دوسری شادی اجازت نہیں عدل کے ساتھ مشروط ہے

اسلامی نظریاتی کونسل کا دوسری شادی کے معاملے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل آ گیا ہے۔ چئیرمین نظریاتی کونسل قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ دوسری شادی اجازت نہیں عدل کے ساتھ مشروط ہے۔ شریعت میں عدل کی بات کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایک فیصلے میں سپریم کورٹ نے بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو حق مہر فوری ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر کی جانب سے پانچ صفحات پر مشتمل جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر خاوند کےلیے پہلی بیوی کو حق مہر معجل ہو یا حق مہر غیر معجل دونوں صورتوں میں فوری واجب الادا ہوگا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ دوسری شادی کےلیے پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت لازمی ہے۔
خیال رہے کہ دوسری شادی کی اجازت کا معاملہ بارہا اسلامی نظریاتی کونسل میں آیا ہے۔ 2013ء میں دوسری شادی سے متعلق خواتین کی طرف سے سخت ردعمل آیا۔ بعض معاملات قانون کے ذریعے درست نہیں ہو سکتے، ثالثی کی ضرورت ہوتی ہے۔
چئیرمین نظریاتی کونسل قبلہ ایاز کا مزید کہنا ہے کہ حق مہر کی ادائی پر قانون اور شریعت دونوں راستے موجود ہیں۔ دوسری شادی کےلیے قانون نے ثالثی کونسل قائم کیا ہے۔ عائلی نظام میں تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ دوسری شادی کےلیے قانون ثالثی کونسل جا کر اہلیہ سے اجازت لینے کا مجاز ہو گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے حق مہر کی فوری ادائی سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزار محمد جمیل کی اپیل خارج کر دی، سپریم کورٹ نے درخواست گزار محمد جمیل کو پہلی بیوی کو حق مہر فوری ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ پشاور کے رہائشی محمد جمیل نے اپنی پہلی اہلیہ سے اجازت لئے بغیر دوسری شادی کی تھی۔ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں محمد جمیل کو اپنی پہلی بیوی کو فوری حق مہر ادا کرنے کا حکم دیا تھا، محمد جمیل نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button