کیا دریائے راوی اپنے اختتامی سفر کی طرف گامزن ہے؟

ماہرین ماحولیات اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ شاید کچھ دہائیوں بعد شہر لاہور کے باسی دریائے راوی کی قربت اور رفاقت سے محروم ہو جائیں۔
انسانوں اور دریاؤں کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ شاید اتنا پرانا جتنا انسان خود ہے۔ انسانی تہذیب کی کہانی دریاؤں کے کناروں سے شروع ہوئی اور ابھی تک بھی اسی ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے۔ البتہ دنیا کے بدلتے جغرافیائیوں نے کئی جگہوں پر دریاؤں اور انسانوں کے اس تہذیبی رشتے کو بھی کاٹ کے رکھ دیا ہے۔ اب دریائے راوی کو ہی لیجیے۔ برصغیر کے قدیم ترین دریاؤں میں سے ہے لیکن 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان میں راوی بہنا بھول گیا ہے اور اب یہ تاریخی دریا کہیں پر تو کھیت کھلیان کا منظر پیش کرتا ہے اور کہیں پر صحرا کا۔
پنجاب کے 5 بڑے دریاؤں میں سے ایک راوی ہے اور شہر لاہور کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے لاہور کے قریب کے حصہ کو لاہور دریا بھی کہتے رہے ہیں۔ یہ دریا دو ملکوں انڈیا اور پاکستان کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس دریا کا تاریخی نام ’’اراوتی‘‘ اور ’’پروشنی‘‘ ہے۔ دس بڑے راجاؤں کی جنگ نے جو اس کے کنارے لڑی گئی نے اسے زمانہ قدیم میں بھی تاریخی مقام دے رکھا تھا۔ اس دریا نے راجاؤں کے علاوہ مغل بادشاہوں کو بھی اتنا متاثر کیا ہے کہ انہوں نے اس کی گزر گاہ کے قریب بے شمار باغ بنوائے۔
محبت کرنے والے مغل بادشاہ اور ان کی ملکہ یعنی جہانگیر اور نور جہاں کو اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے اپنے مقبروں کے لیے اس کے کناروں کو چنا۔
راوی کا ذکر ہندو مت کی ویدوں میں بھی ملتا ہے لیکن اس وقت اس کا نام راوی نہیں تھا بلکہ یہ اراوتی اور پروشنی کے نام سے ریگ ویدا میں جانا جاتا تھا۔ لاہور شہر کی بنیاد بھی اسی راوی کنارے پر پڑی۔ اس دریا نے کیا کیا نہیں دیکھا جین مت، ہندو مت، اسلامی بادشاہتیں اور پھر گورا راج۔ سب سے زیادہ پذیرائی اس دریا کو مغلوں کے دور میں ملی۔ جب راوی لاہور شہر کے شمال میں واقع شاہی قلعے کے عقب میں بہتا تھا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنا قدرے مشکل ہے کہ راوی کنارے بسنے والے انسانوں نے اپنے دریا کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں کیا یا پھر ارتقا اور وقت کے بے رحم تھپیڑوں سے یہی قسمت کشید ہونا تھی۔ وہ راوی جو ہزاروں سال کی تاریخ کا امین ہے یہ محض دریا نہیں تھا، یہ ایک رومانس تھا۔ اس رومانس کو ایک مغل بادشاہ نے شہر کے داخلی پاٹ کے قریب بارہ دری بنا کر اپنے تخیل کو حقیقیت کا روپ عطا کیا۔
راوی کے بارے میں پرانے لاہور اور پنجابیوں کا یہ گمان بھی رہا ہے کہ راوی میں جتنا پانی بھی امڈ آئے راوی لاہور شہر میں داتا علی ہجویری کے مزار کا ہمیشہ ادب کرتا ہے اور اپنے جوش اور لہروں کو کبھی اتنا بے ادب نہیں ہونے دیتا کہ داتا صاحب کے مزار کی سیڑھیوں سے آن ٹکرائے۔ سندھ کے طاس میں مشرقی اور بہتا دریا اب اپنے پیٹ میں کتنا پانی بھرے پھرتا ہے یہ اب سرے سے سوال ہی نہیں رہا۔ کیونکہ اب راوی کشمیر سے نہیں بہتا اب لاہور واسی اپنے تمام گندے نالوں کا خراج راوی کے نام کرتے ہیں۔ اب کامران کی بارہ دری میں کسی رومانوی صبح کو سورج کی وہ کرنیں نہیں پڑتیں جو مست لہروں کی پیشانی چوم کے نظارہ کرنے والوں کو زندہ رہنے کے درس دیتی تھیں اور نہ ہی اب وہاں شام اپنے اداس بھیگے آسمان کو ساتھ لیے اترتی ہے۔
اب تو بارہ دری تک جانے کے لئے گندے بدبو دار جوہڑ سے ہوتے ہوئے ڈیزل انجن سے چلتی فضا کو شور سے آلودہ کرتی کشتی پر سوار ہوں تو یوں آپ بارہ دری پہنچ جاتے ہیں۔ افسانہ تو یہ ہے کہ پیرس، لندن، نیویارک اور لاہور کے پہلو میں بالترتیب سین، ٹیمز، ہیڈسن اور راوی ایک طرح کے دریا بہتے تھے لیکن اب راوی اور لاہور کا ناطہ ٹوٹ چکا ہے۔ جبکہ دنیا کے دوسرے عظیم شہروں کے دریا ابھی بھی اپنے باسیوں کے ساتھ ہزاروں سال کی رفاقت نبھا رہے ہیں۔
راوی دریا اپنی زرخیزی کے لیے ہمیشہ سے مشہور رہا ہے۔ اس کے کنارے باغات، سبزیوں اور پھلوں کی کاشت کے لیے ہمیشہ سے بہترین ثابت ہوئے ہیں لیکن اب ہمارے حکمرانوں اور صنعتکاروں اور وڈیروں کے لالچ، طمع، ناعاقبت اندیشی نے اس دریا کے پانی کو زہر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے کنارے پھل پھول اب بھی اُگتے ہیں لیکن جتنا زہر اس دریا کے پانی میں موجود ہے اس سے پکے ہوئے پھل پھول کھانا موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ اس کے پانی سے سیراب ہونے والی فصلوں کا بھی یہی حال ہے۔ ہم نے نہ صرف یہ کہ اس دریا کو موت کا شکار بنایا ہے بلکہ یہ بھی کہ اس کے پانی کو اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے زہر ناک کر دیا ہے۔ یہ موت صرف اس دریا کی موت نہیں ہے یہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک خطرناک پیغام ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے بقول فیکٹریوں کے بغیر ٹریٹمنٹ کے اس کے اندر گرنے والا پانی اور گھروں کے سیوریج نے اس دریا کے پانی میں خطرناک کیمیائی مادے، میٹل اور کاپر کے ٹاکسک مادے شامل کر دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ فصلوں میں ڈالے جانے والے کیمیائی مادے بھی راوی کے پانی میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ تمام زہر پھر واپس فصلوں میں اور زیر زمین موجود پانی کے اندر شامل ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سے 1500 ٹن کے قریب کوڑا کرکٹ روز راوی کے اندر پھینکا جاتا ہے۔
یعنی دریائے راوی اب ایک گندے نالے میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ رہی سہی کسر حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے راوی دریا کے کنارے شروع کیے جانے والے ایک نئے شہر کے پراجیکٹ سے پوری ہو جائے گی۔
