام قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو بے دخل کرنے کے حوالے سے قرارداد پیش کر دی گئی تو لبّیک نے باقی مطالبات سے پیچھے ہٹتے ہوئے محض قرار داد پیش کیے جانے کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے چوک یتیم خانہ لاہور سے دھرنا ختم کردیا۔ یوں وقتی طور پر یہ ایشو کسی حد تک دب گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعد حسین رضوی نے حکومت سے چار مطالبے کئے تھے جن میں سر فہرست فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنا، جماعت کے تمام رہنماوں اور کارکنان کو رہا کرنا، تحریک لبیک پر پابندی واپس لینا اور وزیر داخلہ شیخ رشید کو برطرف کرنا شامل تھے۔ حکومت نے فرانسیسی سفیر والی قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا بنیادی مطالبہ تو پورا کر دیا لیکن قتل کے مقدمات میں نامزد لبیک کے امیر اور کارکنان کی رہائی، شیخ رشید کی برطرفی اور تحریک لبیک کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے مطالبات پر فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ تحریک لبیک والوں کا خیال تھا کہ 19 اپریل کو لاہور مییں ہونے والے مذاکرات میں معاملات طے پائے جانے کے بعد کالعدم تحریک لبیک پر عائد کردہ پابندی بھی ہٹا دی جائے گی۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے۔ دوسری جانب ایک اور وفاقی وزیر علی محمد خان نے لبیک والوں کو پابندی ختم ہونے کی امید دلا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس معاملے میں حکمراں جماعت ایک پیج پر نہیں ہے۔ خیال رہے کہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی روشنی میں پارٹی پر پابندی عائد نہیں ہوگی۔ انکا کہنا یے کہ ضروری معاملات کی انجام دہی کے بعد اس میں کچھ وقت لگے گا لیکن بالآخر پابندی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ حکومت نے صورت حال پر قابو پایا، اگر تنازع کو پرامن انداز میں حل نہیں کیا جاتا تو حالات مزید خراب ہوسکتے تھے۔
تحریک لبیک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے لئے اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں برقرار رکھنا تکنیکی اعتبار سے ممکن نہ ہو گا کیونکہ ٹی ایل پی دہشت گرد جماعت کی تعریف پر پورا نہیں اترتی۔ انکا کہنا تھا کہ کہ تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا جواز اس لیے نہیں کہ یہ مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعت بھی ہے جس کے سندھ اسمبلی میں تین ارکان موجود ہیں۔ کئی قانونی اور آئینی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا کیوں کہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ایک سیاسی جماعت پر اس طرح پابندی عائد نہیں کی جا سکتی جیسے حکومت نے عائد کی۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک پر پابندی انسداد دہشتگردی کے قانون 1997 کے قواعد 11 بی کے تحت لگائی ہے جس کے لیے صرف کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ تاہم اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد شیخ رشید نے یہ اعلان کیا کہ حکومت تحریک لبیک کے مکمل خاتمے کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے جا رہی ہے۔ یعنی حکومت کو خود بھی یقین نہیں تھا کہ اس کی جانب سے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ قانونی طور پر فول پروف ہے بھی یا نہیں۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قوانین کے مطابق کسی سیاسی جماعت پر پابندی کے لیے ضروری ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت اس کو تحلیل کیا جائے کیونکہ اسی صورت میں اس سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمان کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جا سکتا ہے، ورنہ سیاسی جماعت کا وجود برقرار رہتا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں طریقہ کار الیکشن ایکٹ 2017 میں واضح طور پر لکھا گیا ہے اور آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے تحت ہی کسی سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ فارن فنڈنگ کے ناقابل تردید شواہد موجود ہوں تو پھر الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 212 کے تحت یہ معاملہ پہلے وفاقی حکومت اور پھر سپریم کورٹ میں جاتا ہے۔ سپریم کورٹ فریقین کو نوٹس جاری کرنے اور ان کا موقف سننے کے بعد ہی کی جماعت پر پابندی عائد کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک صرف ایک سیاسی جماعت پر پابندی عائد کی گئی ہے اور وہ سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی تھی۔سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں گیا تھا اور اس وقت کے چیف جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں قائم ایک بینچ نے دو سال تک اس معاملے کی سماعت کرنے کے بعد اس جماعت کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button