کیا حکومت 17 ہزار برطرف ملازمین کو بحال کروا پائے گی؟


وفاقی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے شدید دباؤ کے بعد اپنی مدت ملازمت کے آخری روز جسٹس مشیر عالم کا 17 ہزار سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کرنے کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج تو کر دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوگی یا نہیں؟

برطرف ملازمین کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے شدید احتجاج اور اپوزیشن کے دباؤ کے پیش نظر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے 17 اگست کے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی ہے جس کے نتیجے میں 17 ہزار سرکاری ملازمین بے روزگار ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ جسٹس مشیر عالم نے اپنی نوکری کے آخری روز 17 اگست 2021 کو پیپلز پارٹی دور کے برطرف ملازمین بحالی آرڈیننس ایکٹ 2010 کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا تھا جس کے تحت 90-1989 میں لوگوں کو ملازمت یا ترقی دی گئی تھی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی کے ذریعے سیکرتری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست میں عدالت عظمیٰ سے فیصلہ واپس لینے اور اس دوران اس کی کارروائی معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس ظالمانہ فیصلے نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔ جب صدر ڈاکٹر عارف علوی 13 ستمبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے تب پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہزاروں متائثرہ ملازمین نے احتجاج کیا گیا تھا اور اپنی برطرفی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں 93 افراد کو فریق بنایا گیا ہے جن میں زیادہ تر وہ لوگ شامل تھے جو سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہوئے۔ وفاقی حکومت نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے باوجود بحالی آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

یہ بھی کہا گیا کہ اس ایکٹ سے براہِ راست مستفید ہونے والے ملازمین کی بڑی تعداد کو اب تک کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا جو عدالت میں شنوائی کا موقع ملے بغیر اپنی ملازمت کھو چکے ہیں یا کھو دیں گے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ 2010 میں عدالتی حکم کے باوجود اٹارنی جنرل فار پاکستان کو مطلوبہ لازمی قواعد کے حوالے سے کوئی باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔چنانچہ پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے جانے والے بحالی آرڈیننس کو آئین کی خلاف ورزی قرار دینے سے قبل اس سے پر اٹارنی جنرل کو بھی نہیں سنا گیا جسکے نتیجے میں 17 اگست کا فیصلہ مادی خرابیوں کا شکار ہوا کیونکہ یہ غلام رسول کیس میں سپریم کورٹ کے 2015 کے فیصلے سے کے برخلاف جاری کیا گیا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں ملازمین کی برطرفی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن ملازمین کے درمیان گرما گرم بحث بھی ہوئی اور یہ الزام لگایا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت میں ایک جج نے جاتے جاتے یک لخت 17 ہزار سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا اور حکومت چپ بیٹھی دیکھتی رہی۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے 21 ستمبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس حوالے سے ایک مشترکہ قرار داد پیش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 17 ہزار لوگوں کی بحالی کے لیے اپوزیشن نے حکومتی بنچوں سے مل کر ایک مشترکہ قرارداد تیار کی ہے۔

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ حکومت سمیت تمام اپوزیشن نے اس قرارداد کو سپورٹ کیا ہے لہٰذا ان ملازمین کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ملازمین کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعظم نے اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لی ہے، انہوں نے بتایاکہ وزیر اعظم نے اس معاملے پر ایک کمیٹی بنا دی ہے اور کہا ہے کہ برطرفی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے۔

اب وفاقی حکومت کی جانب سے 28 ستمبر کو دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ حکومت سرکاری ملازمت میں میرٹ، شفافیت اور مناسب طریقہ کار کے اصول کی مکمل حمایت کرتی ہے لیکن بحالی آرڈیننس سے مستفید ہونے والے سابقہ برطرف ملازمین کو مکمل طور پر بےروزگار نہیں کیا جا سکتا، ان کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ درخواست میں تمام فریقین کے حقوق اور مفادات کو زیادہ شفاف اور میرٹ پر مبنی معیار پر متوازن کرنے کے لیے زیادہ منصفانہ انداز اپنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔

درخواست میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے باوجود بحالی آرڈیننس کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ اس آرڈیننس کو 6 دسمبر 2010 کو صدر آصف زرداری نے منظور کیا تھا جس کے بعد پارلیمنٹ نے بھی اسکی منظوری دے دی تھی۔ لہذا اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔

Back to top button