کیا جام کمال نے استعفیٰ دینے کا ذہن بنا لیا ہے؟


عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے والے وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے استعفے کی افواہوں میں شدت آگئی ہے لیکن ابھی تک گورنر ہاؤس کے ذرائع اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔ اپنے استعفے کی افواہوں میں شدت آنے کے بعد خود وزیراعلی جام کمال نے بھی اس عمل کی تردید کردی ہے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جام کمال کے بعد پاس استعفی دینے کے علاوہ کوئی دوسری آپشن باقی نہیں بچی ہے اور وہ 25 اکتوبر کو عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے سے پہلے ہی مستعفی ہو جائیں گے۔

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان آخری دم تک اپنے اقتدار کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کی آخری کوششوں میں مصروف رہے ہیں تاہم اب ایسی اطلاعات ہیں کہ باپ پارٹی کے کرتا دھرتا اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی انہیں استعفا دینے کا مشورہ دے دیا ہے۔ خیال رہے کہ بلوچستان میں حکمران اتحاد کے اختلافات کے باعث سیاسی ڈیڈلاک کئی ہفتوں سے چل رہا ہے۔ پہلے اپوزیشن نے جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی جس کے بعد حکومتی اراکین نے بھی عدم اعتماد کی تحریک دائر کردی تھی جس پر ووٹنگ 25 اکتوبر کو ہونا یے۔

یاد رہے کہ جام کمال کی کابینہ چھوڑنے والے وزراء میں وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی، وزیر خوراک عبدالرحمان کھیتران، اور وزیر سماجی بہبود اسد بلوچ شامل تھے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے محنت و افرادی قوت محمد خان لہڑی، مشیر برائے ماہی گیری حاجی اکبر آسکانی، پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بشری رند اور پارلیمانی سیکریٹری معدنیات سکندر عمرانی نے بھی عہدوں سے استعفی دے دیا تھا۔ جام کمال نے صادق سنجرانی اور عمران خان سے ملاقات میں سیاسی مدد مانگی تاہم وہ ان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے۔

جام کمال کے خلاف آخری حملے کے طور پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی جانب سے 33 اراکین نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی جس پر 25 اکتوبر کو رائے شماری طے ہے لیکن عام خیال یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جان کمال اس مرحلے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیں گے۔

Back to top button