کیا حکومت مخالف تحریک سے کپتان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی تحریک کے یکے بعد دیگرے کامیاب جلسوں کے بعد وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی پریشانی اور اضطراب انکی گفتگو اور فیصلوں دونوں سے واضح نطر آنا شروع ہو گیا ہے۔ کبھی وہ مریم نواز اور بلاول بھٹو پر ذاتی حملے کرتے ہیں اور کبھی رینجرز کے ذریعے مریم نواز کو ڈرانے کے لیے انکے شوہر کو دروازہ توڑ کر گرفتار کرواتے ہیں۔ تاہم ان کے ان ہتھکنڈوں سے اپوزیشن کو نقصان کی وجہ سے مزید فائدہ ہو رہا ہے۔
مریم نواز اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں کا موقف ہے کہ کپتان کی پریشانی اور ہیجان ان کی باڈی لینگوئج اور عامیانہ الفاظ کے چنائو سے بخوبی جھلک رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی حالیہ تقریر کے ردعمل میں مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان گھبرا کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں اور بد زبانی پر اترا آئے ہیں۔ اسی لیے ان کے چہرے پر جلن اور پریشانی عیاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم بولتے ہوئے انہیں وزیراعظم کے منصب کا ہی خیال رکھنا چاہیے۔ بھلا کوئی وزیراعظم اس طرح کی گری ہوئی باتیں کرتا ہے جیسی عمران خان کر رہے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سنیئر صحافی حامد میر نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپوزیشن کو انتہائی دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا کہ اب تمہیں ایک بدلا ہوا عمران ملے گا جو نواز شریف کو برطانیہ سے واپس لا کر عام جیل میں ڈالے گا اور آئندہ کسی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں کرے گا۔ بعد ازاں کیپٹن صفدر کی کراچی کے ایک ہوٹل سے رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری شاید اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔ یاد رہے کہ غصے سے بھرے ہوئے وزیراعظم نے اسلام آباد میں ٹائیگر فورس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 16اکتوبر کو گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں نواز شریف کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف نے آرمی چیف پر نہیں بلکہ فوج پر حملہ کیا۔ اُنہوں نے آرمی چیف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے ہر مشکل میں حکومت کا ساتھ دیا۔
عمران خان نے اپنی تقریر میں عدلیہ اور نیب سے شکوہ کیا کہ اپوزیشن کے کئی رہنما گرفتار تو ہیں لیکن اُنہیں سزائیں نہیں ملتیں۔ حامد میر کے بقول عمران خان نے کہا تھا کہ اب میں اپنے ماتحت اداروں کے ذریعے چوروں کو پکڑوں گا۔ اس سے پہلے وہ نیب کا نام لیتے رک گئے۔ ماتحت اداروں سے انکی مراد یقیناً ایف آئی اے اور ایف بی آر کی تھی۔عمران خان نے اپوزیشن کے خلاف اپنی نفرت کے اظہار میں تمام حدیں پار کرتے ہوئے کھلے عام یہ بھی کہ دیا کہ چیف جسٹس اور چیئرمین نیب ہم سے جو چاہیے لے لیں لیکن اپوزیشن قیادت پر کیسز کو جلد ازجلد منطقی انجام تک پہنچائیں۔ اسی تقریر میں وزیراعظم نے آئندہ اپوزیشن کے اسیر رہنمائوں کو پروڈکشن آرڈر نہ دینے کا اعلان بھی کیا حالانکہ یہ اراکین پاریمنٹ کا آئینی حق ہے اور اسے جاری کرنا سپیکر کی صوابدید ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک شروع ہونے کے بعد سے کپتان کی پریشانی اور جھنجلاہٹ میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ 17 اکتوبر کو اپنی تقریر میں وزیراعظم نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نواز شریف کو سبق سکھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ کپتان نے ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف پر بھی ذاتی حملے کئے اور انہیں نانی کہہ کر پکارا۔ ان کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے مریم نے کراچی کے جلسے کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ مجھے اپنے نانی ہونے پر فخر ہے کیونکہ نانی ایک مقدس رشتہ ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر صارفین نے عمران خان کے اس تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا نانی ہونا بری بات ہے یا کسی کی نانی کو بھگا لے جانا برا عمل ہے خصوصا جب آپ کا اس کے ساتھ روحانیت کا رشتہ ہو۔
آپ تقریر میں عمران خان نے بلاول اور مریم کو پہلے بچہ کہا اور پھر بولے کہ یہ دونوں حرام کی کمائی پر پلے ہیں۔ لیگی رہنما خواجہ آصف کو رنگ باز سیالکوٹی قرار دیتے ہوئے انہوں نے یہ انکشاف بھی کردیا کہ 2018 میں الیکشن کی رات وہ جنرل باجوہ کی مدد سے اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب ہوئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیان دے کر عمران خان نے خود ثابت کردیا کہ 2018 کے الیکشن شفاف نہیں تھے اور ان میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی۔ اس سے قبل ایک خطاب میں وزیراعظم نے لیگی رہنما طلال چوہدری پر بھی ذاتی حملے کئے تھے اور ان کے تنظیم سازی کے عمل کی مذمت کی تھی۔ تاہم عمران خان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم عمران خان کو تو تنظیم سازی کے عمل کی مذمت نہیں کرنی چاہیے چونکہ وہ خود یہ عمل ساری زندگی کرتے رہے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے وہ اس عمر میں پاکپتن تک جایا کرتے تھے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں وزیراعظم کی باڈی لینگوئج بتاتی ہے کہ وہ انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اور اسی لیے اپنے اصل کام یعنی عوام کو ریلیف دینے کی بجائے انہوں نے اپوزیشن کو مزید مشق ستم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن دوسری جانب پی ڈی ایم قیادت کے تیور بھی خراب نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر اپوزیشن قیادت کے بھرپور ردعمل سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ اب انہیں مزید دیوار سے لگانا آسان نہ ہوگا۔ ویسے بھی کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اس کے بعد ان کی رہائی کے عمل نے حکومت کو فائدہ پہنچانے کی بجائے نقصان پہنچایا ہے۔
