وزیراعظم نے بالی ووڈ فلم کا کلپ شیئر کرکے ڈیلیٹ کردیا

وزیراعظم عمران خان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کافی فعال رہتے ہیں اور اسی طرح وہ فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے آفیشل اکاؤنٹس پر مختلف پوسٹس شیئر کرتے رہتے ہیں۔
یوں تو عمران خان انسٹاگرام پر اپنی روزمرہ سرگرمیوں پر مشتمل تصاویر و ویڈیوز، نوجوانوں کےلیے خصوصی پوسٹس شیئر کرتے ہیں یا کرکٹ کے دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ ہفتے سے ملک کشیدہ صورت حال کا شکار رہا، کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج و مظاہروں، مذہبی جماعتوں کی پہیہ جام ہڑتال کے اعلان اور اپوزیشن کی جانب سے صورت حال کی ناکامی کا ملبہ حکومت پر ڈالنے کے بعد کل قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد جاکر صورت حال تھوڑی بہتر نظر آئی اور اس کے اثرات وزیراعظم کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز پر بھی نظر آئے۔ بظاہر انہی حالات کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے اپنے آفیشل انسٹاگرام پر ایک بالی ووڈ فلم کا ویڈیو کلپ شیئر کیا۔ وزیراعظم نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ ‘شروع دن سے کرپٹ مافیاز حکومت کے خلاف ایسی منصوبہ بندی کررہی ہیں’۔ عمران خان نے اپنی پوسٹ میں جو ویڈیو کلپ شیئر کیا تھا وہ بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن کی فلم ‘انقلاب’ کا تھا جو 1984 میں ریلیز ہوئی تھی۔ شیئر کیے گئے ویڈیو کلپ میں سیاسی جماعت کی جانب سے حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرکے ان کا تختہ الٹنے اور خود اقتدار میں آنے کی منصوبہ بندی ہوتی دکھائی گئی ہے۔ ویڈیو میں بالی ووڈ اداکار قادر خان کہتے ہیں ‘ایسا کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ جو سرکار برسوں سے چل رہی ہو اسے ہمیشہ چلنا چاہیے، ہمیں بھی اس ملک میں سرکار بنانے کا پورا حق ہے جو ہم حاصل کرکے رہیں گے’۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کےلیے الیکشن جیتنا ہوگا اور جیتنے کےلیے ووٹ حاصل کرنے ہوں گے اور ووٹ کےلیے عوام کا بھروسہ جیتنا ہوگا جس کےلیے ہمیں عوام کا بھروسہ سرکار پر سے ہٹانا ہوگا۔ فلم کے ویڈیو کلپ میں قادر خان کہتے ہیں کہ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا کہ لوگ اس سرکار کو نکمی، ناکارہ اور بیکار سمجھ کر کسی اور جماعت کو کرسی پر بٹھانے پر مجبور ہوجائے۔ ویڈیو میں قادر خان کو کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ ‘اس لیے ہمیں چاروں طرف بے چینی اور خوف کا ماحول پیدا کرنا ہوگا، ہر صوبے، شہر اور گاؤں میں ڈکیتی اور فساد کروانے ہوں گے، جیسا کہ مذہبی اور فرقہ وارانہ فسادات کہ لوگ گھبرا جائیں، سرکار کو کچھ سمجھ نہ آئے اور پولیس کچھ نہ کر پائے’۔ ویڈیو کلپ میں مزید کہا گیا کہ ‘اور جب ملک دہشت اور ظلم کی آگ میں جل رہا ہوگا تو ہم اپنے گھروں سے نکل کر اسٹیج پر کھڑے ہوکر سرکار کی برائیاں شروع کردیں گے اور ساتھ میں عوام کو احساس دلائیں گے کہ اگر انہیں کوئی اس سب سے بچاسکتا ہے تو وہ ہم ہیں اور ہماری جماعت اور اس کی بنائی ہوئی سرکار ہے’۔ وزیراعظم کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ ویڈیو کلپ ایک منٹ 58 سیکنڈ پر مشتمل تھا اور انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں بھی نئی پوسٹ کا لنک شیئر کیا تھا۔ تاہم 5 گھنٹے بعد وزیراعطم عمران خان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کردیا گیا جب کہ اس وقت تک اس پوسٹ کو 2 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا تھا۔ وزیراعظم کے اکاؤنٹ سے تو یہ ویڈیو ڈیلیٹ کردی گئی لیکن کچھ صارفین نے ڈیلیٹ کیے جانے سے قبل ہی موبائل فونز میں موجود اسکرین ریکارڈ کا فیچر استعمال میں لاکر ان کی اس پوسٹ کو ریکارڈ کرلیا تھا اور بعدازاں سوشل میڈیا پر شیئر بھی کیا۔ صحافی نائلہ عنایت نے وزیراعظم کی پوسٹ ٹوئٹر پر شیئر کی اور لکھا کہ ‘وزیراعظم عمران خان کو بچانے کےلیے بالی ووڈ کا سہارا لینے کا طریقہ اچھا ہے’۔
ستیم گپتا نے ویڈیو ڈھونڈی مگر انہیں نہ ملی کیوں کہ وہ ڈیلیٹ ہوچکی تھی۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ ‘اور پھر یہ کہتے ہیں کہ بالی ووڈ ہمارا کلچر تباہ کررہا ہے’۔
جنید نامی صارف نے پوچھا کہ ‘اس ویڈیو سے اپنی عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟’
ایک صارف نے تو یہ تک کہہ دیا ‘2018 کے الیکشن میں ہوبہو یہی کیا گیا جو اس کلپ میں بتایا گیا ہے’۔
https://youtu.be/qMPpQQ8ukkY

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button