کیا حکومت نے علامہ خادم رضوی کو ماموں بنا کر جان چھڑوائی؟

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے فرانس کے سفیر کی ممکنہ بے دخلی کے امکان کو رد کیے جانے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان نے تحریک لبیک کے ساتھ ایک بوگس تحریری معاہدہ کر کے مولانا خادم رضوی کو ماموں بنایا تا کہ فیض آباد دھرنا ختم کروایا جا سکے اور مظاہرین سے جان چھڑوائی جا سکے۔
تحریکِ لبیک پاکستان کا دھرنا اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ساتھ ایک سادہ کاغذ پر طے پانے والے معاہدے کے بعد ختم ہو چکا لیکن دھرنا ختم کرتے وقت تحریک لبیک کی قیادت نے جو اعلانات کیے تھے ان کے متعلق دفتر خارجہاب لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے۔ جب دفتر خارجہ کے ترجمان سے فرانس کے سفیر کو پاکستان سے بے دخل کیے جانے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ’تاحال پاکستان نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ جب وقت آئے گا تو میڈیا کو بتادیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اگر کسی جماعت نے کوئی اعلان کیا ہے تو وہ ان کا اپنا عمل ہے، حکومت پاکستان کی طرف سے ابھی تک نہ تو اس معاملے پر کوئی بحث ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ کیا گیا ہے. یاد ریے کہ تحریک لبیک نے اس معاہدے کی سوشل میڈیا پر خوب تشہیر کی تھی جس میں یہ طے پایا تھا کہ حکومت پاکستان اگلے دو سے تین ماہ میں قانون سازی کر کے فرانس کے سفیر کو پاکستان سے بے دخل کر دے گی اور اس کے بعد کوئی اور فرانسیسی سفیر پاکستان نہیں آنے دیا جائے گا۔
تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے اس حکومتی معاہدے کی کا عکس سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس کی اب تک حکومت پاکستان کی جانب سے تردید نہیں کی گئی اور جس میں واضح طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو دو سے تین ماہ میں پاکستان سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ تاہم اب دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت نے تحریک لبیک کے دھرنے سے جان چھڑانے کے لئے مولانا خادم حسین رضوی کو ماموں بنایا اور لولی پاپ دے کر رخصت کر دیا۔ دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا خادم حسین رضوی کو بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ حکومت فرانس کے سفیر کو بیدخل نہیں کر سکتی۔ لیکن چونکہ ان کے ہزاروں کارکنان فیض آباد میں دھرنا دے چکے تھے لہذا ان کو اٹھانے کے لئے فیس سیونگ دینا ضروری تھا۔ اس لیے دھرنا ختم کرنے سے پہلے تحریک لبیک کی قیادت نے سٹیج سے یہ اعلان کیا کہ حکومت پاکستان نے انکے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں لہذا اب سب لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔
خیال رہے کہ حکومت پاکستان اور تحریک لبیک کے مابین طے کیے گئے تحریری معاہدے پر کسی حاضر سروس جنرل کے دستخط تو نہیں تھے مگر وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ اور وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے دستخط ضرور ثبت ہیں۔ اس معاہدے پر دوسری طرف تحریک لیبک کے چند رہنماؤں کے بھی دستخط ہیں۔ اس معاہدے کے چند نکات میں سب سے پہلا فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے نتیجے میں پاکستان میں مقیم فرانسیسی سفیر کو دو سے تین ماہ کے عرصے میں پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی کے ذریعے ملک بدر کرنے کے بارے میں ہے۔
اس معاہدے میں حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ جہاں سرکاری سطح پر فرانس کی اشیا کا بائیکاٹ یقینی بنائے گی وہیں اس معاہدے کی روح سے حکومتِ پاکستان فرانس میں اپنا سفیر تعینات نہیں کرے گی۔حکومت نے مذہبی تنظیم کے اسیر کارکنان پر مقدمات ختم کرتے ہوئے انھیں فوراً رہا کرنے کے احکامات دیتے ہوئے اس معاہدے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اب ان نکات کو دیکھ کر چند سوالات ذہن میں آتے ہیں۔
اب دیگر شرائط کے بارے میں سب سے پہلا تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے ملک کے سفیر کو کن وجوہات پر ملک بدر کیا جاسکتا ہے اور کیا گلی محلے سے شروع ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں خارجہ پالیسی کے خدوخال میں اتنی بڑی تبدیلی رونما کی جا سکتی ہے۔سوال یہ بھی یے کہ کیا چند ہزار افراد ایٹمی صلاحیت والی دنیا کی چھٹی بڑی افواج کی حامل ریاست، اس کے سول اداروں اور حکومت کو دباؤ میں لا کر جو چاہے منوا سکتے ہیں؟ کیا غیر ملکی سفیر کو اس طرح چند ہزار افراد کے مطالبے پر بے دخل کرنا بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہو گی؟ کیا ایسے کاغذی معاہدے کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت بھی ہوتی ہے؟
پاکستان اور فرانس کے تعلقات پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے دو پہلو ہیں۔۔۔ ایک معاشی اور دوسرا سیاسی۔ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے سے قبل حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے چند اہم واقعات کو دیکھنا اور سمجھنا بھی ضروری ہے۔ بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تو کسی سفیر کو نکالنے کا بنیادی حق ملک کی وزارتِ خارجہ پر ہوتا ہے نہ کہ پارلیمان پر۔۔۔ تو یہ کہنا کہ پارلیمان کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا، یہ کہنا بے جا ہوگا۔‘ انھوں نے کہا کہ کسی سفیر کو نکالنا قانون کی خلاف ورزی نہیں مگر ایسے غیر معمولی اقدام دو ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کو نقصان ضرور پہنچا دیتا ہے۔ سفارتی تعلقات پر ویانا کنوینشن کی شِق نمبر نو کے مطابق کوئی بھی ملک کسی بھی وقت اور کسی بھی وجہ سے کسی دوسرے ملک کے سفیر کو نکالنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ اور اس تمام تر عمل میں وزارتِ خارجہ کا کردار سب سے واضح ہوتا ہے کیونکہ اس فیصلے کی منظوری دفترِ خارجہ سے آتی ہے جس پر حکومت عمل کرتے ہوئے سفیر کو جلد از جلد نکلنے کا فرمان جاری کردیتی ہے۔ لیکن یہاں پر غور طلب بات یہ بھی ہے کہ کسی سفیر کو نکالنے کا فیصلہ کم ہی لیا جاتا ہے کیونکہ اپنے ملک کے سفیر کی بے دخلی کو دوسرا ملک اپنی بے عزتی تصور کرتا ہے۔ اس اختیار کا استعمال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو اور حالات کو دیکھتے ہوئے لیا جاتا ہے یا پھر اس صورت میں جب دونوں ملکوں کے درمیان معاملات شدید تنازعات کا شکار ہوں۔
ایک اور صورت وہ ہوتی ہے جس میں کسی سفیر نے کوئی جرم کیا ہو، جس میں دیگر جرائم کے علاوہ قتل، تشدد اور گاڑی کے حادثات شامل ہیں۔
مثال کے طور پر کم و بیش ہی ایسا ہوا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی باہمی صورتحال چپقلش کا شکار نہ رہی ہو۔ اس دوران کئی بار دیکھا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے ملک میں مقیم سفیروں کو بغیر کسی وجہ اور ثبوتوں کے بے دخل کر دیا۔ اس کے علاوہ کسی بھی ملک کے سفیر کو ناپسندیدہ قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی سفیر کے ملک میں رہنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔ اسی لیے زیادہ تر کوشش یہی کی جاتی ہے کہ ایسا فیصلہ کرنے کی نوبت نہ آئے۔ لیکن جب فیصلہ لینے کا وقت آتا ہے تو فوراً اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ لہذا اگر حکومت نے تحریک لبیک والوں کو یہ بتایا ہے کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے بے دخل کرنے کے لیے قانون سازی کرنا پڑے گی تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مولانا خادم رضوی کو ماموں بنایا گیا یے۔
جب پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ’تاحال پاکستان نے کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ جب وقت آئے گا تو میڈیا کو بتادیا جائے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اگر کسی جماعت نے کوئی اعلان کیا ہے تو وہ ان کا فیصلہ ہے حکومت پاکستان کی طرف سے ابھی نہ تو اس معاملے پر کوئی بحث ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ کیا گیا ہے.
وزارت خارجہ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فرانس کے سفیر کو بے دخل کیے جانے کا کوئی امکان اس لیے موجود نہیں کہ فرانس پاکستان کے لیے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کو اتحادیوں کی سخت ضرورت ہے اور تحریک لبیک کے ساتھ کیے گے معاہدے پر عمل کرنے سے فرانس کے ساتھ بنائے گئے سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں فرانس نے چند اہم مواقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، جس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کے مختلف اجلاسوں کا تذکرہ کرنا ضروری ہے جن سے پہلے فرانس نے پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کی تاکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر عمل کرسکے اور ان کو پورا کرسکے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے منسلک تجاویز پر لابی کرنے کی سہولت مہیا کرنے میں بھی فرانس نے خاصی مدد کی اور پاکستان کے بیانیے کے لیے جگہ بنائی۔ اسکے علاوہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق پر ہونے والی رائے شماری کے دوران فرانس نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ جبکہ پاکستان کے لیے سفر سے منسلک ہدایات کو بھی ریڈ زون سے نکال کر اسے کم کر دیا گیا ہے تاکہ پاکستان سے منسلک منفی سوچ میں کمی آسکے۔ لہذا ان حقائق کی روشنی میں پاکستان فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
