کیا ترین گروپ کے لغاری پر حکومت نے انتقاماً کیس ڈالا ہے؟

لاہور کے تھانہ ڈیفنس اے میں ایک خاتون آمنہ یعقوب نے جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے باغی رکن پنجاب اسمبلی خرم لغاری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم لغاری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں جہانگیر ترین گروپ کا ساتھ دینے کی پاداش میں حکومتی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خرم لغاری پر خاتون کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کا الزام ہے، اور مقدمہ گھر میں گھسنے، ہوائی فائرنگ اور قتل کی دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ خرم سہیل خان لغاری بلیک میل کرکے خاتون سے زبردستی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایف آئی آر کے مطابق خاتون کا الزام ہے کہ ملزم نے تقریباً ایک سال تک سائلہ کو بلیک میل اور ہراساں کیا اور زبردستی جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر تعلقات قائم کیے لیکن سائلہ نے ڈر کی وجہ سے والدین کو یہ بات نہ بتائی۔ تحریک انصاف کے ایم پی اے پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ سائلہ کو زبردستی ملتے رہے اور خود کو کنوارہ ظاہر کیا۔ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ خرم لغاری نے ان سے زبردستی نکاح نامے پر دستخط کروا رکھے ہیں، اور جب خرم کے والد سے ان کی شکایت کی گئی تو خرم نے ڈرانے کے لئے ان کےگھر پر فائرنگ کردی۔
خیال رہے کہ ایم پی اے خرم سہیل لغاری کا تعلق ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی سے ہے۔ ان کے والد اللہ وسایا المعروف سردار چنوں لغاری علاقے کے بڑے جاگیردار اور سیاسی اثر ورسوخ کے حامل ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں حلقہ پی پی 275 میں بطور آزاد امیدوار پنجاب اسمبلی کی نشست پر ن لیگی امیدوار کو 47 ہزار ووٹوں سے ہرانے والے جواں سال خرم لغاری نے بھی جہانگیر ترین کے کہنے پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔واضح رہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی لیکن حکومت بنانے کے لئے سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی ۔ جنوبی پنجاب سے کامیاب ہونے والے آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت سے ہی حکومت سازی ہوسکی تھی۔ پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے بعد انہیں وزیراعلی عثمان بزدار کا سپیشل اسسٹنٹ برائے خوراک مقرر کیا گیا تاہم اکتوبر 2020 میں آٹا اسکینڈل میں نام آنے کے بعد خرم خان لغاری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جس کے بعد انہوں نے عثمان بزدار کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ کوششوں کے باوجود خرم لغاری دوبارہ کابینہ کا حصہ نہ بن سکے تو آٹا چینی سکینڈل میں پھنسے جہانگیر خان ترین کے ساتھ کھل کر کھڑے ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آردرج ہونے کے پیچھے بھی حکومت کا ہاتھ قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس فروری میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ ظفر گڑھ سے آزاد حیثیت سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوکر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے خرم لغاری نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس حوالے سے خرم لغاری نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے متعدد مرتبہ اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کو درپیش مسائل کے لیے آواز اٹھائی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ جب عوام کے ہی مسائل حل نہیں ہونے تو پھر تحریک انصاف میں رہنے کا فائدہ بھی نہیں۔ خرم لغاری نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تحریک انصاف چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کریں گے اور ان کے ساتھ دیگر 5 ارکان اسمبلی بھی پارٹی چھوڑیں گے تاہم بعد ازاں وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقات میں گلے شکوے دور ہوئے تو خرم لغاری نے پارٹی چھوڑنے کا فیصہ واپس لے لیا تھا۔ رواں برس مئی میں خرم لغاری اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیل جتوئی ارشد ورک کے مابین تلخ کلامی ہو ئی تھی۔ اُن دنوں لیک ہونے والی ایک آڈیو کال میں ایم پی اے خرم لغاری اسسٹنٹ کمشنر سے گلہ کرتے سنائے دیتے ہیں کہ انہوں نے رمضان بازار کا دورہ کرنا چاہا تو اے سی نے ان کا فون ہی کاٹ دیا۔خرم لغاری اس مبینہ لیکڈ آڈیو کال میں اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے اختیارات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا جب بھی دل چاہے گا وہ رمضان بازار کا وزٹ کریں گے اور اتنی ہی بار اے سی جتوئی انہیں دورہ کرانے کے پابند ہیں۔جواباً اسسٹنٹ کمشنر ان سے کہتے ہیں کہ وہ جب چاہیں آ جائیں وہ ان کو دورہ کرائیں گے کیونکہ میری کونسا آپ سے لڑائی ہے یا آپ مجھ سے لڑنے آ رہے ہیں۔ اس پر خرم لغاری رعونت بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ اگر آپ نے لڑنا ہے تو میں تیار ہوں۔ بتائیں کس جگہ آنا ہے کیونکہ میں تو جوان ہوں مگر آپ عمررسیدہ ہیں، اس لیے لوگ کہیں گے بڈھا مار کھا کر آ رہا ہے۔
اگرچہ گذشتہ کچھ عرصے سے خرم لغاری سیاسی طور پر زیادہ متحرک نہیں تاہم لڑکی کو ہراساں کرنے کے کیس میں ان کے خلاف ایف آئی درج ہونے سے لگتا ہے کہ شاید انہیں ترین گروپ میں شامل ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے نذیر چوہان کے خلاف بھی مقدمات درج ہوئے تھے جس کے بعد انہوں نے بغاوت سے توبہ کرکے معافی مانگتے ہوئے واپس عمران خان کا رخ کرلیا تھا۔

Back to top button