کیا حکومت اور اپوزیشن ڈیڈ لاک فوج کا راستہ ہموار کر سکتا ہے؟

معروف تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف اور شہباز شریف حکومت کے مابین بڑھتا ہوا ڈیڈ لاک صرف اور صرف ’مذاکرات‘ سے ہی ٹوٹ سکتا ہے۔ ماضی میں جب اس طرح کے ڈیڈ لاک ہوئے تو فائدہ تیسرے فریق نے اٹھایا اور نتیجہ ضیاء الحق اور مشرف کے مارشلاؤں کی صورت میں نکلا۔ لہذا خیال رہے کہ تاریخ خود کو دہرانے سے باز نہیں آتی۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ ہمارا ایک بڑا سیاسی المیہ یہ رہا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں کی توپوں کا رخ اپنے ہی قبیلے کی طرف رہتا ہے، کل بھی ایسا ہی تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے،۔ لیکن اسکا سب سے ذیادہ نقصان اس ’جمہور‘ کو پہنچا جس نے سیاستدانوں سے امید لگائی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اس جمہورکے تنخواہ دار طبقہ اور مڈل کلاس پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا ایسا بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ وہ مزاحمت کے بھی قابل نہیں رہا، اسے یا تو ’اجتماعی خودکشی‘ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے یا پھر کرپشن اور کمیشن کی طرف۔ یہی آجکا سیاسی کلچر ہے، آپ کو یقین نہ آئے تو آج کے وزیروں، مشیروں اور سرکاری افسران کی طرف دیکھ لیں۔ اب ان بیچاروں کی ’پنشن‘ کوئی اس ملک کے ’ججوں‘ اور ’جرنیلوں‘کی طرح تو ہوتی نہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائر نہیں ہوتے، سو جتنا وقت ملتا ہے صرف ’اپنا مستقبل‘ سنوارتے ہیں۔ قوم تو وڑ گئی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ آپ اسے ’بغاوت‘ کہیں یا ’غداری‘ مگر لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ ایک طرف وہ اشرافیہ ہے جو اپنی کلاس کو تحفظ دے کر ٹیکسوں کا بوجھ ’عوام‘ یا ’جمہور‘ پر ڈال رہی ہے۔ تصور کریں جس ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول جانے کی عمر میں بھی اسکول نہ جاسکیں وہاں ‘VVIP’ کلچر نافذکیا جا رہا ہے۔ اگر قانون سب کیلئے برابر ہے تو گاڑیوں کی ’نمبر پلیٹ‘ کیوں ’نیلام‘ ہوں ایک ایک کروڑ میں۔ دوسری طرف آپ پر لازم ہے کہ بجلی کا بل دیں چاہے بجلی آئے یا نہ آئے، گیس کا بل دیں چاہے گیس آئے یا نہ آئے، نالوں کا پانی پینے کے پانی میں مکس ہو جاتا ہے، سڑکوں سے پانی جاتا نہیں اور نلکوں میں پانی آتا نہیں۔ اب یہ سب ہماری سرکاری اشرافیہ کو کیا پتا۔ مجھے نہیں پتا ان میں سے کتنے لوگ کب آخری بار ’سودا‘ لینے بازار گئے ، ان بیچاروں کو کیا پتا ’ مہنگائی‘ کیا ہوتی ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ جس ملک کے وزیر خزانہ خود صرف چھ ماہ پہلے اپنی غیر ملکی شہریت چھوڑ کر پاکستان آئے ہوں ان سے کیا شکایت، یہاں تو وزیراعظم بھی ایسے آئے جو وزارت عظمیٰ پر نامزدگی کے وقت تک قومی شناخت نہیں رکھتے تھے۔ یہی وہ عوامل ہیں جنکی وجہ سے ہم نے ’اندھیرا‘ ہی دیکھا ’سویرا‘ نہیں۔ بڑے سیاستدانوں نے بڑی سیاسی غلطیاں کیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ کل جو کچھ پی پی پی پر مارشل لا کی طویل سیاسی رات میں گزراوہی کچھ آج بھی ہو رہا ہے۔ کل مارشل لا لگنے پر مٹھائی تقسیم ہوتی تھی، بھٹو کو پھانسی ہوئی تو دائیں بازو کے اخبار نے فرنٹ پیج پر ’پھانسی کے پھندے‘ کے ساتھ نیچے مٹھائی کی دکان کا اشتہار لگایا۔ کل پی پی مخالف پی پی کی ’ٹوٹ پھوٹ‘ پر خوش تھے، پھر پی پی پی والے مسلم لیگ کی دشمنی میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ جنرل پرویز مشرف کی حمایت کر ڈالی اور اسی قافلے میں نئے ابھرتے لیڈر عمران خان بھی مشرف کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھے، بعد میں سب کو ہی جانا پڑا۔ آج سب عمران مخالف میںپی ٹی آئی کی ’ٹوٹ پھوٹ‘ پر خوش ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ شاید انکے راستے کی بڑی رکاوٹ طویل عرصہ جیل میں رہے ،اندر کی خواہش تو اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے مگر وہ بے خبر ہیں اس گھڑی سے کہ یہ جماعت ختم بھی ہو جائے۔

اس غلط فہمی میں ذوالفقار علی بھٹو بھی مبتلا رہے کہ ایک بظاہر خوشامدی جنرل ضیاء الحق کو سینئرجرنیلوں پر ترجیح دے کر آرمی چیف بنانے سے انکے خلاف سازشیں ختم ہو جائیں گی۔ پھر ایسی ہی غلط فہمی میں بھٹو مخالف پاکستان قومی اتحاد مبتلا رہا کے مارشل لا لگے گا تو وہ شریک اقتدار ہونگے۔ قومی اتحاد والوں نے مٹھائی ’تحریک نظام مصطفیٰ‘ کی کامیابی پر نہیں بلکہ سویلین حکومت کی معزولی اور آمریت نافذ ہونے پر کھائی تھی۔ پھر بھی انکی خواہشات ختم نہ ہوئیں تو بھٹو کے جوڈیشل مرڈر یعنی انکی پھانسی کی حمایت بھی کی گئی۔اسکے بعد 11 سال کی طویل مارشل لائی رات کو ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ نے نہایت بے شرمی کیساتھ مکمل تحفظ دیا۔

مظہر عباس کہتے ہیں یاد رکھیں !جو اقتدار غیر سیاسی قوتوں کی مدد سے حاصل کیا جائے وہ پائیدار نہیں ہو سکتا ہے، نہ ہی اپوزیشن ’مذاکرات‘ صرف ’اسٹیبلشمنٹ‘ سے ہوں گے کی بے تکی رٹ لگا کر اپنے لیے سپیس حاصل کر سکتی ہے۔ آج جو کچھ تحریک انصاف میں ہو رہا ہے اس کی بنیادی وجہ خود پارٹی میں جمہوریت کا نہ ہونا ہے۔ یہی المیہ ہماری باقی سیاسی جماعتوں کا رہا ہے جس وجہ سے طاقتور حلقے ان کو توڑنے میں کامیاب رہے، مگر کیونکہ ’مقبولیت ‘ لیڈر کی اپنی جگہ قائم رہی تو بھٹو کا سحر موجود رہا لیکن بے نظیر کی شہادت کے بعدپارٹی کسی اور ہی ڈگر پر چل پڑی ہے۔ رہ گئی بات مسلم لیگ (ن) کی تو اس وقت تو شہباز کی حکومت ہے ’مائنس نواز‘ اب آپ یہ بات مانیں یا نا مانیں عملاً تو ایسا ہی ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں آگے بڑھنے کا راستہ ایک ہی ہے۔ کوشش کریں کہ سیاسی جماعتیں صرف ’انتخابی جماعتیں‘ نہ بن کر رہ جائیں۔ ہم نے 5 جولائی 1977 کے ضیائی مارشل لا سے سبق سیکھا ہوتا تو 12 اکتوبر 1999 کو مشرف کا مارشل۔لا لگتا۔ آج بھی مسئلے کا حل صرف اور صرف ’مذاکرات‘ سے ہی نکل سکتا ہے ورنہ تاریخ خود کو دہرانے سے باز نہیں آتی۔

Back to top button