کیا ترین کو کپتان حکومت گرانے کا سگنل مل چکا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کا ہم خیال گروپ احتساب کے ردعمل میں نہیں بنا بلکہ اسکے سیاسی مقاصد ہیں اور ترین سمیت اپوزیشن کے اہم رہنما کسی ایسے سگنل کے انتظار میں ہیں جس سے کنفرم ہو کہ اب حکومت اور مقتدرہ ایک صفحے پر نہیں رہے۔ جیسے ہی ایسا سگنل ملے گا، نئی سیاسی صف بندی شروع ہو جائے گی اور ایک آخری جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ویسے تو الیکشن 2023 میں ہونا طے ہیں لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے مستقبل کی تاش لگنی شروع ہو جائے گی جس کے اب واضح اشارے ملنا شروع ہو گے ہیں۔ انکے مطابق اسوقت عمران خان کے لیے سب سے سنجیدہ مسئلہ جہانگیر ترین کا ہے۔ ترین کو جاننے والے کہتے ہیں کہ وہ کچی زمین پر پاؤں نہیں رکھتے یعنی اپنے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کے کرتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ترین گروپ کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلی میں فارورڈ بلاک کا قیام ایک اہم اور معنی خیز سیاسی پیش رفت ہے۔ گو عمران خان نے ترین کے احتساب کیسوں کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے وزیر قانون بیرسٹر علی ظفر کی ذمہ داری لگا دی تھی اور ایسا ظاہر ہو رہا تھا کہ اب مزید انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہو پایا اور اب جہانگیر ترین نے یہ الزام لگایا ہے کہ پنجاب حکومت ان کے ساتھیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے۔
ترین گروپ کے ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی اب کھل کر عمران خان پر تنقید کر رہے ہیں جس سے یوں لگتا ہے کہ پاکستانی سیاست کے بڑوں میں کوئی انڈر سٹینڈنگ ہو چکی ہے۔ ترین کی طرف سے الگ پارلیمانی گروپ بنانے کا فیصلہ بھی یہی عندیہ دے رہا ہے کہ یہ گروپ صرف ترین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف احتسابی کارروائیوں کے ردعمل میں منظر عام پر نہیں آیا بلکہ اسکے مقاصد سیاسی ہیں اور آگے چل کر یہ ایک موثر پریشر گروپ بن سکتا ہے۔ لہذا اس وقت وزیراعظم عمران خان کا سب سے بڑا امتحان اس گروپ کو رام کرنا ہے تا کہ اگلا بجٹ پاس کروایا جا سکے کیونکہ اگر ایسا نہ پایا تو حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
سہیل وڑاچ کہتے ہیں کہ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے رقابت چھپائے نہیں چھپتی۔ وفاقی حکومت میں کام کرنے والے تمام اعلیٰ عہدیداران کو علم ہے کہ خان صاحب کو شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ کابینہ کے اکثر اراکین سمجھتے ہیں کہ خان صاحب اپنا اصلی سیاسی حریف نواز شریف کو نہیں شہباز شریف کو گردانتے ہیں۔ ان کے خیال میں شہباز ہی اپوزیشن کا وہ رہنما ہے جو کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ ترین ہے اور کسی بدلتی صورتحال میں وہ خان کا متبادل بھی ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے خان صاحب شہباز شریف پر خصوصی توجہ رکھتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے خلاف مقدمات ہوں، ا ن کی بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی ہو یا ان کے بیانات ہوں، ہر ایک پر پی ٹی آئی کے ترجمانوں کا زور دار ردعمل آتا ہے۔
شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی ہو یا پھر ان کی بیرون ملک جانے کی بات ہو، تحریک انصاف کسی معاملے پر انھیں آزاد نہیں چھوڑنا چاہتی۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت اس دن ملی جس روز وزیر اعظم خود سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جانے والے تھے۔ اتفاق یہ ہوا کہ دورے میں دو گھنٹے کی اسلیے تاخیر ہو گئی کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیغام بھیجا کہ وہ وزیر اعظم کا خود ایئرپورٹ پر استقبال کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے عمران خان دو گھنٹے تاخیر سے سعودی عرب روانہ ہوئے مگر یہی تاخیر شہباز شریف کے حوالے سے بڑا مسئلہ بن گئی۔ اگر تو شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ خان صاحب کے سعودی عرب جانے کے بعد ہوتا تو اس بات کا امکان تھا کہ تحریک انصاف رد عمل دینے میں تاخیر کر دیتی اور اس وقت سے فائدہ اٹھا کر شہباز شریف بیرون ملک روانہ ہو جاتے مگر عمران خان کے دورہ میں دو گھنٹے کی غیر متوقع تاخیر سے سارا کھیل خراب ہو گیا۔
سہیپ وڑائچ کے مطابق خان صاحب نے فوراً ہنگامی اجلاس بلایا اور اپنے وزیروں اور ترجمانوں کو ہدایت کی کہ شہباز شریف کے باہر جانے کی ڈٹ کر مخالفت کرنا ہے۔ اسی دو گھنٹے میں حکومت نے پالیسی بنا کر اگلے دن صبح شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک دیا۔
سوال یہ ہے کہ خان اور ان کی جماعت شہباز شریف کو روک کر کیا تاثر دینا چاہتی ہے؟ سہیل۔وڑائچ۔کے مطابق پہلی ظاہری بات تو یہی ہے کہ شہباز کے باہر جانے سے ان کے احتسابی ایجنڈے کو نقصان پہنچتا ہے۔ مگر اصلی اور اندرونی بات یہ ہے کہ کپتان کی حکومت شہباز کو روک کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ کسی ڈیل یا رعایت کے لیے تیار نہیں ہے۔ تیسری بات یہ بھی ہے کہ حکومت شہباز اور فوج کے تعلق کو بھی لوگوں کے سامنے ایکسپوز کر کے اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر شہباز شریف بیرون ملک چلے گئے تو یوں لگے گا کہ شہباز اور فوج میں کوئی خفیہ انڈرسٹینڈنگ ہو چکی ہے اور تب ہی تو انھیں یہ رعایت ملی ہے۔ دوسری طرف حکومت چاہتی ہے کہ اول تو وہ اس دورے کو روک کر اس تاثر کو ہی ختم کر دیں کہ کوئی ڈیل چل رہی ہے اور فرض کریں اگر اس کے باوجود شہباز چلے جاتے ہیں تو پھر ایک منفی تاثر ابھارا جائے گا کہ شہباز فوج سے ڈیل کر کے گئے ہیں تاکہ اس کے بعد حکومت فوج اور اپوزیشن دونوں کے خلاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر سکے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں شہباز کی کارکردگی کا جادو ابھی تک قائم ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ دنوں ملتان میں چڑیا اور باز کا مقابلہ کرانے کی کوشش کی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بزدار کی کارکردگی شہباز شریف کی کارکردگی سے کہیں بہتر ہے۔ خان صاحب کے اس فرمان پر صوبائی کابینہ کے کئی سینیئر اراکین بھی ہنستے رہے بلکہ ایک رکن نے تو خان صاحب سے ایک ملاقات میں کہہ دیا کہ ’میں بزدار کی کیوں عزت کروں؟ کیا وہ میرٹ میں ہم سے بہتر ہے؟ ہم سے زیادہ پڑھا لکھا ہے؟ پارٹی میں ہم سے پرانا ہے؟ یا بیرون ملک سے کوئی خاص ڈگری لے کر آیا ہے؟ اس کی عزت کیوں کی جائے جبکہ اسکی کارکرگی بھی نہایت مایوس کن ہے۔ ان حالات میں یہ سوال اٹھایا کیا جا رہا ہے کہ کیا بزدار مخالف اراکین پنجاب اسمبلی ترین گروپ کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت کو گرانے کی واردات ڈال سکتے ہیں؟ عام خیال یہی ہے کہ کپتان کی حکومت بنانے والوں نے جب بھی اسے گرانا ہو گا تو پہلے مرحلے میں پنجاب میں تبدیلی لائی جائے گی۔ سہیپ وڑائچ کے مطابق ترین گروپ ہو یا اپوزیشن رہنما، سب لوگ کسی ایسے سگنل کے انتظار میں ہیں جس سے کنفرم ہو جائے کہ حکومت اور فوج اب ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ جوں ہی یہ سگنل ملے گا نئی سیاسی صف بندی ہو گی اور نئے سیاسی کھیل کا آغاز ہو جائے گا۔

Back to top button