کیا دہشتگردوں کیخلاف ایک اور فوجی آپریشن ناگزیر ہے؟

30جنوری کو پولیس لائنز پشاور کی مسجد میں دھماکے نے نہتے شہریوں کی موت سے جہاں ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے وہیں اس واقعے نےملک میں دہشت گردی کی نئی لہر کے خدشات کو پھر سے ہوا دے دی ہے، دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان کے بعد حسب سابق حکومت اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے مربوط حکمت عملی اپنانے اور دہشتگردی کا قلعہ قمع کرنے کی نوید سنائی گئی ہے ۔ملک میں تقریباً ہر بڑے واقعے کے بعد حکام صدمے میں آجاتے ہیں اور فوری اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا جاتا ہے، پارلیمنٹ میں قرارداد بھی منظور کی جاتی ہے اور نئے عزم کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کا اعلان بھی ہوتا ہے مگر عملی اقدامات نہ ہونے کی وجہ  سے چند برسوں بعد پھر دہشت گردی کا عفریت قوم پر پھر مسلط ہو جاتا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جہاں طویل مدتی پالیسی ضروری ہے وہیں ملوث گروپوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے مربوط آپریشن بھی ناگزیر ہے، سکیورٹی حکام کو تحریک طالبان سمیت دہشتگردانہ گروپوں کیخلاف مذاکرات ترک کر کے جارحانہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔

پشاور میں ہونے والے دھماکے نے ایک بار پھر ملک کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق اس دھماکے میں اب تک 100 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں اکثریت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ہے۔یہ افسوسناک واقعہ ہلاکتوں کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے چند بڑے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔واقعے کے بعد پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے سکیورٹی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی آپریشن پر نئے جذبے کے ساتھ توجہ مرکوز کریں تاکہ پائیدار امن حاصل کیا جاسکے۔پشاور کا اندوہناک واقعہ پاکستان میں دہشت گردی کا پہلا بڑا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اے پی ایس پشاوراور میریٹ ہوٹل اسلام آباد پر حملے سمیت متعدد خونی واقعات ہو چکے ہیں جس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بڑے اقدامات کے اعلانات ہوئے مگر ابھی تک دہشت گردی پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔

پاکستان میں دہشت گردی کا ایک بڑا واقعہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں ہوا جب دہشت گردوں نے فوجی چھاؤنی میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کر دیا۔پاکستانی طالبان نے اس خونی حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں اساتذہ سمیت ایک 147 طلبہ کی جان چلی گئی تھی۔ واقعہ اتنا خوفناک تھا کہ اس نے پوری پاکستانی قوم کی نفسیات کو متاثر کیا۔آرمی پبلک سکول کے واقعے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عزم کو مضبوط کیا اور اس کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے ایک نیشنل ایکشن پلان تشکیل پایا جس کے بعد قبائلی علاقوں میں بھرپور فوجی آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردی میں کافی حد تک کمی ممکن ہوئی۔اس سے قبل ستمبر 2008 میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع فائیو سٹار میریٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے کو بعض افراد نے ملکی تاریخ کا نائن الیون قرار دیا تھا۔وفاقی دارالحکومت کے وسط میں ہونے والے اس حملے میں غیر ملکیوں سمیت 50 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک شدگان میں تین امریکیوں اور چیک ری پبلک کے سفیر سمیت کئى غیر ملکی بھی شامل تھے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکام دہشتگردی میں لاکھوں پاکستانیوں کی قربانیوں کے باوجوہ اس عفریت کو روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے سربراہ عبداللہ خان نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ ہم دہشت گردی کے واقعات کے بعد زیادہ تر فائر فائٹنگ کرتے ہیں مگر ایک طویل حکمت عملی نہیں اپناتے۔ان کا کہنا تھا کہ 2014 میں اوسطاً ملک میں دہشت گردی کے ماہانہ 150 حملے ہوتے تھے جس کے بعد آپریشن ضرب عضب شروع ہوا اور ان واقعات میں واضح کمی آگئی حتیٰ کہ 2019 تک ماہانہ اوسط حملے 15 تک محدود ہو گئے۔تاہم 2019 کے بعد ہر سال دہشت گردی کے واقعات میں پھر سے اضافہ ہونا شروع ہو گیااور اوسط ماہانہ حملے 30 سے زائد ہو گئے۔

تاہم عبداللہ خان سمجھتے ہیں کہ اے پی ایس حملے کے بعد بہت بہتری بھی آئی۔ نیشنل ایکشن پلان تشکیل پایا اور اس پر کافی حد تک عمل بھی ہوا، مثلاً فاٹا میں اصلاحات ہوئیں اور یہ علاقہ خیبر پختونخوا کی عمل داری میں آگیا۔اسی طرح فوجی عدالتیں بنائی گئیں اور دہشت گردوں کو سزائیں بھی ہوئیں، تاہم قانون کے تحت ایک خاص مدت کے بعد فوجی عدالتیں ختم ہو گئیں۔اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی وزارت داخلہ کے ذریعے رجسٹریشن کو آسان بنایا گیا اور مکینزم بہتر کیا گیا۔ منافرت پر مبنی مذہبی لٹریچر پر پابندی لگائی گئی۔عبداللہ خان کے مطابق جون 2014 میں کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ضرب عضب شروع ہوا جو کہ ٹریننگ پوائنٹ ثابت ہوا اور اب پاکستان میں ایک انچ علاقہ بھی دہشت گردوں کے قبضے میں نہیں رہا۔اس سے قبل باجوڑ، اورکزئی ایجنسی، شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں کئی علاقے ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) یا دوسرے گروپوں کے قبضے میں تھے۔ان کے مطابق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے قائم گروپوں پر کام نہیں ہوتا مگر پچھلے پانچ برسوں کے دوران ان کے خلاف بھی کارروائیاں ہوئیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران ریاست نے کافی کچھ سیکھا ہے مگر مزید سیکھنے کی گنجائش موجود ہے۔

دوسری طرف سکیورٹی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی اعزاز سید سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں عزم کی کمی دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق ہم پالیسیاں بنا بھی لیتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر نیشنل ایکشن پلان پر کچھ حد تک عمل ہوا اور پھر عمل رک گیا جس کی وجہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کا عدم تسلسل بھی ہے۔ان کے مطابق 2013 سے  2018 تک پہلے مسلم لیگ ن نے انتہا پسندوں سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہوا اور مذاکرات نہ کرنے کا عزم ہوا مگر جب مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی تو پی ٹی آئی نے پھر مذاکرات کی پالیسی اپنا لی۔اعزاز سید کے مطابق یہاں ہر سیاسی جماعت نیا تجربہ کرتی ہے جس کی وجہ سے پالیسیوں کا تسلسل نہیں رہتا۔

Back to top button