کیا حکومت اورTLPمعاہدے کی کوئی قانونی حیثیت ہے؟

کالعدم قرار دیے جانے کے بعد تحریک لبیک کے ساتھ کیے گے حکومتی معاہدے کی قانونی حیثیت پر قانونی ماہرین کی آر منقسم نظر آتی ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور معاہدہ غیر قانونی نہیں اور نہ ہی حکومت نے کوئی ایسا کام کیا ہے جو آج سے پہلے کہیں نہ ہوا ہو۔ دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ معاہدے ہمیشہ برابر کے فریقین کے درمیان ہوتے ہیں اور کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے حکومتی مذاکرات اور اس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
حکومت اور تحریک لبیک کے مابین 19 اپریل 2021 کے معاہدے کے حوالے سے قانونی اور سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک ایسی تنظیم جس کو حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، اس کے ساتھ مذاکرات اور پھر معاہدہ کیے جانے کی آخر قانونی حیثیت کیا ہے اور اس تنظیم کو قانونی اعتبار سے کون سے حقوق حاصل ہیں؟ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کو دہشت گردی کے الزامات پر کالعدم قرار دینے کے چار روز بعد ہی نہ صرف ھکومت سطح پر اس کے ساتھ مذاکرات کیے گے بلکہ ان کے نتیجے میں ایک معاہدہ بھی طے پایا جس کے تحت فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا معاملہ پارلیمان میں زیر بحث لانے کے لیے قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی۔ بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپنے سابقہ موقف پر یو ٹرن لیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ آرڈیننس برائے امنِ عامہ کی شق 16 کے تحت تحریک لبیک کے گرفتار شدہ 650 سے زیادہ افراد کو رہا بھی کیا جا چکا ہے۔تاہم وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کے خلاف دفعہ 302 اور انسداد دہشتگری کے قانون کے تحت درج کیسز قانونی عمل سے گزریں گے۔
لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں قانون کی پروفیسر مروہ خان کے مطابق حکومت اور تحریک لبیک کے معاہدے کی جو شرائط سامنے آئیں ہیں ان میں سے کوئی بھی بظاہر پاکستانی قانون کے خلاف نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کا حق حکومت اور ہر رکن قومی اسمبلی کو حاصل ہے اور قرارداد کے متن پر بھی بحث پارلیمان میں ہو سکتی ہے کیونکہ پارلیمانی نظام میں ایوان کا فیصلہ ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اُن کے مطابق اس معاہدے کی دوسری شرط جو تحریک لبیک کے گرفتار کارکنان کی رہائی سے متعلق ہے وہ بھی غیر قانونی نہیں کیونکہ حکومت ماضی میں بھی ایم پی او کے تحت گرفتار افراد کو رہا کر چکی ہے۔ یہ شق اس صورت غیر قانونی ہوتی اگر حکومت اس معاہدے کے تحت قتل اور دہشتگردی کے مقدمات بھی ختم کر دیتی کیونکہ قتل کے مقدمات میں معافی کا حق ریاست کے پاس نہیں ہوتا بلکہ صرف مقتول کے ورثا ہی مقدمہ واپس یا اس کے بدلے دیت لے سکتے ہیں۔ مروہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی تیسری شق جو مظاہرین سے متعلق ہے، اس پر سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کا فیض آباد دھرنے سے متعلق تفصیلی فیصلہ موجود ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے احتجاج کرنے سے متعلق حقوق اور فرائض واضح کیے گئے ہیں جبکہ حکومت کے لیے بھی مظاہرین سے نمٹنے سے متعلق ہدایات موجود ہیں۔مروہ خان کے مطابق ویسے بھی تحریک لبیک پر مکمل طور پر پابندی کا قانونی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ انسداد دہشتگری کے قانون 1997 کے مطابق ابھی تنظیم کے پاس نہ صرف وزارت داخلہ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہے بلکہ اس کے بعد یہ تنظیم عدالت سے بھی رجوع کر سکتی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ ابھی تحریک لبیک کو بطور سیاسی جماعت بھی تحلیل نہیں کیا گیا اور نہ ہی پاکستان کے قانون میں طے شدہ طریقہ کار کے تحت اس کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تحریک لبیک کی حکومت سے معاہدے کے وقت کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔
تاہم دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اکرم شیخ اس بات سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں معاہدے ہمیشہ برابر کے فریقین کے درمیان ہوتے ہیں جب کہ کالعدم تحریک لبیک کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لہٰذا اس کے ساتھ معاہدے کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ حکومت کی جانب سے کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کیے گئے ہوں۔ اس سے قبل حکومت نے سنہ 2008 میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ متعدد بار مذاکرات کیے۔
معروف ماہرِ قانون بیرسٹر سعد رسول کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ماضی کی حکومتوں سمیت دنیا کے کئی ممالک نے امن قائم کرنے کے لیے نہ صرف کالعدم تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کیے بلکہ معاہدے بھی کیے، اور اس میں سرِفہرست ملک امریکہ ہے جس نے افغان طالبان کے ساتھ نہ صرف تفصیلی مذاکرات کیے بلکہ ایک تاریخی امن معاہدہ بھی کیا اور یہ سب تب ہوا جب افغان طالبان میں شامل بہت سے عناصر بین الاقوامی سطح پر اور امریکہ کے اپنے قانون کے تحت بھی کالعدم قرار دیے جا چکے ہیں۔ سعد رسول کا کہنا ہے کہ کسی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، بلکہ امن و امان کے قیام اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ریاست کسی بھی گروہ سے مذاکرات اور معاہدے کرنے کے لیے خود مختار ہے، بشرطیکہ معاہدے کی شرائط انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں۔ چنانچہ سعد رسول کے مطابق حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات غیر قانونی نہیں اور نہ ہی حکومت نے کوئی ایسا کام کیا ہے جو آج سے پہلے دنیا میں نہ ہوا ہو۔ لیکن ناقدین یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی ہی لگانی تھی تو پھر اس سے مذاکرات اور معاہدے کیوں کیے اور اگر اس کے مطالبات ہی ماننے تھے تو پھر اس پر پابندی کیوں لگائی؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button