کیا جمائمہ اب بھی عمران خان سے محبت کرتی ہیں؟


عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کی اردو زبان میں گفتگو کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وہ دوبارہ سے سوشل میڈیا پر چھا گئی ہیں اور پاکستانی صارفین کی ایک بڑی تعداد ان کی اردو کی تعریفوں کے پل باندھتے نظر آتی ہے۔
اسلام قبول کر کے عمران خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والی کپتان کی پہلی بیوی جمائمہ گولڈ سمتھ کا اب بھی پاکستانیوں سے احساس کا گہرا رشتہ قائم ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے کے اتنے برسوں بعد بھی وہ نہ صرف پاکستان کے حوالے سے اپنے جذبات اور احساسات پر مشتمل ٹویٹس کرتی رہتی ہیں بلکہ گاہے بگاہے پاکستان میں گزارے ہوئے ایام اور ان سے جڑی یادیں بھی شئیر کرتی رہتی ہیں۔ کپتان کے قریبی رفقاء کا تو کہنا ہے کہ جمائمہ خان اب بھی عمران کی محبت کے سحر میں مبتلا ہیں۔
حالیہ دنوں جمائما کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ پاکستان کی قومی زبان اردو سے واقفیت کا اعتراف کرتے ہوئے اردو بول کر دکھا رہی ہیں۔ ان کی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا صارفین خوب سراہتے نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں قیام کے دوران جمائما نے اردو زبان سیکھی تھی اور تاحال وہ اچھی اردو بول لیتی ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جمائما کو کچھ پاکستانی لندن کی سڑک پر گھیر لیتے ہیں۔ پھر ایک پاکستانی جمائما کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ کیا آپ کو پنجابی زبان آتی ہے؟ جس کا جواب جمائما خان اردو میں دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ "نہیں، مجھے پنجابی تو نہیں البتہ اردو بولنا آتی ہے”۔ جمائما کو روانی سے اردو بولتا دیکھ کر سوال کرنے والا بھی حیران رہ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جمائما کی اس ویڈیو پر بے شمار تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ جمائما کے پاکستان میں موجود مداحوں کا کہنا ہے کہ جمائما ہمیشہ ہی پاکستانیوں کے دل جیتنے میں کامیاب رہتی ہیں۔
یاد رہے کہ 1995 میں عمران خان سے شادی کے بندھن میں بندھنے والی جمائما نے عمران خان سے شادی کر کے نہ صرف اپنے پیار کو پا لیا تھا بلکہ دل سے اس رشتے کو قبول بھی کیا تھا جس کو نبھانے کیلئے نہ صرف انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا بلکہ مشرقی لباس بھی زیب تن کیا اور معاشرتی اقدار اور طور طریقے بھی اپنائے۔ جمائما نے شوکت خانم ہسپتال سمیت عمران خان کے شروع کردہ فلاحی کاموں میں ساتھ دینے سمیت ہر وہ کام کیا جس سے وہ شوہر کے ساتھ اپنا رشتہ مزید مضبوط بنا سکیں۔
یاد رہے کہ جمائمہ 1995 میں عمران کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھی تھیں اور 9 برس بعد 2004 میں ان دونوں کی راہیں جدا ہو گئی تھیں۔ تاہم طلاق کے بعد جمائمہ نے اپنے نام کے ساتھ ’’خان‘‘ جوڑے رکھا۔ برطانیہ کے ایک ارب پتی یہودی گھرانے کی اکلوتی بیٹی جمائما کا برطانوی شاہی خاندان سے ذاتی تعلق بھی تھا جس کی وجہ سے انہیں برطانیہ میں شہزادی جیسا پروٹوکول حاصل تھا ۔پھر ایک کرکٹ میچ کے دوران جمائما کو عمران خان پسند آگیا۔ بیٹی کے اصرار پر جمائما کے والد مسٹر گولڈ سمتھ نے انہیں عمران خان سے شادی کی مشروط اجازت دے دی۔ پہلی شرط یہ تھی کہ جمائما اپنا مذہب تبدیل نہیں کریں گی اور دوسری شرط یہ تھی کہ وہ اپنی شہریت تبدیل نہیں کریں گی۔ اپنے والد کو راضی کرنے کے بعد جب جمائما نے عمران کو شادی کی شرائط بتایئں تو انہوں نے گولڈ اسمتھ کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ جمائما نے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں رہنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی۔
بائیس سالہ جمائما نے جب اپنے سے دوگنا عمر کے 43 سالہ عمران خان سے شادی کا ارادہ کیا تو دنیا نے ان کی عمر کے اس واضح فرق پر اعتراض کیا لیکن جمائما نے اس پر کان نہ دھرے اور سولہ مئی 1995 کو دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگۓ ۔ 1996 میں جمائما پاکستان آگئیں اور اردو زبان سیکھنے کے علاوہ پاکستانی اقدار کے عین مطابق شلوار قمیض کا استعمال شروع کر دیا۔ شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے لئے جمع کرنے والے فنڈ کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے نئے لگنے والے پودے کو بھی انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ انتہائی محنت سے سینچا ۔اسی سال جمائما خان نے عمران خان کو دنیا کا سب سے قیمتی تحفہ پہلے بیٹے سلمان کی صورت میں دیا۔ اس کے تین سال بعد دوسرے بیٹے قاسم کو بھی جنم دیا۔
جمائمہ اس دوران انفرادی حیثیت سے بھی پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کے لۓ مختلف فلاحی تنظیموں کا حصہ بن گئيں ۔عمران خان شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر اور تحریک انصاف کی تنظیم سازی میں بہت زیادہ مصروف رہنے لگے ۔دوسری جانب عمران خان کے مخالفین نے جمائما کے یہودی ہونے کا پراپیگنڈا شروع کر دیا جس کے سبب وہ تنہائی اور مایوسی کا شکار ہونے لگیں۔ عمران خان کے سیاسی مخالفین نے نے پہلے تو جمائما کی شہریت پر سوال اٹھایا اور پھر ان پر قیمتی مورتیاں اور دیگر نواردات لندن اسمگل کرنے کے الزامات عائد کرنا شروع کر دئیے۔ بالآخر 2004 میں عمران اور جمائما کے مابین 9 سالہ رفاقت کا رشتہ طلاق پر منتج ہوا۔
عمران خان سے شادی کے بعد مختلف قسم کے الزامات کا سامنا کرنے والی جمائما نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کسی اور ملک کے قومی ہیرو سے شادی کرنے کے بعد کیا کچھ سہنا پڑتا ہے یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ قومی ہیرو سے شادی کرنے والی غیر ملکی خاتون کو میڈیا اس کی قومیت کی وجہ سے ہمیشہ نشانہ بناتا ہے۔ انھیں بھی ماضی میں یہودی قرار دے کر نشانہ بنایا گیا۔ تاہم عمران خان جمائمہ سے طلاق کی بڑی وجہ بھی مسلم لیگ ن کو قرار دیتے ہیں جس کی حکومت نے ان کے خلاف نواردات کی اسمگلنگ کا جھوٹا کیس بنایا اور جمائمہ کو پاکستان سے بددل کیا۔
عمران خان نے جمائما سے طلاق سے متعلق اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اُن کی جمائمہ خان سے علیحدگی میں بھی مسلم لیگ ن کا ہاتھ ہے، مسلم لیگ ن نے جمائما خان پر ایک کیس کردیاتھا جس کی وجہ سے وہ 9 مہینے پاکستان سے باہر رہیں جبکہ اُس وقت انکے دوسرے بچے کی پیدائش بھی متوقع تھی، عمران کا کہنا ہے کہ نون لیگ کی حکومت نے ایک طرف تو جمائمہ پر جھوٹا سمگلنگ کیس دائر کر دیا اور دوسری طرف یہودی لابی کا ٹیگ بھی لگادیا تھا۔ عمران نے بتایاکہ جمائمہ خان نے پاکستان سے کچھ انٹیک ٹائلز خریدیں اور انھیں برطانیہ میں اپنے بھائی کو بطور تحفہ بھیجا۔چنانچہ مسلم لیگ ن کے چہیتوں نے جمائمہ پر انٹیک سمگلر کا مقدمہ بنادیا، چونکہ انٹیک سمگلنگ کے الزام میں پکڑے گئے شخص کی ضمانت ہی نہیں ہوتی ، اس لئے جمائمہ 9 مہینے پاکستان سے باہر رہی۔ عمران نے کہا کہ جمائما کو ایک طرف پاکستان میں یہودی لابی اور سمگلنگ جیسے الزامات کا سامنا تھا تو دوسری طرف انگلش میڈیا اسکے مسلمان ہونے پر اسے برا بھلا کہہ رہاتھا، جس کی وجہ سے وہ بالآخر یہ رشتہ ختم کرنے پر مجبور ہو گئں۔
عمران خان کی جمائما سے اب بھی دوستی اور تعلق برقرار ہے۔ بچوں کی وجہ سے دونوں کے مابین اچھے تعلقات ہیں ۔
خیال رہے کہ 2004 میں عمران خان سے طلاق کے بعد جمائما نے شادی نہیں کی اور تاحال عمران خان کی محبت کے سحر میں گرفتار ہیں جبکہ وہ لندن میں عمران خان کے دونوں بیٹوں قاسم اور سلمان کے علاوہ عمران خان کی سیتا وائٹ سے پیدا ہونے والی بیٹی ٹیری کی بھی پرورش کر رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عمران خان جمائما سے علیحدگی کے بعد دو شادیاں کر چکے ہیں عمران نے جمائما سے علیحدگی کے ایک طویل عرصے بعد دوسری شادی 2015 میں ٹی وی میزبان اور صحافی ریحام خان سے کی تھی تاہم یہ شادی صرف نو ماہ تک ہی قائم رہی۔ ریحام سے علیحدگی کے بعد عمران خان نے تیسری شادی بشریٰ مانیکا المعروف پنکی پیرنی سے فروری 2018 میں وزیر اعظم بننے سے چند ماہ قبل کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button